Nature is a fact, not an explanation.
Al-Risala, November 2015, pp. 38–39
By Maulana Wahiduddin Khan
یعنی فطرت کا قانون کائنات کا ایک واقعہ ہے، وہ کائنات کی توجیہہہ نہیں ہے۔ تمھارا یہ کہنا صحیح ہے کہ ہم نے فطرت کے قوانین معلوم کر لیے ہیں مگر تم نے جو چیز معلوم کی ہے وہ اس مسئلے کا جواب نہیں ہے جس کے جواب کے طور پر مذہب وجود میں آیا ہے۔ مذہب یہ بتاتا ہے کہ وہ اصل اسباب ومحرکات کیا ہیں جو کائنات کے پیچھے کام کر رہے ہیں۔ جب کہ تمھاری دریافت صرف اس مسئلہ سے متعلق ہے کہ کائنات جو ہمارے سامنے کھڑی نظر آتی ہے اس کا ظاہری ڈھانچہ کیا ہے۔ جدید علم جو کچھ ہمیں بتاتا ہے وہ صرف واقعات کی مزید تفصیل ہے نہ کہ اصل واقعہ کی توجیہہ۔ سائنس کا سارا علم اس سے متعلق ہے کہ ”جو کچھ ہے وہ کیا ہے۔ “ یہ بات اس کی دسترس سے باہر ہے کہ ”جو کچھ ہے وہ کیوں ہے“ جب کہ توجیہ کا تعلق اسی دوسرے پہلو سے ہے۔
اس کو ایک مثال سے سمجھیے۔ مرغی کا بچہ انڈے کے مضبوط خول کے اندر پرورش پاتا ہے۔ اس کے ٹوٹنے سے باہر آتا ہے۔ یہ واقعہ کیوں کر ہوتا ہے کہ خول ٹوٹے اور بچہ جو گوشت کے لوتھڑے سے زیادہ نہیں ہوتا، وہ باہر نکل آئے۔ پہلے کا انسان اس کا جواب یہ دیتا تھا کہ ”خدا ایسا کرتا ہے‘۔ اب خردبینی مشاہدہ کے بعد معلوم ہوا کہ جب 21 روز کی مدت پوری ہونے والی ہوتی ہے، اس وقت ننھے بچے کی چونچ پر ایک نہایت چھوٹی سی سخت سنگ ظاہر ہوتی ہے۔ اس کی مدد سے وہ اپنے خول کو توڑ کر باہر آجاتا ہے۔ سینگ اپنا کام پورا کر کے بچہ کی پیدائش کے چند دن بعد خود بخود جھڑ جاتی ہے۔ مخالفین مذہب کے نظریے کے مطابق یہ مشاہدہ اس پرانے خیال کو غلط ثابت کر دیتا ہے کہ بچہ کو باہر نکالنے والا خدا ہے۔ کیونکہ خوردبین کی آنکھ ہم کو صاف طور پر دکھارہی ہے کہ ایک 21 روزہ قانون ہے جس کے تحت وہ صورتیں پیدا ہوتی ہیں جو بچہ کو خول کے باہر لاتی ہیں۔ مگر یہ مغالطہ کے سوا اور کچھ نہیں۔ جدید مشاہدہ نے جو کچھ ہمیں بتایا ہے وہ صرف واقعہ کی چند مزید کڑیاں ہیں، اس نے واقعہ کا اصل سبب اس مشاہدہ کے بعد صورت حال میں جو فرق ہوا ہے وہ اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے کہ پہلے جو سوال خول کے ٹوٹنے کے بارے میں تھا، وہ ”سینگ“ کے اوپر جا کر ٹھہر گیا۔ بچہ کا اپنی سینگ سے خول کو توڑنا، واقعہ کی صرف ایک درمیانی کڑی ہے، وہ واقعہ کا سبب نہیں ہے۔ واقعہ کا سبب تو اس وقت معلوم ہوگا
جب ہم جان لیں کہ بچہ کی چونچ پر سینگ کیسے ظاہر ہوئی۔ دوسرے لفظوں میں اس آخری سبب کا پتہ لگائیں جو بچہ کی اس ضرورت سے واقف تھا کہ اس کو خول سے باہر نکلنے کے لیے کسی سخت مددگار کی ضرورت ہے اور اس نے مادہ کو مجبور کیا کہ عین وقت پر ٹھیک 21 روز بعد وہ بچہ کی چونچ پر ایک ایسی سینگ کی شکل میں نمودار ہو جو اپنا کام پورا کرنے کے بعد جھڑ جائے۔ گویا پہلے یہ سوال تھا کہ ”خول کیسے ٹوٹتا ہے۔ “ اور اب سوال یہ ہو گیا کہ ’’سینگ کیسے بنتی ہے۔ “ ظاہر ہے کہ دونوں حالتوں میں کوئی نوعی فرق نہیں۔ اس کو زیادہ سے زیادہ حقیقت کا وسیع تر مشاہدہ کہہ سکتے ہیں۔ حقیقت کی توجیہہ کا نام نہیں دے سکتے۔ یہاں میں ایک امریکی عالم حیاتیات Cecil Boyce Hamann کے الفاظ نقل کروں گا: ”غذا ہضم ہونے اور اس کے جزو بدن بننے کے حیرت انگیز عمل کو پہلے خدا کی طرف منسوب کیا جاتا تھا۔ اب جدید مشاہدہ میں وہ کیمیائی رد عمل کا نتیجہ نظر آتا ہے۔ مگر کیا اس کی وجہ سے خدا کے وجود کی نفی ہوگئی۔ آخروہ کون طاقت ہے جس نے کیمیائی اجزاء کو پابند کیا کہ وہ اس قسم کا مفید رد عمل ظاہر کریں۔ غذا انسان کے جسم میں داخل ہونے کے بعد ایک عجیب و غریب خود کار نظام کے تحت جس طرح مختلف مراحل سے گزرتی ہے، اس کو دیکھنے کے بعد یہ بات بالکل خارج از بحث معلوم ہوتی ہے کہ یہ حیرت انگیز نظام محض اتفاق سے وجود میں آگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مشاہدہ کے بعد تو اور زیادہ ضروری ہو گیا ہے کہ ہم یہ مانیں کہ خدا اپنے ان عظیم قوانین کے ذریعہ عمل کرتا ہے جس کے تحت اس نے زندگی کو وجود دیا ہے۔ (The Evidence of God in an Expanding Universe, p. 221)
یعنی فطرت کائنات کی توجیہہ نہیں کرتی، وہ خود اپنے لیے ایک توجیہہ کی طالب ہے۔ اگر آپ کسی ڈاکٹر سے پوچھیں کہ خون سرخ کیوں ہوتا ہے، تو وہ جواب دے گا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ خون میں نہایت چھوٹے سرخ اجزا ہوتے ہیں (ایک انچ کے سات ہزارویں حصے کے برابر) یہی سرخ ذرات خون کو سرخ کرنے کا سبب ہیں۔