Al-Risala · December 2015

تیار ذہن

Al-Risala, December 2015, pp. 45–47

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال و جواب کے سلسلے میں اصل اہمیت تیار ذہن (prepared mind) کی ہے۔ الرسالہ اپنے قاری کے اندر یہی تیار ذہن بناتا ہے، اور جب ذہن تیار ہو جائے تو اس کے بعد آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ آسانی کے ساتھ وہ خود ہر سوال کا جواب معلوم کر سکے۔ کوئی شخص اپنے سوال کا جواب اس طرح معلوم یں کر سکتا کہ وہ ایک عالم سے سوال کرے، اور وہ عالم اس کو اس کے سوال کا جواب دے دے۔ بلکہ ضروری ہے کہ سائل اپنے آپ کو ایک تیار وہ مطالعہ کرے، غور و فکر کرے، اور متعلق معلومات حاصل کرے ۔ اس طرح وہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن بنائے گا۔ وہ اس قابل ہو جائے گا کہ جواب دینے والا جب اس کے سوال کا جواب دے تو وہ اس کے جواب کو بھر پور طور پر سمجھ لے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر جواب اپنے آپ میں سائل اگر تیار ذہن نہ ہو تو وہ جواب کی کمی کو اپنی طرف سے پورا کر لیتا ہے، اور پھر وہ جواب اس کے لیے ایک اطمینان بخش جواب بن جاتا ہے۔

اصل یہ ہے کہ ہر سوال کے بہت سے گوشے ہوتے ہیں۔ کوئی جواب ایسا نہیں ہو سکتا کہ وہ سوال کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر لے۔ یہی وجہ ہے کہ سائل کو عام طور پر ایک جواب سے تشفی نہیں جواب سننے کے بعد، سائل کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کو اپنے سوال کا جواب نہیں ملا۔ اس مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ سائل اپنے سوال کو مکمل بنانے کی کوشش کرے، یا جواب دینے والا اپنے جواب کو اتنا مفصل بنائے کہ وہ ہر پہلو کا احاطہ کر لے۔ یہ ایک ناقابل عمل بات ہے۔ بات صرف یہ ہے کہ سائل، سوال کرنے سے پہلے اپنے آپ کو ذہنی اعتبار سے تیار کرے۔ وہ جواب کی کمی خود پورا کرے، نہ کہ جواب دینے والے سے ایسی امید رکھے جو عملاً پوری ہونے والی نہیں۔ اس مسئلے کا واحد حل ہے۔

سوال و جواب میں ماہنامہ الرسالہ کا ایک پابند قاری ہوں۔ آپ کی تحریر ذہن کو کسی حد تک متاثر ضرور کرتی لیکن آپ کے متعلق میں تذبذب کا شکار ہوگیا ہوں۔ کیوں کہ آپ کی تصانیف میں تضاد ہے۔ آپ نے ماہنامہ الرسالہ شمارہ نمبر 436 (مارچ 2013) اور شمارہ نمبر 445 (دسمبر 2013) میں سورہ الاحزاب کی آیت نمبر 21 کا ترجمہ اس طرح لکھا ہے: تمھارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ ہے، اس شخص کے لیے جو اللہ کا، اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرے۔ جب کہ آپ ہی کی تصنیف (اردو) ترجمہ قرآن میں اس آیت کا ترجمہ اس طرح ہے: تمھارے لیے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ تھا، اس شخص کے لیے جو اللہ کا اور آخرت کے دن کا امیدوار ہو، اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔

