کائنات میں خدا کی گواہی
Al-Risala, December 2015, pp. 16–25
By Maulana Wahiduddin Khan
زمین پر زندگی کے پائے جانے کے لیے اتنے مختلف حالات کی موجودگی ناگزیر ہے کہ ریاضیاتی طور پر یہ بالکل ناممکن ہے کہ وہ اپنے مخصوص تناسب میں محض اتفاقاً زمین کے اوپر اکٹھا اب اگر ایسے حالات پائے جاتے ہیں تو لازماً یہ ماننا ہوگا کہ فطرت میں کوئی ذی شعور رہنمائی موجود ہے جو ان حالات کو پیدا کرنے کا سبب ہے۔
زمین اپنی جسامت کے اعتبار سے کائنات میں ایک ذرہ کے برابر بھی حیثیت نہیں رکھتی مگر اس کے باوجود ہماری تمام معلوم دنیاؤں میں اہم ترین ہے۔ کیونکہ اس کے اوپر حیرت انگیز طور پر وہ حالات مہیا ہیں جو ہمارے علم کے مطابق اس وسیع کائنات میں کہیں نہیں پائے جاتے ۔ سب سے پہلے زمین کی جسامت کو لیجئے۔ اگر اس کا حجم کم یا زیادہ ہوتا تو اس پر زندگی محال مثلاً یہ کرہ زمین اگر چاند اتنا چھوٹا یعنی اس کا قطر موجودہ کی نسبت سے 4 ہوتا تو اس کی کشش ثقل ، زمین کی موجودہ کشش کا رہ جاتی ۔ کشش کی اس کمی کا نتیجہ یہ ہو جاتا کہ وہ پانی اور ہوا کو اپنے اوپر روک نہ سکتی جیسا کہ جسامت کی اسی کمی کی وجہ سے چاند میں واقع ہوا ہے ۔ چاند پر اس وقت نہ تو پانی ہے اور نہ کوئی ہوائی کرہ۔ ہوا کا غلاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ رات کے وقت بے حد سرد ہو جاتا ہے اور دن کے وقت تنور کی مانند جلنے لگتا ہے۔ اسی طرح کم جسامت کی زمین کشش کی کمی کی وجہ سے پانی کی اس کثیر مقدار کو روک نہ سکتی جو زمین پرموسمی اعتدال کو باقی رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے اور اسی بنا پر ایک سائنسداں نے اس کو عظیم توازنی پہیہ (great balance wheel) کا نام دیا ہے (28 Man Does not Stand Alone, p)۔ اور ہوا کا موجودہ غلاف اڑ کر فضا میں گم ہو جاتا تو اس کا حال یہ ہوتا کہ اس کی سطح پر درجہ حرارت چڑھتا تو انتہائی حد تک چڑھ جاتا اور گرتا تو انتہائی حد تک گر جاتا۔ اس کے برعکس اگر زمین کا قطر، موجودہ قطر کی نسبت سے دگنا ہوتا تو اس کی کشش ثقل بھی دگنی بڑھ جاتی۔ کشش کے اس اضافہ کا نتیجہ یہ ہوتا کہ ہوا، جو اس وقت زمین کے اوپر پانچ سو
میل کی بلندی تک پائی جاتی ہے، وہ کھنچ کر بہت نیچے تک سمٹ جاتی۔ اس کے دباؤ میں فی مربع انچ 15 تا 30 پونڈ کا اضافہ ہو جاتا جس کا ردِّ عمل مختلف صورتوں میں زندگی کے لیے نہایت مہلک ثابت ہوتا۔ اگر زمین سورج سے اتنی بڑی ہوتی اور اس کی کثافت برقرار رہتی تو اس کی کشش ثقل ڈیڑھ سو گنا بڑھ ہوا کے غلاف کی دبا وت گھٹ کر پانچ سو میل کے بجائے صرف چار میل رہ جاتی۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ ہوا کا دباؤ ایک ٹن فی مربع انچ تک جا پہنچتا۔ اس غیر معمولی دباؤ کی وجہ سے زندہ اجسام کا نشوونما ممکن نہ ایک پونڈ وزنی جانور کا وزن ایک سو پچاس پونڈ ہو جاتا۔ انسان کا جسم گھٹ کر گلہری کے برابر ہو جاتا اور اس میں کسی قسم کی ذہنی زندگی ناممکن ہو جاتی۔ کیوں کہ انسانی ذہانت حاصل کرنے کے لیے بہت کثیر مقدار میں اعصابی ریشوں کی موجودگی ضروری ہے اور اس طرح کے پھیلے ہوئے ریشوں کا نظام ایک خاص درجہ کی جسامت ہی میں پایا جا سکتا ہے۔
بظاہر ہم زمین کے اوپر ہیں مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ہم اس کے نیچے سر کے بل لٹکے زمین گو یا فضا میں معلق ایک گیند ہے جس کے چاروں طرف انسان بستے ہیں۔ ہندوستان کی زمین پر کھڑا ہو تو امریکا کے لوگ بالکل اس کے نیچے ہوں گے اور امریکا میں کھڑا ہو تو ہندوستان اس کے نیچے ہوگا۔ پھر زمین ٹھہری ہوئی نہیں ہے بلکہ ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل گھوم رہی ایسی حالت میں زمین کی سطح پر ہمارا انجام وہی ہونا چاہیے جیسے سائیکل کے پہیے پر کنکر یاں رکھ کر پہیے کو تیزی سے گھما دیا جائے۔ مگر ایسا نہیں ہوتا۔ کیونکہ ایک خاص تناسب سے زمین کی کشش اور ہوا کا دباؤ ہم کو ٹھہرائے ہوئے ہے۔ زمین کے اندر غیر معمولی قوت کشش ہے جس کی وجہ سے وہ تمام چیزوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے اور اوپر سے ہوا کا مسلسل دباؤ پڑتا ہے۔ اس دو طرفہ عمل نے ہم کو زمین کے گولے پر چاروں طرف لٹکا رکھا ہے۔ ہوا کے ذریعہ جو دباؤ پڑتا ہے وہ جسم کے ہر ایک مربع انچ پر تقریباً ساڑھے سات سیر تک معلوم کیا گیا ہے۔ یعنی ایک اوسط آدمی کے سارے جسم پر تقریباً 280 من کا آدمی اس وزن کو محسوس نہیں کرتا۔ کیونکہ ہوا جسم کے چاروں طرف ہے۔ دباؤ ہر طرف سے پڑتا ہے اسی لیے آدمی کو محسوس نہیں ہوتا۔ جیسا کہ پانی میں غوطہ لگانے کی صورت میں ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ ہوا جو مختلف گیسوں کے مخصوص مرکب کا نام ہے، اس کے بے شمار فائدے ہیں جن کا بیان کسی کتاب میں ممکن نہیں۔
نیوٹن اپنے مشاہدہ اور مطالعہ سے اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ تمام اجسام ایک دوسرے کو اپنی طرف مگر اجسام کیوں ایک دوسرے کو کھینچتے ہیں۔ اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ چنانچہ اس نے کہا کہ میں اس کی کوئی تو جیہہ پیش نہیں کر سکتا۔
وائٹ ہیڈ (A. N. Whitehead) اس کا حوالہ دیتے ہوئے کہتا ہے:
