Al-Risala · February 2015

دعوتِ ان ایکشن

Al-Risala, February 2015, pp. 22–25

By Maulana Wahiduddin Khan

6 اکتوبر 2014 کی صبح کو موبائل پر ایک میسج آیا۔ یہ میسج محبوب بھائی (ممبئی) نے بھیجا تھا۔ ممبئی کی سی پی ایس ٹیم حال میں ناندیڑ گئی تھی۔ یہ میسج اسی وزٹ کے بارے میں تھا۔ میسج میںانھوں نے

We have very encouraging news from Nanded. Today the first monthly Dawah Meet was held at Abdur Rahman Chaus’s house after Isha prayer. Six people participated in this first meeting. Besides other things they discussed plans to meet mad‘us in Nanded and surrounding areas. Monthly meets have started at almost all places visited by the CPS Mumbai team, alhamdulillah. (Mob. 9619163993)

ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران محبوب بھائی نے بتایا کہ ہم لوگوں نے مہاراشٹر میں دعوتی اسفار کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اس کے دوران ایک عجیب تجربہ سامنے آیا۔ ہماری ٹیم جس مقام پر جاتی ہے، وہاں الرسالہ کے قارئین بڑی تعداد میں جمع ہوجاتے ہیں، اور باقاعدہ دعوتی سرگرمی شروع کردیتے ہر جگہ ہفتہ وار اجتماع، یا ماہانہ اجتماع کیا جانے لگا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہماری ٹیم جہاں جاتی ہے، وہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ اگر ممبئی کی ٹیم ہمارے یہاں آکر کام کرسکتی ہے تو ہم کیوں نہیں کرسکتے۔ مقابلہ (competition) کی اسپرٹ، ایک صحت مند اسپرٹ ہے۔ اس کو قرآن میں تَنَافُس (83:26) کہا گیا ہے۔ یہ انسان کی ایک اعلیٰ خصوصیت ہے۔ ضرورت ہے کہ اس کو ہر جگہ استعمال کیا جائے ۔ الرسالہ کے قارئین کا حلقہ تقریباً ہر مقام پر موجود ہے۔ ہر اسٹیٹ میں ایسا ہونا چاہئے کہ مرکزی شہر کی سی پی ایس ٹیم مختلف مقامات پر جائے، اور قارئین الرسالہ کو جمع کرے۔ طرح لوگوں کے اندر ایک نئی بیداری پیدا ہوجائے گی۔

قرآن میں السائحون اور سائحات کے الفاظ ان لوگوں کے لئے آئے ہیں جو

سفری سرگرمیوں کے ذریعہ دعوت کا کام کرتے ہیں۔ آج کل کی زبان میں اس کو دعوہ ان ایکشن (Dawah in action) کہا جا سکتا ہے۔ دعوت کے کام کو بڑھانے کے لئے یہ طریقہ بہت ضروری مقامی طور پر کام کرنا بھی ایک کام ہے، لیکن جب آپ سفر کر کے دوسرے مقامات پر جائیں تو اس کے ذریعہ دعوتی کام میں اضافہ ہوتا ہے۔ دعوت کا مشن نئی وسعت اختیار کر لیتا ہے۔ موجودہ زمانہ کمیونی کیشن (communication) کا زمانہ ہے۔ سفر کی جدید سہولتیں اور پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے دعوہ ان ایکشن کے کام کے لئے عالمی راہیں کھول دی ہیں۔ ضرورت ہے کہ اس کام کو مزید اضافہ کے ساتھ زندہ کیا جائے، جس کو قرآن میں سیاحت کہا گیا ہے۔ سیاحت صرف یہ نہیں ہے کہ دعوت کے پروگرام کے تحت آپ کہیں جائیں، بلکہ الرسالہ مشن کے ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے بیگ میں لٹریچر رکھے، وہ جب بھی کسی سے ملے تو اس کو تحفہ کے طور پر ایک کتاب پیش کرے ۔ موجودہ زمانے میں ملاقات کے مواقع بھی بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ جب بھی کسی کام کے لئے نکلتا ہے تو ہمیشہ اس کو جگہ جگہ نئے افراد ملتے ہیں۔ یہ تمام افراد آپ کو دعوتی کام کا موقع دے رہے ہیں۔

آپ کو چاہئے کہ دعوتی لٹریچر ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں، اور ہر ملاقات کے موقع پر لوگوں کو اسے دیتے رہیں، یہ کام قریبی سفروں میں بھی کرنا ہے، اور دور کے سفروں میں بھی۔

خدا: یقین کا سرچشمه God— A Source of Conviction اگر آپ کے پاس کائناتی دوربین ہو اور آپ کائنات کے کسی مقام پر کھڑے ہو کر کائنات کا مشاہدہ کریں تو سب سے پہلے آپ کی نظر اس استثنائی planet پر جائے گی جس کا نام زمین ہے۔ دیکھیں گے کہ مکمل طور پر ایک lifeless دنیا میں زمین کا tiny planet زندگی اور زندگی کو sustain کرنے والے ہر قسم کے سامان سے بھر پور ہے۔ یہ نادر استثنائی منظر آپ کو ایک حیرتناک کیفیت میں مبتلا کر دے گا۔

