Al-Risala · February 2015

ایمانی زندگی کے 10 مراحل

Al-Risala, February 2015, p. 3

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ آل عمران کا آخری رکوع (200-190) کا مطالعہ کیجئے تو ایک انسان کی ایمانی زندگی کے 10 مراحل سامنے آتے ہیں۔ یہ 10 مراحل بالترتیب حسب ذیل ہیں: إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ ــ عقل کو استعمال کرتے ہوئے آیات تخلیق میں مسلسل غوروفکر (continuous contemplation) کی زندگی گزارنا۔ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا ــ حقیقت کی شعوری دریافت (discovery)، اس دریافت کے مطابق اس کا درست رسپانس (right response) دینا۔ وقت کے منادیٔ ایمان کو پہچاننا، اس کا بھر پور ساتھ دینا، تمام فکری حجابات (intellectual conditioning) کو توڑ کر۔

رَبَّنَا وَاتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلَى رُسُلِكَ ــ تاریخ میں بننے والے سچے انسانوں کی فہرست میں شامل ہونا، ان کے ساتھ حسنِ رفاقت کا متمنی ہونا۔

اَلَّذِيْنَ ھَاجَرُوْا ــ دریافت کردہ سچائی کے ساتھ مکمل شرکت (total involvement)، زندگی کے سابق پیٹرن کو چھوڑ کر نیا پیٹرن اختیار کرنا۔ وَأُخْرِجُوا مِنْ دِیَارِھِمْ ــ غیر مصالحانہ انداز (uncompromising stand) اختیار کرنا، کسی چیز کو عذر (excuse) نہ بنانا۔

وَأُوذُوْا فِي سَبِيلِي ــ ایمانی زندگی کے لئے ہر قیمت (price) دینے کے لئے تیار رہنا، قربانی (sacrifice) کی حد تک قائم رہنا۔

وَقَتَلُوْا وَقُتِلُوْا ــ ایمانی مشن کے لئے سنجیدہ جدوجہد (sincere struggle) کرنا، اس راہ میں اپنی آخری کوشش صرف کر دینا۔

وَلَاُدْخِلَنَّھُمْ جَنَّتِ ــ جنت کی بشارت، جنت کے حصول کو اپنا واحد مرکزِ توجہ (sole concern) بنا لینا- اِصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا ــ کامل صبر کا مزاج پیدا ہو جانا۔ ہر ڈسٹریکشن (distraction) سے بچتے ہوئے ایمانی سفر کی منزل طے کرنا۔

Printed page