”نیوٹن نے یہ کہہ کر ایک عظیم فلسفیانہ حقیقت کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ فطرت اگر بے روح فطرت ہے تو وہ ہم کو توجیہہ نہیں دے سکتی۔ ویسے ہی جیسے مردہ آدمی کوئی واقعہ نہیں بتا سکتا۔ تمام عقلی اور منطقی تو جیہات آخری طور پر ایک مقصدیت کا اظہار ہیں۔ جب کہ مردہ کا ئنات میں کسی مقصدیت کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ “ (85 .The Age of Analysis, p)
وائٹ ہیڈ کے الفاظ کو آگے بڑھاتے ہوئے میں کہوں گا کہ کائنات اگر کسی صاحب شعور کے زیر انتظام نہیں ہے تو اس کے اندر اتنی معنویت کیوں پائی جاتی ہے۔
زمین اپنے محور پر چوبیس گھنٹے میں ایک چکر پورا کر لیتی ہے۔ یا یوں کہیے کہ وہ اپنے محور پر ایک ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہے۔ فرض کرو اس کی رفتار دو سو میل فی گھنٹہ ہو جائے اور یہ بالکل ممکن ہے، ایسی صورت میں ہمارے دن اور ہماری راتیں موجودہ دن اور رات کی نسبت سے دس گنا زیادہ لمبے ہو جائیں گے۔ گرمیوں کا سخت سورج ہر دن تمام نباتات کو جلا دے گا۔ اور جو بچے گا وہ لمبی رات کی ٹھنڈک میں پالے کی نذر ہو جائے گا۔ سورج جو اس وقت ہمارے لیے زندگی کا سرچشمہ ہے، اس کی سطح پر بارہ ہزار ڈگری فارن ہائٹ کا ٹمپریچر ہے اور زمین سے اس کا فاصلہ تقریباً نو کروڑ تیس لاکھ میل ہے۔ اور یہ فاصلہ حیرت انگیز طور پر مسلسل قائم ہے۔ یہ واقعہ ہمارے لیے بے حد اہمیت رکھتا ہے کیونکہ اگر یہ فاصلہ گھٹ جائے، مثلاً سورج نصف کے بقدر قریب آجائے تو زمین پر اتنی گرمی پیدا ہو کہ اس گرمی سے کاغذ جلنے لگے اور اگر موجودہ فاصلہ دگنا ہو جائے تو اتنی ٹھنڈک پیدا ہو کہ زندگی باقی نہ
یہی صورت اس وقت پیدا ہوگی جب موجودہ سورج کی جگہ کوئی دوسرا غیر معمولی ستارہ آجائے۔ مثلاً ایک بہت بڑا ستارہ ہے جس کی گرمی ہمارے سورج سے دس ہزار گنا زیادہ ہے۔ اگر وہ سورج کی جگہ ہوتا تو زمین کو آگ کی بھٹی بنا دیتا۔
زمین 23 درجہ کا زاویہ بناتی ہوئی فضا میں جھکی ہوئی ہے ۔ یہ جھکاؤ ہمیں ہمارے موسم دیتے اس کے نتیجہ میں زمین کا زیادہ سے زیادہ حصہ آباد کاری کے قابل ہو گیا ہے اور مختلف قسم کی نباتات اور پیداوار حاصل ہوتی ہیں۔ اگر زمین اس طرح سے جھکی ہوئی نہ ہوتی تو قطبین پر ہمیشہ اندھیرا سمندر کے بخارات شمال اور جنوب کی جانب سفر کرتے، اور زمین پر یا تو برف کے ڈھیر ہوتے یا صحرائی میدان۔ اس طرح کے اور بہت سے اثرات ہوتے جس کے نتیجہ میں بغیر جھکی ہوئی زمین پر زندگی ناممکن ہو جاتی۔
یہ کس قدر نا قابل قیاس بات ہے کہ مادہ نے خود کو اپنے آپ اس قدر موزوں اور مناسب شکل میں منظم کر لیا۔
