دعا کی قبولیت کا معاملہ
Al-Risala, February 2015, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
روایت میں آتا ہے کہ مکی دور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو شخصوں کے بارے میں ہدایت کی دعا کی ۔ اس دعا کے الفاظ یہ تھے : اللهم اعزّ الإسلام بأحب هذين الرجلين إليك بعمر و بن هشام أو بعمر بن الخطاب (الترمذي، رقم الحديث: 3681) یعنی اے اللہ، ان دو شخصوں میں سے اپنے محبوب تر شخص کے ذریعہ اسلام کو طاقت دے، عمر و بن ہشام یا عمر بن خطاب۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قبول حق سے پہلے ہی کوئی شخص اللہ کو محبوب بن جاتا ہے۔ میں محبوبیت سے مراد طالب ہدایت ہونا ہے۔ دعا کا مطلب یہ ہے کہ دونوں میں سے جس شخص کے اندر ہدایت کی طلب پائی جاتی ہو، اُس کو اسلام کی توفیق دے، اور اس کو اسلام کے لیے حامی و ناصر بنادے۔ اللہ کی محبت اس شخص کے لیے ہے جو حق کو قبول کرے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی شخص قبول حق سے پہلے اللہ کا محبوب بندہ بن جائے ۔ کوئی شخص قبول حق سے پہلے اپنی جس صلاحیت کی بنا پر اللہ کی نظر عنایت کا مستحق بنتا ہے، وہ یہ ہے کہ اُس کے اندر حق کی تلاش کا جذبہ موجود ہے یا نہیں ۔ شخص حق کا طالب نہ ہو تو وہ اللہ کی نظر عنایت کا مستحق نہیں بنے گا، لیکن جس شخص کے اندر حق کی طلب پائی جائے، اس کو ضرور اللہ کی مدد پہنچے گی ۔ اللہ کی عنایت سے اس کو حق قبول کرنے کی توفیق حاصل پھر ایسا ہوگا کہ جو چیز پہلے اس کے دل میں طلب کے درجہ میں تھی، اب وہ اس کے لیے اعلان کی صورت حاصل کر لے گی ۔ اس حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ فِيهِمْ خَيْرًا لَّأَسْمَعَهُمْ (8:23) یعنی اور اگر اللہ کو ان کے بارے میں خیر کا علم ہوتا تو وہ ان کو ضرور سننے کی توفیق دیتا۔ قرآن کی اس آیت میں خیر سے مراد حق کی طلب ہے۔ ایک انسان کو اللہ کی مدد کا استحقاق ہمیشہ اُس کی اپنی طلب پر ہوتا ہے۔ جس آدمی کے اندر حق کی طلب پائی جائے، اس کو ضرور اللہ کی توفیق حاصل ہوگی ، اور وہ حق کو قبول کر کے اپنی طلب کی تکمیل کرے گا۔ اس کے برعکس جو آدمی خود حق کا طالب نہ ہو، اس کو محض دعا کے ذریعہ قبول حق کا درجہ نہیں مل سکتا۔