Al-Risala · December 2015

جنگ، اسلام میں

Al-Risala, December 2015, pp. 29–32

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کی آئیڈیالوجی توحید ہے۔ اسلام کی تمام تعلیمات دراصل توحید کے بنیادی تصور پر مبنی اسلام کی دوسری تعلیم امن ہے۔ امن کی اہمیت عملی ضرورت کے اعتبار سے ہے۔ اسلام کا اصل مقصد اصلاح انسان ہے۔ اور اس قسم کے مقصد کو صرف امن کے حالات میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ امن معتدل حالات کا ذریعہ ہے۔ اور معتدل حالات کو ممکن بنا دیتے ہیں۔ اسلام میں جنگ کوئی مستقل اصول نہیں، اسلام میں جنگ قانون ضرورت (law of necessity) کے تحت پیش آنے والا ایک وقتی عمل ہے، نہ کہ کسی ابدی اصول کے تحت کیا جانے والا مستقل عمل۔ اسلام میں جنگ کا حکم سمجھنے کے لیے قرآن کی دو آیتوں کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ 1 - اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) اور ان سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنه باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لئے ہو جائے۔ یہ جنگ کی وہ قسم ہے جو اسلام کے دور اول میں وقتی ضرورت کے تحت پیش اب یہ ضرورت باقی نہیں رہی۔ اس لیے اب ختم فتنہ کے نام پر جنگ کا کوئی جواز باقی نہیں رہا۔ قدیم زمانے میں مذہبی آزادی (religious freedom) کو مسلمہ انسانی حق کی حیثیت حاصل نہ تھی، اب مذہبی آزادی ایک مسلمہ انسانی حق کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس لیے اب دنیا میں نہ فتنه ہے، نہ فتنے کے نام پر جنگ کا کوئی جواز۔

قرآن کی اس آیت میں فتنے سے مراد شرک جارح (aggressive shirk) ہے۔ کی زبان میں اس کو مذہبی جبر (religious persecution) کہا جا سکتا ہے۔ قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے دنیا میں شخصی بادشاہت کا نظام قائم تھا۔ اس سیاسی نظام کے تحت مذہب کے معاملے میں انسان کے لیے کوئی آزادانہ چوائس (choice) موجود نہ تھا۔ اس زمانے کا اصول یہ تھا کہ جو حکومت کا مذہب، وہی عوام کا مذہب۔ مذہب حکومت سے وفاداری کی علامت سمجھا جاتا تھا۔

کے آفیشیل مذہب کے سوا کوئی اور مذہب اختیار کرنا، حکومت سے بغاوت کے ہم معنی تھا۔ اس لیے وہ جرم مستوجب سزا (cognizable offence) کی حیثیت رکھتا تھا۔

یہ صورتِ حال جو قدیم بادشاہت (kingship) کے تحت قائم تھی، وہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation plan of God) کے خلاف تھی۔ تخلیقی نقشہ کے مطابق ہر انسان کو پوری آزادی دی گئی ہے کہ وہ اپنے لیے جس مذہب کو چاہے اختیار کرے (29:18)۔ مگر بادشاہی نظام کے تحت مذہب انسان کے لیے ذاتی انتخاب کا مسئلہ نہ تھا بلکہ وہ جبر (compulsion) کا مسئلہ بنا ہوا تھا۔ یہ گویا خالق کے قائم کردہ تخلیقی نظام کو کالعدم (abolish) کرنے کے ہم معنی تھا۔ خالق کے نزدیک یہ ایک نا قابل قبول چناں چہ اللہ نے رسول اور اصحابِ رسول کو یہ حکم دیا کہ وہ اس فتنے کو بزور ختم کر دیں۔ تا کہ خدا کا منصوبہ اپنی اصل حالت پر قائم ہو جائے۔ یہی وہ خدائی منصوبہ ہے جس کا حکم اس آیت میں موجود ہے۔ یہ عمل (operation) پیغمبر اسلام کے زمانے میں شروع ہوا، اور خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کے زمانے میں وہ اپنی تکمیل کو پہنچا۔ اس کے بعد ایک انقلابی عمل جاری ہوا جس کے نتیجے میں دنیا سے مذکورہ فتنہ کی حالت ختم ہو گئی۔ اس لیے اب اس مقصد کے لیے جنگ کی ضرورت عملاً باقی نہیں رہی۔ اس معاملے کی وضاحت صحابیِ رسول عبد اللہ ابن عمر (وفات: 73ھ) کے ایک واقعے سے خلیفہ ثانی عمر بن خطاب کی وفات سن 23ھ میں ہوئی ہے۔ اس کے کچھ عرصہ بعد مسلم دنیا میں سیاسی انارکی کی صورت پیدا ہو گئی۔ اس زمانے میں عبد اللہ بن زبیر (وفات: 73ھ) اور اموی حکومت کے درمیان جنگ شروع ہو گئی۔ عبد اللہ بن عمر اس کے خلاف تھے، انھوں نے اس جنگ میں شرکت نہ کی۔ اس زمانے میں کچھ مسلمان آپ کے پاس آئے، اور کہا کہ آپ اس جنگ میں کیوں شریک نہیں ہیں، حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ فتنہ کے خلاف جنگ کرو (8:39)۔ عبد اللہ ابن عمر نے جواب دیا کہ تمھاری جنگ کا اس آیت سے کوئی تعلق نہیں۔ قرآن کی یہ آیت جس جنگ کے بارے میں تھی، اس جنگ کی ضرورت اب ختم ہو چکی ہے۔ اس موقع پر انھوں نے کہا: قد فعلنا علی عہد رسول الله صلى الله عليه وسلم (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4650) یعنی وہ جنگ ہم رسول اللہ