اگر سائنسدانوں کا قیاس صحیح ہے کہ زمین سورج سے ٹوٹ کر نکلی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابتدا ء زمین کا درجہ حرارت وہی رہا ہوگا جو سورج کا ہے۔ یعنی بارہ ہزار ڈگری فارن ہائیٹ۔ اس کے بعد وہ دھیرے دھیرے ٹھنڈی ہونا شروع ہوئی۔ آکسیجن اور ہائیڈروجن کا ملنا اس وقت تک ممکن نہیں ہو سکتا جب تک زمین کا درجہ حرارت گھٹ کر چار ہزار ڈگری پر نہ آجائے۔ اسی موقع پر دونوں گیسوں کے باہم ملنے سے پانی بنا۔ اس کے بعد کروڑوں سال تک زمین کی سطح اور اس کی فضا میں زبردست انقلابات ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ غالباً ایک بلین سال پہلے زمین اپنی موجودہ شکل میں تیار ہوئی۔ زمین کی فضا میں جو گیسیں تھیں ان کا ایک بڑا حصہ خلا میں چلا گیا، ایک حصہ نے پانی کے مرکب کی صورت اختیار کی، ایک حصہ زمین کی تمام چیزوں میں جذب ہو گیا اور ایک حصہ ہوا کی شکل میں ہماری فضا میں باقی رہ گیا جس کا بیشتر جزو آکسیجن اور نائٹروجن ہے۔ یہ ہوا اپنی کثافت کے اعتبار سے زمین کا تقریباً دس لاکھوں حصہ ہے۔ کیوں نہیں ایسا ہوا کہ تمام گیسیں جذب ہو جاتیں ۔ یا کیوں ایسا نہیں
ہوا کہ موجودہ نسبت سے ہوا کی مقدار زیادہ ہوتی۔ دونوں صورتوں میں انسان زندہ نہیں ہو سکتا تھا، یا اگر بڑھی ہوئی گیسوں کے ہزاروں پونڈ فی مربع انچ بوجھ کے نیچے زندگی پیدا بھی ہوتی تو یہ ناممکن تھا کہ وہ انسان کی شکل میں نشوونما پاسکے۔
زمین کی دوہری پرت اگر صرف دس فٹ موٹی ہوتی تو ہماری فضا میں آکسیجن کا وجود نہ ہوتا جس کے بغیر حیوانی زندگی ناممکن ہے۔ اسی طرح اگر سمندر کچھ فٹ اور گہرے ہوتے تو وہ کاربن ڈائی آکسائڈ اور آکسیجن کو جذب کر لیتے اور زمین کی سطح پر کسی قسم کی نباتات زندہ نہ رہ سکتیں۔ کے اوپر کی ہوائی فضا موجودہ کی نسبت سے لطیف ہوتی تو شہاب ثاقب جو ہر روز اوسطاً دو کرور کی تعداد میں اوپری فضا میں داخل ہوتے ہیں اور رات کے وقت ہم کو جلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں وہ زمین کے ہر حصے میں گرتے۔ یہ شہاپیے چھ سے چالیس میل تک فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں۔ وہ زمین کے اوپر ہر آتش پذیر مادے کو جلا دیتے اور سطح زمین کو چھلنی کر دیتے ۔ شہاب ثاقب بندوق کی گولی سے نوے گنا زیادہ رفتار سے آدمی جیسی مخلوق کو محض اپنی گرمی سے ٹکڑے کر دیتی۔ مگر ہوائی کرہ اپنی نہایت موزوں دبازت کی وجہ سے ہم کو اس آتشیں بوچھار سے محفوظ رکھتا ہے۔ ہوائی کرہ ٹھیک اتنی کثافت رکھتا ہے کہ سورج کی کیمیاوی اہمیت رکھنے والی شعاعیں (actinic rays) اسی موزوں مقدار سے زمین پر پہنچتی ہیں جتنی نباتات کو اپنی زندگی کے لیے ضرورت ہے، جس سے مضر بیکٹیریا مر سکتے ہیں، جس سے وٹامن تیار ہوتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔
کمیت کا اس طرح عین ہماری ضرورتوں کے مطابق ہونا کس قدر عجیب ہے۔
