Al-Risala · December 2015

Mob. 09308477841, 09852208744

Al-Risala, December 2015, pp. 26–27

By Maulana Wahiduddin Khan

1947 کے بعد سے کشمیر میں آزادی کے نام پر علاحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔ پر اب تقریباً ستر سال گزر چکے ہیں۔ اس نام نہاد آزادی کی تحریک سے کشمیریوں کو اب تک عملاً صرف بربادی حاصل ہوئی۔ بالفرض اگر آزاد کشمیر بن جائے تو اس سے کشمیریوں کی بربادی میں صرف اضافہ ہوگا اور کچھ نہیں۔

کشمیر کے لیے ایک عبرت ناک مثال اریٹیریا (Eritrea) کی ہے۔ اریٹیریا پہلے ایتھوپیا کا ایک حصہ تھا۔ اریٹیریا کی آبادی میں تقریبا نصف مسلمان بستے ہیں۔ ان مسلمانوں نے آزاد اریٹیریا کے نام پر متشددانہ تحریک چلائی۔ اس میں بہت سے لوگ مارے گئے۔ آخر کار 1993 میں اقوام متحدہ (UNO) کے تحت ریفرنڈم ہوا۔ اس کے بعد اریٹیریا وجود میں آیا۔ مگر نتیجہ کیا ہوا۔ عملاً صرف یہ ہوا کہ اریٹیریا کے حالات اتنے زیادہ خراب ہو گئے کہ لوگ بھاگ کر باہر جانے لگے۔ یہ واقعہ بظاہر مہاجرت ہے، مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ مایوسانہ فرار ہے۔ آن لائن انسائیکلوپیڈیا، وکی پیڈیا کے مطابق، اریٹیریا سے اس مہاجرت کا سبب ملک میں شدید غربت اور تشدد کا ماحول ہے:

Emigration from the country is occurring due to poverty کینیا میں قائم شدہ آرگنائزیشن ( The Regional Mixed Migration Secretariat [RMMS]) کے ایک سروے کے مطابق، اریٹیریا دنیا کے غریب ترین ملکوں میں سے ایک ہے:

Eritrea is one of the poorest countries in the world. یہ تجربہ کشمیریوں کے لیے ایک چشم کشا واقعہ ہے۔ کشمیر اگر بالفرض ایک آزاد ملک

بن جائے تو یقینی طور پر اس کا انجام وہی ہوگا جو اریٹیریا کا ہوا۔ یعنی آزاد کشمیر کے نام پر ایک برباد کشمیر کا وجود میں آنا۔ کشمیریوں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں نتیجہ کو دیکھیں نہ کہ صرف لیڈروں کے خوب صورت نعرے کو۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث موطا امام مالک، مسند احمد، سنن الترمذی، سنن ابن ماجہ، اور صحیح ابن حبان، وغیرہ کتب حدیث میں آئی ہے۔ سنن الترمذی کے الفاظ یہ ہیں: إن من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيہ۔ (حدیث نمبر (2318) یعنی بے شک اسلام کی ایک خوبی یہ ہے کہ انسان اس چیز کو چھوڑ دے جس میں اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ مشہور محدث ابو داؤد (وفات 275ھ) نے اس حدیث کی شرح کے تحت لکھا ہے: يكفي الإنسان لدينہ أربعة أحاديث أحدها قوله صلى اللہ علیہ وسلم الأعمال بالنيات، والثاني قوله من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيہ الخ۔ (معالم السنن، (4/365) یعنی انسان کو اپنے دین کے لیے چار احادیث کافی ہیں۔ ان میں سے ایک مذکورہ حدیث ہے۔ یعنی بے نتیجہ کام کو چھوڑ دینا۔

انسان اپنے ذہن کے تحت ایک کام شروع کرتا ہے۔ درمیان میں اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا منصوبہ غلط تھا، اس کا منصوبہ مطلوب نتیجہ پیدا کرنے والا نہ تھا۔ جب یہ حقیقت معلوم ہو تو سچے مسلمان کو چاہیے کہ وہ فوراً اپنے غلط اندازے کا اعتراف کرتے ہوئے اس عمل کو چھوڑ دے۔ اور تجربات کی روشنی میں اپنے عمل کی نئی منصوبہ بندی کرے۔ یہی طریقہ اسلام کے مطابق ہے، اور یہی طریقہ دانش مندی

تقریباً ستر سال کا عمل اور اریٹیریا جیسے ملکوں کی مثال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کشمیریوں کی نام نہاد تحریک آزادی یقینی طور پر ایک بے نتیجہ تحریک ہے۔ ایسی حالت میں کشمیر کے مسلمانوں پر فرض ہے کہ وہ اعلان کر دیں کہ ماضی میں ہم نے غلطی کی، اب ہم اپنے عمل کی تصحیح کرتے ہیں۔ یعنی کشمیر کے موجودہ ڈھانچے کو تسلیم کرتے ہوئے تعمیر و ترقی کا منصوبہ بنانا۔ حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں کا نشانہ آزاد کشمیر کے بجائے ترقی یافتہ کشمیر ہونا چاہیے۔

Printed page