وإن أنت أكرمت اللئيم تمردا
Al-Risala, December 2015, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
شریف آدمی کا مزاج حقیقت پسندی کا مزاج ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے تو وہ جھک جائے گا، وہ اس کا بھرپور اعتراف کرے گا۔ اس کا حقیقت پسندی کا ذہن اُس کو اس سے روکتا ہے کہ وہ کوئی ایسی بات کہے جو امر واقعہ کے خلاف ہو۔ شرافت اور اعتراف، دونوں ہمیشہ ایک ساتھ پائے جاتے ہیں۔ شریف آدمی اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ اس کے ساتھ اگر کسی نے اچھا سلوک کیا ہے تو وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔
غیر شریف آدمی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ غیر شریف آدمی ایک خود پسند آدمی ہوتا ہے۔ کام کا کریڈٹ خود لینا چاہتا ہے۔ اس مزاج کی بنا پر اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کو اپنا چھوٹا کام بڑا کام دکھائی دیتا ہے، اور دوسرے کا بڑا کام یا تو نظر نہیں آتا یا اصل سے کم نظر آتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ شریف آدمی زندہ قوم کا فرد ہوتا ہے، اور غیر شریف آدمی زوال یافتہ قوم کا فرد۔ زندہ قوم کی صفات میں سے ایک اہم صفت حقیقت واقعہ کا اعتراف ہے۔ قوم کا فرد اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ ایک حقیقت کو جانے، اور وہ اس کا اعتراف نہ کرے۔ برعکس، زوال یافتہ قوم کا حال یہ ہوتا ہے کہ اس کے افراد حساسیت سے خالی ہوجاتے ہیں۔ کے مقابلے میں اپنے آپ کو زیادہ بڑا سمجھنے لگتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جو زوال یافتہ قوم کے افراد کے اندر تمرد پیدا کردیتی ہے یعنی بے اعترافی کا مزاج۔