زمین کی اوپری فضا چھ گیسوں کا مجموعہ ہے جس میں تقریباً 78 فیصدی نائট্রوجن اور 21 فیصدی باقی گیسیں بہت خفیف تناسب میں پائی جاتی ہیں۔ اس فضا سے زمین کی سطح پر تقریباً پندرہ پونڈ فی مربع انچ کا دباؤ پڑتا ہے جس میں آکسیجن کا حصہ تین پونڈ فی مربع انچ ہے۔ آکسیجن کا بقیہ حصہ زمین کی تہوں میں جذب ہے اور وہ دنیا کے تمام پانی کا 8/10 حصہ بناتا ہے۔ تمام خشکی کے جانوروں کے لیے سانس لینے کا ذریعہ ہے اور اس مقصد کے لیے اس کو فضا کے سوا کہیں
اور سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ انتہائی متحرک گیسیں کس طرح آپس میں مرکب ہوئیں اور ٹھیک اس مقدار اور اس تناسب میں فضا کے اندر باقی رہ گئیں جو زندگی کے لیے ضروری تھا۔ طور پر آکسیجن اگر 21 فیصدی کے بجائے پچاس فیصدی یا اس سے مقدار میں فضا کا جزو ہوتا تو سطح زمین کی تمام چیزوں میں آتش پذیری کی صلاحیت اتنی بڑھ جاتی کہ ایک درخت میں آگ پکڑتے ہی سارا جنگل بھک سے اڑ جاتا۔ اسی طرح اس کا تناسب گھٹ کر دس فیصدی رہتا تو ممکن ہے زندگی صدیوں کے بعد اس سے ہم آہنگی اختیار کرلیتی۔ مگر انسانی تہذیب موجودہ شکل میں ترقی نہیں کر سکتی تھی۔ آزاد آکسیجن بھی بقیہ آکسیجن کی طرح زمین کی چیزوں میں جذب ہو گئی ہوتی تو حیوانی زندگی سرے سے ناممکن ہو جاتی۔
آکسیجن، ہائیڈروجن، کاربن ڈائی آکسائڈ اور کاربن گیسیں الگ الگ اور مختلف شکلوں میں مرکب ہو کر حیات کے اہم ترین عناصر ہیں۔ یہی وہ بنیادیں ہیں جن پر زندگی قائم ہے۔ اس کا ایک فی ارب بھی امکان نہیں ہے کہ وہ تمام ایک وقت میں کسی ایک سیارہ پر اس مخصوص تناسب کے ساتھ اکٹھا ایک عالم طبیعیات کے الفاظ میں :
Science has no explanation to offer for the facts, and to say it is accidental is to defy mathematics (p. 33)
یعنی سائنس کے پاس ان حقائق کی توجیہہ کے لیے کوئی چیز نہیں ہے۔ اور اس کو اتفاق کہنا ریاضیات سے کشتی لڑنے کے ہم معنی ہے۔
ہماری دنیا میں بے شمار ایسے واقعات موجود ہیں جن کی توجیہہ اس کے بغیر نہیں ہو سکتی کہ اس کی تخلیق میں ایک برتر ذہانت کا دخل تسلیم کیا جائے۔
پانی کی مختلف نہایت اہم خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ برف کی کثافت (density) پانی سے کم ہوتی ہے۔ پانی وہ واحد معلوم مادہ ہے جو جمنے کے بعد ہلکا ہو جاتا ہے۔ یہ چیز بقائے حیات کے
لیے زبردست اہمیت رکھتی ہے۔ اس کی وجہ سے ممکن ہوتا ہے برف پانی کی سطح پر تیرتا رہتا ہے اور دریاؤں، جھیلوں اور سمندروں کی تہہ میں بیٹھ نہیں جاتا۔ ورنہ آہستہ آہستہ سارا پانی ٹھوس اور منجمد ہو جائے ۔ یہ پانی کی سطح پر ایک ایسی حاجب تہہ بن جاتا ہے کہ اس کے نیچے کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے اوپر ہی اوپر رہتا ہے۔ اس نادر خاصیت کی وجہ سے مچھلیاں اور دیگر آبی جانور زندہ رہتے ہیں۔ کے بعد جونہی موسم بہار آتا ہے برف فوراً پگھل جاتا ہے۔ اگر پانی میں یہ خاصیت نہ ہوتی تو خاص طور پر سرد ملکوں کے لوگوں کو بہت بڑی دقت کا سامنا کرنا پڑتا۔
