Al-Risala · January 2015

ہدایت، دین حق

Al-Risala, January 2015, pp. 6–7

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ التوبہ میں ایک تاریخی حقیقت کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: ہُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۥ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ یعنی اسی نے اپنے رسول کو بھیجا ہے ہدایت اور دین حق کے ساتھ تاکہ اس کو سارے دین پر غالب کر دے، خواہ یہ شرک کرنے والوں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔

قرآن کی اس آیت میں دو لفظ استعمال ہوئے ہیں، ہدی اور دین حق۔ یہ دونوں لفظ ایک ہی حقیقت کے دو مختلف پہلو ہیں۔ ہدی سے مراد خدا کا محفوظ ہدایت نامہ preserved book of guidance (divine، اور دین حق سے مراد اس حقیقت الہی کا ایک ثابت شدہ واقعہ (established fact ہونا۔

جہاں تک ہدی کا تعلق ہے، وہ نزول کے وقت ہی سے ایک محفوظ ہدایت نامہ ہے۔ اس اعتبار سے کسی اضافے کی ضرورت نہیں۔ مگر جہاں تک اس کے دوسرے پہلو کا معاملہ ہے، وہ ایک لمبے تاریخی عمل کے دوران اپنی آخری تکمیل تک پہنچے گا۔ اس عمل میں وہ لوگ بھی حصہ لیں گے، جو صاحب ایمان ہیں، اور وہ لوگ بھی بالواسطہ طور پر اس کا حصہ بنیں گے جو ایمان کا دعوی نہیں رکھتے۔ خدائی ہدایت کے محفوظ ہونے کا معاملہ قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان ہوا ہے: إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (15:9)۔ یعنی یہ یاد دہانی (قرآن) ہم نے اتاری، اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔ قرآن کے متن کی یہ حفاظت اتنی کامل صورت میں ہوئی ہے کہ اس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ حفاظت اولاً حفظ (memorization) کے ذریعہ ہوئی، اس کے بعد کا غذ پر کتاب کی صورت میں ہوئی۔ اب یہ حفاظت مزید اضافہ کے ساتھ انٹرنیٹ کے ذریعہ ہو رہی ہے۔

اس معاملے کا دوسرا پہلو، یعنی ہدایت ربانی (دین حق) کا براہین و حجج کے ذریعہ آخری حد تک

مدلل ہونا بھی اب ایک واقعہ بن چکا ہے۔ اس واقعہ کی پیشگی اطلاع قرآن کی اس آیت میں دی گئی تھی: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53) یعنی ہم عنقریب ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ (قرآن) حق ہے۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں جس چیز کو اظہار دین کہا گیا ہے، اس سے مراد یہی اظہار ہے۔ اظہار دین میں کسی پولینڈیکل غلبہ کا ذکر نہیں ہے، بلکہ اس سے وہ غلبہ مراد ہے، جو آئیڈیا لوجی کے ذریعہ ہوتا یعنی حجج و براہین (عقلی دلائل) کے ذریعہ غلبہ۔ اظہار دین بذریعہ دلائل کے دو دور ہیں، روایتی دور اور سائنسی دور۔ قدیم دور روایتی دور تھا۔ اس دور میں علما اور متکلمین نے اپنے زمانے کے عقلی معیار کے مطابق قرآن کو مدلل بنایا، یہاں تک کہ ان کے معاصرین کو قرآن کی صداقت پر کوئی شبہ باقی نہ رہا۔ موجودہ زمانہ سائنس کا زمانہ ہے، اس دور کو عقل کا دور (age of reason) کہا جاتا ہے۔ دور میں بھی یہ واقعہ پیش آ چکا ہے کہ جو نئے حقائق ظاہر ہوئے ہیں، انہوں نے کسی بھی درجہ میں قرآن کی صداقت کو مشتبہ نہیں کیا ہے، بلکہ انھوں نے قرآن کی صداقت کو از سر نو مزید مدلل بنا دیا ہے۔ موجودہ زمانہ علم کے انفجار (knowledge explosion) کا زمانہ ہے۔ نئی تحقیقات کے ذریعہ جو ڈاٹا (data) حاصل ہوا ہے، اس نے غور وفکر کے دائرے کو بہت بڑھا دیا ہے۔ اس طرح جو فریم ورک بنا ہے، وہ تمام تر ایک نیا اور وسیع تر فریم ورک ہے۔ اس نئے فریم ورک نے صرف یہ کیا ہے کہ اس نے اللہ کے دین کو زیادہ سمجھنے اور اس کو زیادہ یقین کے ساتھ اختیار کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔ بھوپال (مدهیه پردیش) میں الرسالہ اور مطبوعات الرسالہ کے لئے رابطہ قائم کریں: Imami Gate Bus Stop, Imami Gate Bhopal-462 001, M.P.

Printed page