Al-Risala · November 2015

-(طبعی اور کیمیائی طاقتوں کا اندھا عمل) forces.

Al-Risala, November 2015, pp. 40–41

By Maulana Wahiduddin Khan

"مگر کیا وجہ ہے کہ یہ اندھی طاقتیں ہمیشہ ایسی سمت میں عمل کرتی ہیں جو انھیں ایک متعین انجام کی طرف لے جائے ۔ کیسے وہ اپنی سرگرمیوں کو اس طرح منظم کرتی ہیں کہ ایک چڑیا اڑنے کے قابل ایک مچھلی تیر سکے، ایک انسان اپنی مخصوص صلاحیتوں کے ساتھ وجود میں آئے‘‘۔ "میرے دوست، مجھ سے یہ نہ پوچھو، سائنس داں صرف یہ بتا سکتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیا ہے، اس کے پاس اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ کیوں ہو رہا ہے‘‘۔ یہ سوال و جواب واضح کر رہا ہے کہ سائنسی دریافتوں کی حقیقت کیا ہے۔ بلاشبہہ سائنس نے ہم کو بہت سی نئی نئی باتیں بتائی ہیں ۔ مگر مذہب جس سوال کا جواب ہے، اس کا ان دریافتوں سے کوئی تعلق اس قسم کی دریافتیں اگر موجودہ مقدار کے مقابلے میں اربوں، کھربوں گنا بڑھ جائیں ، جب بھی مذہب کی ضرورت باقی رہے گی ۔ کیونکہ یہ دریافتیں صرف ہونے والے واقعات کو بتاتی ہیں، یہ واقعات کیوں ہورہے ہیں اور ان کا آخری سبب کیا ہے۔ اس کا جواب ان دریافتوں کے اندر نہیں ܁ ܁ ܁ ܁ ܁

یہ تمام کی تمام دریافتیں صرف درمیانی تشریح ہیں جب کہ مذہب کی جگہ لینے کے لیے ضروری ہے کہ وہ آخری اور کلی تشریح دریافت کرے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے کہ کسی مشین کے اوپر ڈھکن لگا ہوا ہو تو ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ وہ چل رہی ہے۔ اگر ڈھکن اتار دیا جائے تو ہم دیکھیں گے کہ باہر کا چکر کس طرح ایک اور چکر سے چل رہا ہے۔ اور وہ چکر کس طرح دوسرے بہت سے پرزوں سے مل کر حرکت کرتا ہے۔ یہاں تک کہ ہو سکتا ہے کہ ہم اس کے سارے پرزوں اور اس کی پوری حرکت کو دیکھ مگر کیا اس علم کے معنی یہ ہیں کہ ہم نے مشین کے خالق اور اس کے سبب حرکت کا راز بھی معلوم کیا کسی مشین کی کارکردگی کو جان لینے سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ وہ خود بخود بن گئی ہے اور اپنے آپ چلی جا رہی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہے تو کائنات کی کارکردگی کی بعض جھلکیاں دیکھنے سے یہ کیسے ثابت ہو گیا کہ یہ سارا کارخانہ اپنے آپ قائم ہوا ہے اور اپنے آپ چلا جا رہا ہے۔ ہیر یز (A. Harris) نے یہی بات کہی تھی جب اس نے ڈارونزم پر تنقید کرتے ہوئے کہا:

Natural selection may explain the survival of the fittest, but cannot explain the arrival of the fittest. (The Revolt against Reason by A. Lunn, p. 133)

یعنی انتخاب طبیعی کے قانون کا حوالہ صرف زندگی کے بہتر مظاہر باقی رہنے کی توجیہہ کرتا ہے۔ وہ یہ نہیں بتاتا کہ یہ بہتر زندگیاں خود کیسے وجود میں آئیں۔

اس موضوع پر مزید مطالعہ کے لیے:

Printed page