کلْب کلچر
Al-Risala, February 2015, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی سورہ الاعراف میں ایک انسانی صفت کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے: وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِنْ تَحْمَلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَثْ ذَلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِأَيَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ (7:176) یعنی اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا مگر وہ زمین کا ہو رہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی ہانپے۔ یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، پس تم یہ احوال ان کو سناؤ تا کہ وہ سوچیں۔ ہانپنے کا فعل (panting) کوئی انسان اس وقت کرتا ہے جب کہ اس پر بوجھ لدا ہوا ہو۔ کلْب (dog) اپنی فطری بناوٹ کی وجہ سے ہر حال میں ہانپتا ہے، خواہ اس کے اوپر بوجھ ہو یا بوجھ نہ کلْب کی اس فطری صفت کی مثال کو لے کر انسان کی ایک اخلاقی حالت کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ انسان اگر خواہش (desire) کا اتباع کرے تو اس کا حال کیا ہوتا ہے، اور اگر وہ خدا کی ہدایت (guidance) کا اتباع کرے تو اس کا حال کیا ہوتا ہے۔ خدائی ہدایت کا اتباع کرنے والا ہمیشہ ایک حالت پر رہتا ہے، اور وہ شکر کی حالت ہے۔ خدائی ہدایت کی اتباع کرنے والا ہمیشہ شکر کے احساس میں جیتا ہے، خواہ دنیا کا سامان اس کو کم ملے یا زیادہ۔
اس کے برعکس حال اس انسان کا ہوتا ہے جو اتباع ہوئی (خواہش کی پیروی) میں مبتلا ہو جائے۔ چوں کہ تخلیقی نقشے کے مطابق انسان کی خواہش لامحدود ہے، اور دنیا کی چیزیں محدود ہیں۔ اس بنا پر خواہش کی اتباع کرنے والے انسان کا حال یہ ہوگا کہ وہ ہر حال میں ہانپتا رہے گا، یعنی دنیا میں کم ملے تب بھی وہ شکر سے خالی ہوگا، اور اگر اس کو دنیا میں بظاہر زیادہ ملے تب بھی وہ شکر سے خالی رہے گا۔ حقیقت یہ ہے کہ خواہش کی تکمیل صرف آخرت میں ہوگی، موجودہ دنیا میں خواہش کی تکمیل ہونے والی نہیں۔