الرسالہ میں آپ نے اللہ کے رسول میں نمونہ میں بہترین نمونہ ہے“ لکھا ہے، جب کہ ترجمۂ قرآن میں اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ تھا‘ لکھا ہے۔ آپ کے مطابق اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ تھا تو کیا ہمارے لیے اللہ کے رسول اب بہترین نمونہ نہیں رہے؟ اور اگر اللہ کے رسول بہترین رول ماڈل نہیں ہیں تو ہمیں کس کی پیروی کرنی چاہیے؟ یہ بہت ہی سنگین معاملہ ہے۔ الفاظ کی معمولی تبدیلی سے ایمان تبدیل ہوجاتا ہے۔ آپ کی تحریر میں یہ تضاد آپ کے ایمان پر سوالیہ نشان کھڑا اگر یہ غلطی چھپائی کے دوران ہوئی ہے تو اس معاملے کی تحقیق کرکے آپ اس کتاب کی اشاعت روک دیں۔ اب تک یہ کتاب لاکھوں لوگوں کے درمیان پہنچ چکی ہے۔ آپ نے قرآن کو copyright free کیا ہے۔ اس طرح تو کوئی بھی شخص اس میں کوئی بھی تبدیلی کر کے اس کو شائع کر سکتا ہے۔ جب کہ کوئی بھی مصنف اپنی تصنیف کو copyright reserved رکھتا ہے۔ آپ نے یہ غلطی جان بوجھ کر کی ہے تو میدان محشر میں آپ کن لوگوں کی صف میں کھڑے ہوں گے، اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ اگر آپ نے اس غلطی کی اصلاح نہیں کی تو میں اس معاملہ کو مسلم علماء

اور مسلم میڈیا کے سامنے پیش کروں گا۔ اس لیے آپ اس معاملے کو فوری طور پر حل کریں ، اور مجھے اس سے مطلع فرمائیں۔ (شیخ آصف، بلڈانہ، مہاراشٹر)

عربی زبان میں کَانَ‘ کا لفظ وسیع معنی میں آتا ہے۔ کبھی ماضی کے معنی میں ، جیسے وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ (27:48)، اور کبھی حال کے معنی میں، جیسے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (3:110)، اور کبھی مستقبل کے معنی میں، جیسے مَا كَانَ لَكُمْ أَن تُنْبِتُوا شَجَرَهَا تاہم ترجمہ کے اس فرق سے معنی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔ چنانچہ قرآن کے اردو مترجمین نے دونوں ترجمے کیے ہیں۔ ہے کا ترجمہ بھی، اور تھا کا ترجمہ بھی۔ مثلاً قرآن کی آیت لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثِيرًا (33:21) میں دونوں قسم کے ترجمے کیے گئے ہیں۔ شاہ رفیع الدین صاحب نے اس آیت میں کَانَ کا ترجمہ ہے کے ساتھ کیا ہے اور شاہ عبدالقادر صاحب اور مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے اس آیت میں کَانَ کا ترجمہ تھا کے ساتھ کیا ہے۔

آپ سے گزارش ہے کہ اس طرح کا سوال کرنے میں کبھی جلدی نہ کریں کیوں کہ حدیث میں آیا ہے: العجلة من الشيطان ۔ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 4058) اس معاملے میں آپ کو چاہیے تھا کہ آپ پہلے لغات اور تراجم کو دیکھ کر تحقیق کرتے۔ پھر اس کے بعد اپنا خط تحریر فرماتے۔ سوال و جواب کا یہ طریقہ احتیاط کے خلاف ہے۔

اسی طرح اس خط میں درج ہے کہ آپ کی تحریر میں یہ تضاد آپ کے ایمان پر سوالیہ نشان کھڑا “ یہ جملہ لکھنے سے پہلے آپ کو اس حدیث پر غور کرنا چاہیے تھا جس میں آیا ہے: لا يرمي رجل رجلا بالفسق، ولا يرميه بالكفر إلا ارتدت عليه إن لم يكن صاحبه كذلك (مسند احمد، حدیث نمبر (21571) ایک شخص جب بھی کسی پر دوسرے شخص پر فسق کا الزام لگاتا ہے، یا اس پر کفر کا الزام لگاتا ہے تو ضرور وہ خود اس کی طرف لوٹ آتا ہے، اگر دوسرا شخص ایسا نہ ہو۔

Printed page