پھر آپ دیکھیں گے کہ زمین اپنے چاند اور دوسرے planets کے ساتھ مسلسل حرکت میں اس کی ایک گردش اپنے axis پر ہو رہی ہے، اس حرکت کے ساتھ ساتھ بیضوی دائرہ میں وہ مسلسل طور پر سورج کے گرد گھوم رہی ہے۔ پھر یہ پورا سولر سسٹم کہکشاں کی عظیم پلیٹ پر وسیع تر دائرہ میں تیزی سے گھوم رہا ہے۔ پھر پورا کہکشانی نظام خلا میں دوسری بہت سی کہکشاؤں کے ساتھ ایک اور وسیع دائرہ میں مسلسل طور پر حرکت میں ہے۔

اتھاہ space میں ستاروں اور سیاروں کی یہ گردش آپ کو دہشت ناک حد تک عجیب معلوم ہوگی۔ پھر آپ جب دیکھیں گے کہ unbelievable حد تک آگ کے بڑے بڑے الاؤ جن کو ستارے کہا جاتا ہے، countless تعداد میں ادھر ادھر تیزی سے دوڑ رہے ہیں اور ان کے درمیان ہماری زمین ایک چھوٹے ذرے کی طرح دکھائی دیتی ہے۔ یہ سارا منظر آپ کو اتنا دہشت ناک حد تک عجیب معلوم ہوگا کہ آپ کو اپنا وجود اس کے سامنے بالکل بے قیمت اور حقیر دکھائی دینے لگے گا۔ یہ تجربہ آپ کو بیک وقت دو چیزوں کی دریافت کرائے گا۔ ایک یہ کہ اس دنیا کا ایک طاقتور خدا ہے جو اس کا Creator بھی ہے اور اس کا Sustainer بھی۔ اگر آپ اپنے چشم تصور میں اس کائناتی منظر کو لے آئیں تو آپ کا دل پکار اٹھے گا کہ کائنات خود اپنے آپ میں اپنے خالق کا ایک بین ثبوت ہے۔

اس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ دوسرے یہ کہ انسان اس کائنات میں ایک عاجز اور حقیر مخلوق خدا انسان کی ایک ایسی لازمی ضرورت ہے جس کے بغیر اس کا کوئی وجود ہی ممکن نہیں۔ یہ بلاشبہہ زندگی کی سب سے زیادہ اہم حقیقت ہے۔ اس حقیقت کا ادراک جب آدمی کو ہو جائے تو وہ بے اختیارانہ طور پر خدا کی طرف دوڑ پڑتا ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کے ساتھ پکار اٹھتا ہے کہ خدا یا میری مدد فرما۔ تیری مدد کے بغیر میرا کوئی بھی کام بننے والا نہیں۔ اتھاہ کائنات میں خدا انسان کا سہارا ہے۔ وہ انسان کی کشتی کو سہارا دے کر اس کو ساحل تک پہنچانے والا ہے۔ خدا کا عقیدہ انسان کے لیے سب کچھ ہے۔ اس عقیدہ کے بغیر انسان کچھ بھی نہیں۔ انسان کے عجز (helplessness) کا احساس جو کائنات کو دیکھ کر ہوتا ہے وہی ہر آدمی کو اپنی روز مرہ کی زندگی میں بھی لازمی طور پر پیش آتا ہے۔ ہر عورت اور مرد بار بار اس تجربہ سے گزرتے ہیں کہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ محدودیت (limitation) کا شکار ہیں۔ وہ جو کچھ چاہتے ہیں اس کو وہ پا نہیں سکتے۔ ان کی زندگی بار بار ایسے احوال میں پھنس جاتی ہے جہاں وہ اپنے آپ کو بے بس (helpless) محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اسی کے ساتھ نقصان کا خوف، بیماری اور حادثہ اور بڑھاپا اور موت کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہر آدمی اپنے سے برتر کسی طاقت کا محتاج ہے۔ ایک superior power کی مدد کے بغیر وہ اپنے کو کامیاب نہیں بنا سکتا۔ یہ احساس گویا خدا کے وجود کا ایک نفسیاتی ثبوت ہے۔ ہر آدمی لازمی طور پر اس نفسیاتی تجربہ سے دوچار ہوتا ہے۔ ہر آدمی خود اپنے اندر خدا کے وجود کی یقینی گواہی پا رہا ہے۔ ہر آدمی کی فطرت مستقل طور پر اس کو یہ آواز دے رہی ہے کہ تم کو ایک خدا کی ضرورت ہے۔ کے بغیر تمہاری زندگی مکمل نہیں ہوسکتی۔ خدا کی مدد کے بغیر تم اپنے آپ کو کامیاب نہیں بنا سکتے۔ دعوتی مقصد کے لیے بہار اور جھارکھنڈ کے قارئین، حسب ذیل پتے پر رابطہ قائم کریں: A. H. M. Danyal (President, Centre for Peace)

Mahatwana, Phulwarisharif, Patna-601505, Bihar Mob. 09308477841, 09852208744

Printed page