کے زمانے میں کر چکے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ختم فتنہ کی جنگ ایک مخصوص حالت کی جنگ تھی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں شروع ہوئی۔ اور اس کے نتیجے میں مکہ سے مشرکین کا سماجی اور سیاسی غلبہ ختم ہو گیا۔ یہ جنگ صحابہ کے زمانے میں مزید جاری رہی۔ یہاں تک کہ حضرت عمر بن خطاب کے زمانے میں وہ تکمیل تک پہنچ گئی۔ جب کہ ایک طرف ساسانی سلطنت (Sassanid Empire) اور دوسری طرف بازنطینی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔ اس کے بعد عملاً دنیا میں مذہبی جبر کی جگہ مذہبی آزادی کا دور شروع ہو گیا۔ یہ عمل (process) مزید جاری رہا۔ یہاں تک کہ یورپ میں جمہوری انقلاب آنے کے بعد وہ آخری طور پر مکمل ہو گیا۔ اب نہ وہ فتنہ ہے، اور نہ اس فتنے کے نام پر کسی جنگ کی ضرورت۔ اس سلسلے میں قرآن کی دوسری آیت کے الفاظ یہ ہیں: فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ (9:7) یعنی جب تک وہ تم سے سیدھے (پرامن) رہیں تم بھی ان سے سیدھے قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں دو قوموں کے درمیان کی اس صورتِ حال کا ذکر ہے جس کو صلح و جنگ کا معاملہ کہا جاتا ہے۔ آج کل کی زبان میں اس کو اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ دو قوموں کے درمیان صلح اور جنگ کا معاملہ بین اقوامی قانون کے تحت فیصل ہوگا، بین اقوامی معاہدات کے ذریعے جو اصول طے ہو جائیں، وہی اصول اہلِ اسلام کے لیے بھی قابلِ قبول ہوں گے۔ یعنی بین اقوامی قانون کے مطابق صلح اور بین اقوامی قانون کے مطابق جنگ۔ جنگ کے معاملے میں مسلمانوں کا کوئی الگ اصول نہ ہوگا۔ اس کو مزید تعین کی زبان میں بیان کیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ موجودہ زمانے میں اقوام متحدہ (United Nations) کو تمام قوموں نے باقاعدہ طور پر قبول کر لیا ہے۔ مسلمان بھی اس تنظیم کو دوسری قوموں کی طرح قبول کریں گے۔ وہ دوسری قوموں سے صلح و جنگ کے معاملات کو اقوام متحدہ کے تحت طے کریں گے نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔ حقیقت یہ ہے کہ قتال فتنہ کی آیت (8:39) میں قتالِ خاص کا ذکر ہے۔ اور اس کے مقابلے میں دوسری آیت (9:7) میں حالتِ عام کا ذکر ہے۔ حالتِ خاص کا دور ختم ہو چکا، اب ہم صرف حالت عام کے دور میں ہیں۔ حالتِ عام کے زمانے میں اہلِ اسلام بھی دوسری قوموں کی طرح عالمی

نظام کے پابند ہوں گے۔ اقوام متحدہ (UN) کے تحت جو اصول تمام قوموں کے لیے قابل قبول ہوں، وہی اصول اہل اسلام کے لیے بھی قابل قبول ہوں گے۔

Printed page