Al-Risala · February 2015

Mob. 09755300295, 07556542231

Al-Risala, February 2015, pp. 8–11

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کے ابتدائی دور میں سن آٹھ ہجری میں مکہ فتح ہوا۔ اس کے بعد عرب کے قبائل افواج (النصر: 1) کی صورت میں اسلام میں داخل ہونا شروع ہوئے۔ افواج سے مراد عمومی قبول اسلام (mass conversion) ہے۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تاریخی بات ان الفاظ میں فرمائی تھی: عن جابر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الناس دخلوا في دين الله افواجا وسیخرجون منه افواجاً (مسند احمد: 14696) جابر بن عبد اللہ کہتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ لوگ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوئے، اور عن قریب وہ فوج در فوج اس سے نکل جائیں گے۔

جابر بن عبد اللہ مشہور صحابی ہیں۔ ان کی وفات 78ھ میں ہوئی۔ انھوں نے جنگ صفین (37ھ) کا زمانہ دیکھا تھا، جب کہ مسلمان علی اور معاویہ کی قیادت میں دو گروہوں میں بٹ گئے تھے، اور آپس میں خون ریز جنگ کی تھی۔ یہ مسلم تاریخ کی پہلی سول وار (civil war) تھی۔ میں دونوں فریق کے جو لوگ قتل ہوئے، ان کی مجموعی تعداد تقریباً ستر ہزار تھی (البدایۃ والنہایۃ، ابن کثیر، 7/274)۔

مذکورہ حدیث کے راوی جابر بن عبد اللہ ہیں۔ جابر بن عبد اللہ کے ایک پڑوسی کہتے ہیں کہ میں ایک سفر سے واپس آیا، اس وقت جابر بن عبد اللہ مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ انھوں نے امت کے افتراق اور باہمی جنگ کا ذکر کیا۔ اس پر جابر بن عبد اللہ رو پڑے، انھوں نے روتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ حدیث بیان کی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت کے اندر افتراق اور بگاڑ کے واقعات کیوں پیش اس کا سبب یہ نہیں تھا کہ لوگوں کی نیتوں میں فساد آ گیا تھا، یا ان کے اندر اخلاص ختم ہو گیا تھا۔ اس صورت حال کا واحد سبب وہ ظاہر ہے، جس کو کنڈیشننگ (conditioning) کہا جاتا ہے۔

کنڈیشننگ وہی چیز ہے، جس کو عرب کے ایک قدیم مقولہ میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا تھا: من شب علی شیء شاب علیہ (منار القاري شرح مختصر صحيح البخاري : صفحه 60) یعنی آدمی جس چیز پر جوان ہوتا ہے، اسی پر وہ بوڑھا ہوتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ جوانی کی عمر میں جس ماحول میں آدمی کی کنڈیشننگ ہوتی ہے، اس کا اثر اس کی زندگی میں آخری وقت تک باقی رہتا ہے۔

یہ حقیقت ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: کل مولود یولد علی الفطرة فأبواه يهودانه، أو ينصرانه، أو يمجسانه (صحیح البخاري: 1385) یعنی ہر پیدا ہونے والا فطرت صحیح پر پیدا ہوتا ہے، پھر اس کے والدین اس کو یہودی بنا دیتے ہیں، یا نصرانی بنا دیتے ہیں یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔

مسلم نسلوں میں بعد کے زمانے میں جوبگاڑ پیداہوا، ان سب کا اصل سبب یہی کنڈیشننگ کا عمومی قبولیت اسلام (mass conversion) کی بنا پر لوگ بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوتے چلے گئے۔ دورِ پریس سے پہلے تعلیم و تربیت کا نظام موجود نہ تھا۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ لوگ کلمہ پڑھ کر اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئے، لیکن تربیتی نظام نہ ہونے کی بنا پر ان کی ڈی کنڈیشننگ (deconditioning) نہ ہوسکی۔ وہ مذہب کے اعتبار سے مسلم تھے، لیکن کلچر کے اعتبار سے وہ قدیم کلچرل روایات میں بدستور جیتے رہے۔ کثرت سے احادیث میں یہ پیشگی خبر دی گئی تھی کہ جلد ہی لوگوں کے اندر بگاڑ پیدا ہو جائے گا۔ اس بگاڑ کا سبب عام طور پر فتنہ کو سمجھا جاتا ہے، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے اس کا سبب کنڈیشنگ کا معاملہ تھا، یعنی اپنے قدیم مائنڈ سیٹ (mindset) کے زیر اثر کام کرنا۔

مثال کے طور پر ایک حدیث رسول مختلف کتب حدیث میں آئی ہے۔ یہ حدیث رسول تنبیہ (warning) کی زبان میں ہے۔ اُس کے الفاظ یہ ہیں: أفلا ترجعوا بعدي ضلالاً، يضرب بعضکم رقاب بعض (صحیح البخاري: 4406) یعنی آگاہ، میرے بعد تم لوگ لوٹ کر گمراہ نہ