بیسویں صدی کے آغاز میں جب امریکا میں انڈوتھیا (Endothia) نام کی بیماری شاہ بلوط (Chestnut) کے درختوں پر حملہ آور ہوئی اور تیزی سے پھیلی تو بہت سے لوگوں نے جنگل کی چھتری میں شگاف دیکھ کر کہا کہ "یہ شگاف اب پر نہیں ہوں گے۔ " امریکی شاہ بلوط کی بالا دستی کو ابھی تک کسی اور قسم کے اشجار نے نہیں چھینا تھا۔ اونچے درجے کی دیر پا عمارتی لکڑی اور اس طرح کے دوسرے فوائد اس کے لیے خاص تھے۔ یہاں تک کہ 1900ء میں ایشیا سے انڈوتھیا نام کی بیماری کا ورود ہوا۔ وقت تک یہ جنگلات کا بادشاہ خیال کیا جاتا تھا۔ مگر اب جنگلات میں یہ درخت ناپید ہو چکا ہے۔ لیکن جنگلات کے یہ شگاف جلد ہی پر ہو گئے۔ کچھ دوسرے درخت (Tulip Trees)
اپنی نشوونما کے لیے شاید اُنھیں شگافوں کا انتظار کر رہے تھے۔ شگاف پیدا ہونے سے پہلے تک یہ درخت جنگلات کا معمولی جزو تھے اور شاذ ہی بڑھتے اور پھولتے تھے۔ لیکن اب شاہ بلوط کی عدم موجودگی کا کسی کو احساس تک نہیں ہوتا۔ کیونکہ اب دوسری قسم کے درخت پوری طرح ان کی جگہ لے چکے ہیں۔ درخت سال بھر میں ایک انچ محیط میں اور چھ فٹ لمبائی میں بڑھتے ہیں۔ اتنی تیزی کے ساتھ بڑھنے کے علاوہ بہترین لکڑی جو بالخصوص باریک تہوں کے کام آسکتی ہے، ان سے حاصل کی جاتی ہے۔ اسی صدی کا واقعہ ہے۔ ناگ پھنی کی ایک قسم آسٹریلیا میں کھیتوں کی باڑھ قائم کرنے کے لیے بوئی گئی ہے۔ آسٹریلیا میں اس ناگ پھنی کا کوئی دشمن کیڑا نہیں تھا۔ چنانچہ وہ بہت تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئی۔ یہاں تک کہ انگلینڈ کے برابر رقبہ پر چھا گئی۔ وہ شہروں اور دیہاتوں میں آبادی
کے اندر گھس گئی، کھیتوں کو ویران کر دیا۔ اور زراعت کو ناممکن بنا دیا۔ کوئی تدبیر بھی اس کے خلاف کار گر ثابت نہیں ہوتی تھی۔ ناگ پھنی آسٹریلیا کے اوپر ایک ایسی فوج کی طرح مسلط تھی جس کا اس کے پاس کوئی توڑ نہیں تھا۔ بالآخر ماہرین حشرات الارض دنیا بھر میں اس کا علاج تلاش کرنے کے یہاں تک کہ ان کی رسائی ایک کیڑے تک ہوئی جو صرف ناگ پھنی کھا کر زندہ رہتا تھا۔ اس کے سوا اس کی کوئی خوراک نہیں تھی۔ وہ بہت تیزی سے اپنی نسل بڑھاتا تھا اور آسٹریلیا میں اس کا کوئی دشمن نہیں تھا۔ اسی کیڑے نے آسٹریلیا میں ناگ پھنی کی ناقابل تسخیر فوج پر قابو پالیا اور اب وہاں سے اس مصیبت کا خاتمہ ہو گیا۔
قدرت کے نظام میں یہ ضبط و توازن (checks and balances) کی عظیم تدبیریں کیا کسی شعوری منصوبے کے بغیر خود بخود وجود میں آ جاتی ہیں۔
