عبادت ، دعوت
Al-Risala, December 2015, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں نماز اور روزہ بھی عبادت ہے، اور دعوت الی اللہ کا کام بھی عبادت ہے۔ میں یک فرق ہے۔ نماز اور روزہ جیسا عمل کامل طور پر اللہ کے لیے ہوتا ہے۔ اس میں انسان کی ساری توجہ ایک اللہ کی طرف ہوتی ہے۔ وہ اللہ سے سب سے زیادہ محبت کرنے لگتا ہے، اور اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے لگتا ہے۔ یہی ان عبادات کا کمال ہے۔
دعوت الی اللہ بھی ایک عبادت ہے مگر یہاں ایک فرق ہے۔ دعوت کا عمل انسان کے اوپر کیا دعوت کا نشانہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا پیغام مدعو کے دل میں اتر جائے۔ مدعو اپنے آپ کو اللہ کے رنگ میں رنگ لے۔
دعوت کا معیار داخلی نیت کے اعتبار سے یہ ہے کہ وہ اللہ کے لیے ہو، لیکن ظاہر کے اعتبار سے داعی کی سرگرمیوں کا نشانہ انسان ہوتا ہے۔ اس لیے دعوت کی کامیابی کا معیار یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر انسان فرینڈلی (human-friendly) ہو۔ وہ یک طرفہ طور پر انسان کی خیر خواہی کے جذبے پر مبنی ہو۔
یہی وجہ ہے کہ دعوت الی اللہ کا کام صبر کے بغیر انجام نہیں دیا جا سکتا۔ اسی لیے دعوت کا حکم دیتے ہوئے قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: ﴿وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ﴾ (74:7) داعی اپنے مدعو سے کسی شرط کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ داعی کو یک طرفہ طور پر خود یہ ذمہ داری لینا ہوتا ہے کہ داعی کی بات مدعو کے دل میں داعی کے اندر اگر یک طرفہ خیر خواہی کا جذبہ نہ ہو تو وہ کبھی دعوت کا کام حقیقی طور پر انجام نہیں قرآن میں داعی کو ناصح (7:68) کہا گیا ہے۔ ناصح کا مطلب خیر خواہ (well-wisher) داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر مدعو کا خیر خواہ ہو۔ اس ایک طرفہ خیر خواہی کے بغیر کوئی شخص اللہ کی نظر میں داعی کا مقام نہیں پا سکتا۔ داعی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مدعو کی ہدایت کا حریص (9:128) بن جائے۔