Al-Risala · December 2015

دعوت کے دو پہلو

Al-Risala, December 2015, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

دعوت ایک منصوبہ بند عمل ہے۔ دعوت کا کام عملاً ماس لیول (mass level) پر کیا جاتا لیکن دعوت کے کام کا نتیجہ ہمیشہ فرد کی سطح (individual level) پر نکلتا ہے۔ داعی کو چاہیے کہ ان دونوں پہلوؤں کے بارے میں وہ پوری طرح با شعور ہو۔ ورنہ وہ دعوت کا کام درست طور پر انجام نہ دے سکے گا۔

قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جس انسان کے اندر خیر ہوتا ہے، اس کو اللہ کی طرف سے قبول حق کی توفیق حاصل ہوتی ہے (8:23)۔ یہاں خیر سے مراد تلاش حق کی اسپرٹ ہے۔ تلاش حق کی اسپرٹ ایک فرد کا داخلی معاملہ ہے۔ صرف اللہ کو معلوم ہے کہ کس فرد کے اندر یہ خیر موجود ہے۔ داعی کو اس حقیقت کا علم ہونا ممکن نہیں۔ اس لیے داعی کا کام یہ ہے کہ وہ ہر شخص کو اپنا نشانہ بنائے۔ وہ عمومی طور پر لوگوں کو حق کا پیغام پہنچائے۔ اللہ جس فرد کے اندر خیر دیکھے گا اس کو وہ قبول حق کی توفیق دے دے گا۔ دعوت دینا داعی کا معاملہ ہے، اور دعوت کو قبول کرنے کی توفیق دینا اللہ کا معاملہ ہے۔ اگر آدمی کا ذہن یہ ہو کہ جتنے لوگوں تک اس نے دعوت پہنچائی ہے ان سب کو چاہیے کہ وہ دعوت کو قبول کر لیں تو بہت جلد وہ مایوسی میں مبتلا ہو جائے گا۔ داعی کو چاہیے کہ وہ اپنی ڈیوٹی پر نظر رکھے، اور دعوت کو قبول کرنے کا معاملہ مدعو کے اوپر چھوڑ دے۔ دعوت الی اللہ کے کام کے لیے یقین کی صفت لازمی طور پر اور یقین کی صفت اسی وقت پیدا ہو سکتی ہے، جب کہ داعی مذکورہ حقیقت کو شعوری طور پر جانے اور اس کو وہ ہمیشہ یاد رکھے۔ دعوت کا کام اللہ کا کام ہے، اور اللہ پر اعتماد کی طاقت کے ذریعے ہی اس کو انجام دیا جا سکتا ہے۔ دعوت کے عمل کی لازمی شرط یہ ہے کہ داعی کے اندر مکمل طور پر مثبت ذہن پایا مدعو کے خلاف اس کے دل میں کسی قسم کی شکایت موجود نہ ہو۔ دعوت کا کام ہمیشہ انسانی خیر خواہی کے جذبے کے تحت انجام پاتا ہے۔ اور انسانی خیر خواہی اللہ پر اعتماد کے بغیر پیدا ہونا ممکن نہیں۔

Printed page