کائنات میں حیرت انگیز طور پر ریاضیاتی قطعیت پائی جاتی ہے۔ یہ جامد بے شعور مادہ جو ہمارے سامنے ہے، اس کا عمل غیر منظم اور بے ترتیب نہیں بلکہ وہ متعین قوانین کا پابند ہے۔ لفظ خواہ دنیا کے جس خطہ میں اور جس وقت بھی بولا جائے، اس کا ایک ہی مطلب ہوگا—ایک ایسا مرکب جس میں 11.1 فی صد ہائیڈروجن اور 88.9 فی صد آکسیجن۔ ایک سائنسداں جب تجربہ گاہ میں داخل ہو کر پانی سے بھرے ہوئے ایک پیالے کو گرم کرتا ہے تو وہ تھرمامیٹر کے بغیر یہ بتا سکتا ہے کہ پانی کا نقطۂ جوش 100 سینٹی گریڈ ہے جب تک ہوا کا دباؤ (atmospheric pressure) 760 اگر ہوا کا دباؤ اس سے کم ہو تو اس حرارت کو لانے کے لیے کم طاقت درکار ہوگی جو پانی کے سالمات کو توڑ کر بخارات کی شکل دیتی ہے۔ اس طرح نقطۂ جوش سو درجے سے کم ہو جائے گا۔ کے برعکس اگر ہوا کا دباؤ 760 ایم۔ ایم سے زیادہ ہو تو نقطۂ جوش بھی اسی لحاظ سے زیادہ ہو جائے گا۔ تجربہ اتنی بار آزمایا گیا ہے کہ اس کو یقینی طور پر پہلے سے بتایا جا سکتا ہے کہ پانی کا نقطۂ جوش کیا ہے۔ مادہ اور توانائی کے عمل میں یہ نظم اور ضابطہ نہ ہوتا تو سائنسی تحقیقات اور ایجادات کے لیے کوئی بنیاد نہ کیونکہ پھر اس دنیا میں محض اتفاقات کی حکمرانی ہوتی اور علمائے طبیعیات کے لیے یہ بتانا ممکن نہ
رہتا کہ فلاں حالت میں فلاں طریق عمل کے دہرانے سے فلاں نتیجہ پیدا ہو گا۔ کیمیا کے میدان میں نو وارد طالب علم سب سے پہلے جس چیز کا مشاہدہ کرتا ہے وہ عناصر میں نظم اور دوریت ہے۔ سو سال پہلے ایک رواسی ماہر کیمیا منڈیلیف (Mendeleev) نے جوہری قدر کے لحاظ سے مختلف کیمیائی عناصر کو ترتیب دیا تھا جس کو دوری نقشہ (periodic chart) کہا جاتا ہے۔ اس وقت تک موجودہ تمام عناصر دریافت نہیں ہوئے تھے اس لیے اس کے نقشہ میں بہت سے عناصر کے خانے خالی تھے جو عین اندازے کے مطابق بعد کو پر ہوگئے، ان نقشوں میں سارے عناصر جو ہری نمبروں کے تحت اپنے اپنے مخصوص گروپوں میں درج کیے جاتے ہیں ۔ جوہری نمبر سے مراد مثبت برقیوں (protons) کی وہ تعداد ہے جو ایٹم کے مرکز میں موجود ہوتی ہے۔ یہی تعداد ایک عنصر کے ایٹم اور دوسرے عنصر کے ایٹم میں فرق پیدا کر دیتی ہے۔ ہائیڈروجن جو سب سے سادہ عنصر ہے، اس کے ایٹم کے مرکز میں ایک پروٹون ہوتا ہے۔ ہیلیم میں دو اور لیتھیم میں تین مختلف عناصر کی جدول تیار کرنا سی لیے ممکن ہو سکا ہے کہ ان میں حیرت انگیز طور پر ایک ریاضیاتی اصول کار فرما ہے۔ نظم و ترتیب کی اس سے بہتر مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ عنصر نمبر 101 کی شناخت محض اس کے 17 پروٹونوں کے مطالعہ سے کر لی گئی ۔ قدرت کی اس حیرت انگیز تنظیم کو ہم دوری اتفاق (periodic chance) نہیں کہتے بلکہ اس کو دوری ضابطہ (periodic law) کہتے ہیں۔ مگر نقشہ اور ضابطہ جو یقینی طور پر نظم اور منصوبہ ساز کا تقاضا کرتے ہیں، اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید سائنس اگر خدا کو نہ مانے تو وہ خود اپنی تحقیق کے ایک لازمی نتیجہ کا انکار کرے گی۔
