شادی کا مسئلہ
Al-Risala, November 2015, pp. 42–44
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے اپنی پسند کی ایک خاتون سے شادی کی۔ شادی کے کچھ دنوں بعد ان سے میری ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ شادی سے پہلے مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میرا ہوائی جہاز فضا میں اڑ رہا ہے۔ مگر شادی کے بعد ایسا معلوم ہوا جیسے کہ میرا جہاز کریش (crash) ہو گیا، اور میں جہاز کے ساتھ زمین پر گر پڑا۔
یہ ایک شخص کی بات نہیں۔ شادی سے پہلے اور شادی کے بعد کے معاملے میں اکثر لوگوں کا احساس کم و بیش یہی ہوتا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ شادی سے پہلے عورت اور مرد دونوں کی دلچسپیاں اپنے خونی رشتوں سے ہوتی ہیں۔ شادی کے بعد ان کو غیر خونی رشتہ داروں سے تعلق بنانا پڑتا ہے۔ بچپن سے شادی کی عمر تک دونوں اپنے خونی رشتوں کے درمیان رہتے ہیں۔ بنا پر دونوں کو اپنے خونی رشتوں سے خصوصی لگاؤ ہو جاتا ہے۔ جب کہ شادی کے بعد دونوں کو اپنے غیر خونی رشتہ داروں کے ساتھ نباہ کرنا پڑتا ہے۔ دونوں، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اپنے آپ کو اس فرق کے ساتھ ہم آہنگ نہیں کر پاتے۔ اس بنا پر طرح طرح کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ اور شادی عملاً، پرابلم میرج (problem marriage) بن جاتی ہے۔ اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ خونی رشتوں اور غیر خونی رشتوں کا فرق ختم ہو۔ یہ ایک فطری فرق ہے جو ہمیشہ باقی رہے گا۔ اس مسئلے کا عملی حل صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ دونوں شعوری طور پر یہ جان لیں کہ وہ ایک فطری مسئلہ سے دوچار ہیں ۔ جس کو وہ ختم نہیں کر سکتے۔ دونوں اگر شعوری طور پر اس بات کو جان لیں تو ان کے اندر ایڈ جسمنٹ (adjustment) کا مزاج پیدا ہو گا۔ ان کے اندر یہ سوچ بیدار ہو جائے گی ۔ جس مسئلے کو ہم بدل نہیں سکتے اس کو ہمیں نبھانا چاہیے، اس کے ساتھ ہمیں ایڈ جسٹ کر کے رہنا چاہیے ۔ کا ایک مثبت پہلو ہے ۔ یہ فرق آدمی کو ذہنی جمود (intellectual stagnation) سے بچاتا اس بنا پر آدمی کے اندر ذہنی ارتقا کا عمل رکے بغیر جاری رہتا ہے۔
سوال و جواب میں ایک طالب علم ہوں اور جدید تعلیم حاصل کر رہا ہوں لیکن اسی کے ساتھ دینی معلومات بھی حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ ڈیڑھ سال سے پہلے میں نے آپ کا نام سنا تھا لیکن جن کے ذریعہ آپ کا تعارف ہوا انھوں نے آپ کا کوئی مثبت ذکر نہیں کیا بلکہ دلخراش واقعات سنائے جو کہ میرے لئے باعث تشویش رہے کہ کیا دین اسلام کا داعی اس قسم کی باتیں کہہ سکتا ہے، کیا ایسا ممکن ہے؟ آپ کے حقیقی تعارف کے بغیر میں ہر وقت شش و پنج میں رہتا تھا۔ پھر میں نے فیصلہ کیا کہ ان باتوں کی حقیقت کو جاننے کے لیے از خود آپ کی کتابوں کا مطالعہ کروں۔ آخر کار اپنے ایک عزیز کی وساطت سے میں نے آپ کی ایک کتاب ”کاروانِ ملّت“ خریدی۔ کتاب مذکور میں ان سب سوالوں کا جواب تھا جس کی وجہ سے میں پریشان ہو چکا تھا۔ وہ منفی تاثرات جو آپ سے متعلق مجھے بتائے گئے تھے، وہ سب گمراہ کن لگے۔ میں آپ کی کتابوں کا مطالعہ میرے روزمرہ کے شیڈول ایک جزء بن گیا۔ جن کتابوں کا مطالعہ کیا ان میں یہ کتابیں قابلِ ذکر ہیں: کتاب معرفت، عظمتِ اسلام، تعمیرِ انسانیت، دعوت اسلام، The Quran for all Humanity, Creation Plan of God اب میں اس خدا کا شکر کرتا ہوں جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے کہ میرے خدا کی طرف سے یہ سب ممکن ہوا کہ میں روحِ دین کو سمجھنے کی کوشش کروں۔ اس ”عُسْر“ کے دور میں ”یُسْر“ کا ایک موقع مجھے ضرور ملا جس کو میں نے استعمال کیا۔ آپ کی کچھ باتیں جن کی وجہ سے میری زندگی میں بدلاؤ آیا، وہ مفہوم میں کچھ اس طرح ہیں:
غیر مسلم ہمارے دشمن یا حریف نہیں بلکہ وہ ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان سے داعی اور مدعو کا رشتہ قائم کرنا ہوگا۔
یک طرفہ طور پر دکھ درد کو برداشت کر کے ہی ہم اسلام کا پیغام امن ان تک پہنچا سکتے ہیں۔ دینِ سلامتی کو دینِ قتل نہ بنائیں۔ دینِ امن کو دینِ جنگ و جدال نہ بنائیں۔
گمراہ کن فتووں، بے سلسلہ اندازِ بیان، فکری انتشار، دل آزار اور کو مزاحیہ بنانے گمراہ کن نعروں سے مسلمانوں دنیا کے جان، مال اور آبرو کو مباح نہ بنائیں۔ دعوت کے لئے ہر قربانی دینے کے لئے تیار رہنا، وغیرہ وغیرہ۔
ان جیسی اہم باتوں نے مجھے آپ کی فکر کو اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران میرے ذہن میں بہت سے اشکالات رہے جن کے جوابات جاننا میرے لئے ضروری ہو گیا۔ امید ہے کہ آپ اپنی حد درجہ مشغولیت کے باوجود ذیل کی باتوں میں میری رہنمائی فرمائیں گے: اسلامی حکومت کے قیام کے لئے کیا لائحہ عمل اپنانا ہوگا۔
(defensive war) کہنا کیسے ممکن ہے۔
3- ”نہی عن المنکر“ غیر اسلامی حکومت کے اندر کیسے کیا جائے۔
دفاعی طریقہ کار سے کیا آج کے دور میں ہم کسی ملک کو زیر کر سکتے ہیں۔ (احمد وانی، کشمیر) کسی کے بارے میں رائے قائم کرنا، ایک بے حد سنگین بات ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ متعلق شخص کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کرے، اور پھر معلومات کے مطابق وہ اپنی رائے بنائے۔ کوئی شخص یہ کہے کہ میرے پاس اتنا وقت نہیں تو اس کو یہ جواب دیا جائے گا کہ پھر آپ کے اوپر فرض ہے کہ آپ ایسے شخص کے بارے میں کوئی رائے نہ بنائیں، بلکہ خاموشی کا طریقہ اختیار کریں۔ آدمی کے اوپر یہ فرض نہیں ہے کہ وہ ہر شخص کے بارے میں ضرور کوئی رائے بنائے، لیکن اگر اس کو کسی شخص کے بارے میں میں اپنے رائے کا اظہار کرنا ہے تو اس پر فرض ہو جاتا ہے کہ پہلے وہ براہ راست طور پر پوری معلومات حاصل کرے، اور اس کے بعد متعلق شخص کے بارے میں اپنی رائے قائم کرے۔
جہاں تک مذکورہ سوالات کا تعلق ہے۔ یہ سوالات ہماری کتابوں میں زیرِ بحث آچکے ہیں۔ نے مطالعے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اس کو جاری رکھیے، ان شاء اللہ آپ کو تشفی حاصل ہو جائے گی۔ ة يـت ل پ پ پ ( ن ش ح )