اٹلی اور اسپین کا دعوتی سفر
Al-Risala, February 2015, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
گڈ ورڈ بکس اور سی پی ایس انٹرنیشنل کے تحت بڑے پیمانے پر ترجمہ قرآن کی نشر و اشاعت کا کام ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں مقامی پروگراموں کے علاوہ، اسفار کے ذریعے بھی ملک اور ملک کے باہر کے مختلف مقامات پر یہ کام کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں نومبر 2014 میں میرا یورپ اور ایشیا کے مختلف ملکوں کا سفر ہوا—اٹلی، اسپین، ترکی اور دبئی۔
میرے اٹلی کے سفر کا محرک ایک پروگرام تھا۔ یہ پروگرام 17 جولائی 2014 کو اسلامی مرکز (نئی دہلی) میں ہوا۔ اس میں اٹلی کے اسپرپچول رہنما مسٹر ماریو (Mario) کی قیادت میں اٹلی کے 90 مسیحی خواتین و حضرات شامل تھے۔ اس موقع پر امن اور اسلام اور اسپرچولٹی کے موضوع پر مولانا وحید الدین خاں کی ایک تقریر ہوئی۔ پروگرام کے خاتمے پر اٹلیین گروپ کے تمام خواتین و حضرات کو دعوتی لٹریچر اور قرآن کا انگریزی ترجمہ دیا گیا۔ لیکن مجھے یہ احساس ہوا کہ اطالوی (Italian) زبان میں ترجمہ قرآن ان کے لیے زیادہ قابل فہم ثابت ہوگا۔ اُس وقت میرے دل میں یہ جذبہ پیدا ہوا کہ اردو، ہندی، انگریزی، وغیرہ کے بعد اب ضرورت ہے کہ اطالوی اور دوسری یورپی زبانوں میں بھی قرآن کا ترجمہ شائع کیا اس سلسلے میں تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ اطالوی زبان میں قرآن کے کئی تراجم موجود ہیں۔ سب سے معروف ترجمہ وہ ہے جو اٹلی کے ایک نومسلم مسٹر حمزہ (Hamza Roberto Piccardo) نے تیار کیا ہے۔ چناں چہ میں نے ارادہ کیا کہ یورپ کے سفر کے دوران مترجم سے ضرور ملاقات کی جائے اور اُن سے اس ترجمے کی اشاعت کی اجازت حاصل کر کے اس کو شائع کیا جائے۔
میرے اندر اٹلی جانے کا ابتدائی محرک اپریل 2014 میں پیدا ہوا تھا۔ اُس وقت میں پیرس یہاں اٹلی کے چند مسلمانوں سے ملاقات ہوئی—ابراہیم شبانی، فواد سلیم اور عزالدین۔ مسٹر ابراہیم شبانی اٹلی میں ایک ادارے کے ذمہ دار ہیں۔ اس ادارے کا نام یہ ہے: المركز الاسلامي بسيستو - ميلانو (Centro Islamico di Sesto S.G. Milano)
اسی طرح مسٹر سلیم فواد اور مسٹر عزالدین (Izzeddin Elzir) اٹلی کے ایک بڑے اسلامی ادارے سے منسلک ہیں۔ اس ادارے کا نام یہ ہے:
اتحاد الهيئات الإسلامية في إيطاليا (Unione Delle Comunita Islamiche d’ Italia)
ان حضرات سے دعوتی موضوع پر بات ہوئی تھی۔ انھوں نے مجھے اٹلی آنے کی دعوت دی تھی اور کہا تھا کہ آپ اٹلی آکر دیکھیں، پھر ان شاء اللہ وہاں کے ماحول کو سامنے رکھ کر اٹلی میں دعوتی کام کو منظم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم 2 نومبر 2014 کے اس سفر میں جب میں اٹلی پہنچا تو اُن لوگوں سے ملاقات اس وقت وہ لوگ کسی پروگرام کے تحت شہر سے باہر گئے ہوئے تھے۔ 31 اکتوبر 2014 کو نئی دہلی سے اٹلی کے لیے میرا سفر وایا فرانس ہوا۔ سفر کے دوران ایک دعوتی تجربہ پیش آیا۔ پیرس کے ایرپورٹ پر میں نے ایر فرانس کی ایک خاتون اسٹاف کو ریلیٹی آف لائف (Reality of Life) کی ایک کاپی پیش کی۔ تھوڑی دیر کے بعد مذکورہ خاتون میرے پاس آئیں۔ اُس وقت ریلیٹی آف لائف ان کے ہاتھ میں تھی۔ انھوں نے اس بک لٹ کا غالباً ایک حصہ پڑھ لیا تھا۔ انھوں نے مجھ کو مخاطب کرتے ہوئے ان الفاظ میں اپنے تاثرات کا اظہار کیا: This is what I actually wanted to read. I liked it so much that I will cherish this book for the whole of my life. پیرس سے مجھے اٹلی کے شہر میلان (Milan) کے لیے روانہ ہونا تھا۔ یہاں مجھے مسٹر حمزہ سے ملنا تھا۔ تاہم میلان جانے کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے خاندان میں کسی شخص کی وفات ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ سے وہ شہر میں نہیں ہیں، لہذا اس وقت اُن سے ملاقات نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ ان کے بیٹے مسٹر داؤد (Davide Piccardo) سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ قرآن کے اس ترجمے کی عمومی اشاعت کے حق میں نہیں ہیں۔ چنانچہ گفتگو کے باوجود ہمارے یہاں سے قرآن کے
اطالین ترجمے کی اشاعت کی اجازت نہ مل سکی۔
تاہم میلان کے اس سفر کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ یہاں کے ایک اسلامک سنٹر (مریم مسجد) کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس سنٹر کی مسجد میں ایک عرب مسٹر ابراہیم امام ہیں۔ ان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مسجد کے مختلف شعبے دکھائے۔ میں نے کہا کہ میں اطالوی زبان میں قرآن کا ترجمہ کرانا چاہتا انھوں نے کہا کہ یہاں ایک مقامی خاتون مترجم عائشہ روڈولفی (Aicha Rodolfi) ہیں۔ اگر آپ اُن سے رابطہ کریں تو شاید اس سلسلے میں وہ آپ کی رہنمائی کرسکیں۔ چناں چہ میں نے محترمہ عائشہ روڈولفی سے رابطہ کر کے اُن سے ملاقات کی ۔ ان سے ملنے کے لئے میں اٹلی کے دوسرے شہر (Castelfranco Emilia) گیا۔ وہ ایک نومسلم خاتون ہیں۔ بتایا کہ پہلے وہ ایک فیشن ماڈل تھیں۔ بعد کو وہ قرآن کی تعلیمات سے متاثر ہوئیں اور انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ اس کے بعد ان کی والدہ نے بھی اسلام قبول کر لیا۔
عائشہ روڈولفی کے گھر پر ان کی والدہ اور مسٹر حسین سے ملاقات ہوئی۔ دوران معلوم ہوا کہ یہ لوگ یہاں بڑے پیمانے پر دعوہ ورک کر رہے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ اسٹریٹ دعوہ (Street Dawah) کے طریقے پر دعوت کا کام کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ خاص طور پر تعارفِ اسلام کے موضوع پر سعودی عرب سے چھپے ہوئے پمفلٹس لوگوں کو دیتے عائشہ روڈولفی نے بتایا کہ ان پمفلٹس میں عام طور پر شرک و بدعات، توحید اور حلال و حرام کی باتیں بیان کی گئی ہیں۔ تاہم ان کتابوں کا اسلوب یہاں کی جدید نسل کے ذہن کو ایڈریس نہیں کرتا۔ انھوں نے کہا کہ اگر اس سے بہتر اسلوب میں کوئی لٹریچر ہم کو مل جائے تو ہم اس کو پھیلائیں گے۔ عائشہ روڈولفی کو میں نے اپنے یہاں کی چھپی ہوئی کتابیں ۔ ترجمہ قرآن، پمفلٹس، وغیرہ انھوں نے اس کو دیکھا اور پسند کیا۔ انھوں نے کہا کہ اس لٹریچر کا ہم اطالوی زبان میں ترجمہ آپ اس کو انڈیا سے شائع کر کے ہمیں بھیج دیں، تاکہ ہم یہاں بڑے پیمانے پر لوگوں تک اس کو پہنچا سکیں۔ میں نے کہا ضرور، آپ اس کا ترجمہ کریں، یہی ہمارا اصل مقصد ہے۔