’’ 11 اگست 1999ء میں ایک سورج گرہن واقعہ ہوگا جو کار نوال (Cornwall) میں مکمل طور پر دیکھا جا سکے گا‘‘۔ یہ محض ایک قیاسی پیشین گوئی نہیں ہے بلکہ علمائے فلکیات یقین رکھتے ہیں کہ نظام شمسی کے موجودہ گردشی نظام کے تحت اس گہن کا پیش آنا یقینی ہے۔ جب ہم آسمان میں نظر ڈالتے ہیں تو ہم لا تعداد ستاروں کو ایک نظام میں منسلک دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں۔ ان گنت صدیوں سے اس فضائے بسیط میں جو عظیم گیندیں معلق ہیں وہ ایک ہی معین راستے پر گردش کرتی چلی جا رہی ہیں۔
اپنے مداروں میں اس نظم کے ساتھ آتی اور جاتی ہیں کہ ان کے جائے وقوع اور ان کے درمیان ہونے والے واقعات کا صدیوں پیشتر بالکل صحیح طور پر اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ پانی کے ایک حقیر قطرے سے لے کر فضائے بسیط میں پھیلے ہوئے دور دراز ستاروں تک ایک فقید المثال نظم و ضبط پایا جاتا ہے۔ کے عمل میں اس درجہ یکسانیت ہے کہ ہم اس بنیاد پر قوانین مرتب کرتے ہیں۔ نیوٹن کا نظریہ کشش فلکیاتی کروں کی گردش کی توجیہہ کرتاہے۔ اس کے نتیجے میں جے سی ایڈمس (J. C. Adams) اور لا ویرے (U. Le Verrier) کو وہ بنیادی جس سے وہ دیکھے بغیر ایک ایسے سیارے کے وجود کی پیشین گوئی کر سکیں جو اس وقت تک نامعلوم تھا۔ چنانچہ ستمبر 1846ء کی ایک رات کو جب برلن آبزرویٹری کی دوربین کا رخ آسمان میں ان کے بتائے ہوئے مقام کی طرف کیا گیا تو فی الواقع نظر آیا کہ ایسا ایک سیارہ نظام شمسی میں موجود ہے جس کو اب ہم نیپچون (Neptune) کے نام سے جانتے ہیں۔
کس قدر نا قابل قیاس بات ہے کہ کائنات میں یہ ریاضیاتی قطعیت خود بخود قائم ہو گئی ہے۔ کراچی (پاکستان) میں انٹر نیشنل بک فیر 15 .Nov 12 سے 15 .Nov 16، ایکسپو سنٹر، یونیورسٹی روڈ میں منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں Center for Peace & Spirituality کے سٹال سے مولانا وحید الدین خاں کی تمام کتابیں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ سی پی ایس بہار ۔ جھارکھنڈ کی ٹیم 13 دسمبر 2015 کو در بھنگہ کا دورہ کرے گی ۔ اس دورے کا مقصد دعوتی مواقع کو استعمال کرنا اور قارئینِ الرسالہ کو منظم کرنا ہے۔ دسمبر کے آخری ہفتہ میں کشن گنج کا بھی دورہ کرے گی۔ A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)