ہو جانا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔

اس حدیث رسول میں ترجعوا کا لفظ ہے، یعنی سابقہ حالت کی طرف لوٹ جانا۔ حالت وہی تھی، جس سے نکل کر وہ اسلام میں داخل ہوئے تھے، یعنی قبائلی کلچر (tribal culture) اسلام سے پہلے یہ لوگ قبائل کلچر میں جیتے تھے۔ قبائلی کلچر میں ہر آدمی کے پاس تلوار ہوتی تھی۔ میں پرامن تبادلہ خیال (peaceful discussion) کا طریقہ رائج نہ تھا۔ وہ لوگ اختلاف کا حل صرف یہ سمجھتے تھے کہ لڑ کر اس کو طے کیا جائے۔

مزید یہ کہ لڑائی سے مسئلہ ختم نہیں ہوتا تھا۔ کیوں کہ ہارنے والے فریق کے اندر انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا تھا۔ اس طرح عملاً قبائلی دور مسلسل جنگ (chain war) کا دور بن گیا تھا۔ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ تم لوگوں کے اندر فطری طور پر اختلاف پیدا ہوں گے، مگر اس کو پرامن گفتگو کے ذریعہ حل کرنا، ایسا ہرگز نہ کرنا کہ قبائلی کنڈیشننگ (tribal conditioning) کی بنا پر اختلاف کو عذر بنا کر دوبارہ تم آپس میں لڑنا شروع کر دو۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اہل ایمان کی کنڈیشننگ باقی رہی، کیوں کہ اس زمانہ میں اس کی ڈی کنڈیشننگ کا کوئی نظام موجود نہ تھا۔ چنانچہ نہ صرف باہمی جنگ بلکہ ہر اعتبار سے قدیم روایات مسلمانوں کے اندر واپس آگئیں۔

قدیم روایات کی یہ واپسی ان مسلمانوں کے ذریعہ ہوئی، جن کا حال یہ تھا کہ اقرار کلمہ کے اعتبار سے وہ مسلمان ہو کر مسلم سماج میں داخل ہو چکے تھے، لیکن کنڈیشننگ کی بنا پر ان کا مائنڈ سیٹ یا قرآن کے الفاظ میں شاکلہ (17:24) اب بھی وہی تھا، جو قبل اسلام زمانے میں ان کے اندر بنا تھا۔ یہ معاملہ صرف عرب کے نومسلموں کا نہ تھا، بلکہ ان تمام نومسلموں کا تھا، جو بعد کے زمانے میں مختلف ملکوں میں بڑی تعداد میں اسلام کے دائرے میں داخل ہوتے رہے۔

ماضی کی طرف رجوع (return to past) کا یہ معاملہ مختلف اعتبار سے پیش آیا۔ مثلاً اسی بنا پر ایسا ہوا کہ خلفاء اربعہ کے بعد مسلمانوں میں خاندانی سلطنت (dynasty) کا دور آگیا، جو پھر کبھی

ختم نہ ہوا۔ اسی طرح اسلامی عبادت مکمل طور پر مبنی بر فارم (form based) بن گئی، اسی طرح یہ ہوا کہ مسلم تاریخ سیاسی پیٹرن (political pattern) پر لکھی جانے لگی، وغیرہ۔ اس معاملہ کی سب سے زیادہ غیر مطلوب مثال وہ ہے جو مذکورہ حدیث کے مطابق جنگ و تشدد کی صورت میں پیش آئی۔ مسلمانوں کے اندر بعد کے زمانے میں جنگ و تشدد کا جو سلسلہ شروع ہوا اور جو آج تک جاری ہے، وہ دراصل اسی کنڈیشننگ کی بنا پر ہے۔ یہ معاملہ ایک لفظ میں جہاد کے نام پر قدیم قبائلی کلچر کی واپسی کا معاملہ ہے:

Jihad or expansion of tribal culture. مولانا وحید الدین خاں جہاد کا لفظی مفہوم جدوجہد ہے۔ اسلامی جہاد کا مطلب ہے ۔ اسلام کی دعوت واشاعت کے لئے پر امن جد و جہد کرنا۔ دعوت ایک پر امن مشن ہے۔ کے پر امن مشن کے لئے کوشش کرنے کا نام جہاد ہے۔ جہاد تمام تر مثبت ذہن کے تحت انجام پاتا ہے۔ کی اسپرٹ انسان کے ساتھ یک طرفہ ہمدردی ہے۔ جہاد کا تعلق نہ جنگ سے ہے اور نہ سیاست سے اور نہ کسی قسم کے مادی مفاد سے۔ اسی اسلامی جہاد کا دوسرا نام دعوت الی اللہ ہے۔

مولانا وحیدالدین خاں کشمیر میں امن مولانا وحید الدین خان

Printed page