Davide Piccardo
Al-Risala, February 2015, pp. 31–36
By Maulana Wahiduddin Khan
Hamza Roberto Piccardo AL WAQF AL ISLAMI IN ITALIA ENTE DI GESTIONE BENI ISLAMICI IN ITALIA VIA PADOVA - MILANO Imam Masjid Maryam, Milano Br. Hussain (left), Aicha Rodolfi with her mother
نے کہا کہ ان شاء اللہ ہم اسٹریٹ دعوہ کے تحت اٹلی کے ہر شہر میں اس لٹریچر کو پھیلانے کی کوشش
اٹلی سے روانہ ہو کر 3 نومبر 2014 کو مجھے اسپین جانا تھا۔ اسپین کا سفر بھی دراصل قرآن کے اسپینی ترجمے کی اشاعت کے لیے تھا۔ اس کا اصل محرک یہ تھا کہ خواجہ کلیم الدین صاحب (امریكا) کافی عرصے سے مجھ سے یہ کہتے رہے ہیں کہ امریکا میں، خاص طور پر ساؤتھ امریکا کے ملکوں میں قرآن کے اسپینش ترجمے کی بہت ضرورت ہے، کیوں کہ اسپین کے علاوہ ساؤتھ امریکا کے ملکوں میں بھی اسپینش زبان بولی جاتی ہے۔ مثلاً میکسکو، ارجنٹائنا، کولمبیا، پناما، کیوبا، چلی، پیرو، وینز ولا، وغیرہ میں عام طور پر اسپینش (Spanish) زبان بولی جاتی ہے۔ کلیم الدین صاحب کا کہنا تھا کہ اگر اسپینش زبان میں قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر تیار ہو جائے تو ساؤتھ امریکا میں بڑے پیمانے پر اس کے ذریعے دعوہ ورک کیا جا سکتا ہے۔
جب میں نے اس سلسلے میں جاننا چاہا تو معلوم ہوا کہ اسپینش زبان میں قرآن کے چار ترجمے ان میں سب سے معروف ترجمہ وہ ہے جس کو غرناطہ (Granada) کے مسٹر عبد الغنی (Abdul Ghani Melara Navio) نے تیار کیا ہے۔ یہ ترجمہ شاہ فہد قرآن کاپلیکس، مدینہ سے بھی شائع ہو چکا ہے۔ کافی تلاش کے بعد غرناطہ کے مسٹر لقمان نیٹو (Luqman Nieto) کے ذریعے مترجم موصوف کا نمبر معلوم ہوا۔ چناں چہ ان سے ملاقات کے لیے میں نے غرناطہ جانے کا ارادہ کر لیا۔ چنانچہ پہلے میں اٹلی سے اسپین کے شہر مالقہ (Malaga) گیا۔ یہ غرناطہ سے قریب ایک تاریخی یہاں انٹر نیشنل ائر پورٹ بھی ہے۔ مالقہ بھی اسلامی سلطنت کا حصہ تھا، اس لئے یہاں مسلم دور کی کافی عمارتیں موجود ہیں۔ مالقہ سے غرناطہ کے لئے ائر پورٹ سے ڈائریکٹ بس جاتی ہے۔ چناں چہ میں یہاں سے بذریعہ بس تقریباً ڈھائی گھنٹے میں غرناطہ پہنچ گیا۔ سفر کے دوران ہر طرف خوب صورت مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ دریا، پہاڑ، سبزہ، وغیرہ۔ یہاں کی مٹی سرخ رنگ کی تھی۔ اس میں ہر طرف دور تک پھیلے ہوئے زیتون کے سر سبز و شاداب باغات ایک عجیب منظر پیش کر رہے تھے۔
غرناطہ پہنچ کر میں نے مسٹر عبدالغنی کو فون کیا۔ وہ میرے ہوٹل کے قریب ہی رہتے ہیں۔ بیس منٹ کے اندر وہ ہوٹل پہنچ گئے۔ تقریباً دو گھنٹے کی گفتگو کے بعد وہ اپنا لیپ ٹاپ لے کر آئے اور اُس پر مختلف چیزیں مجھ کو دکھانے لگے۔ مثلاً انھوں نے اپنے اسپینش ترجمہ قرآن پر تفسیری نوٹس لکھے ہیں، وہ انھوں نے مجھے دکھائے۔ مسٹر عبدالغنی عربی زبان و ادب کے اچھے اسکالر ہیں۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 70 سال ہو چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ وہ غرناطہ کے ایک مسیحی خاندان میں پیدا ہوئے۔ تاہم اللہ کی توفیق سے 1979 میں انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ انھوں نے بتایا کہ 1970 کے زمانے میں یہاں مراکو سے ایک مسلم صوفی آئے تھے۔ اُن کی دعوت و تبلیغ سے متاثر ہو کر بڑی تعداد میں یہاں کے مسیحی لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ انھوں نے بتایا کہ میں بھی انھیں لوگوں میں سے ایک ہوں جو اُس وقت مذکورہ صوفی کی دعوت سے متاثر ہو کر اسلام میں داخل ہوئے تھے۔
دیر تک اُن سے امن اور جہاد وغیرہ کے موضوع پر بات ہوتی رہی۔ گفتگو کے دوران اندازہ ہوا کہ وہ ہماری امن اور جہاد کی آئیڈیالوجی سے اتفاق نہیں رکھتے۔ گفتگو کے دوران ایک بات انھوں نے یہ کہی کہ قرآن کو مفت نہیں دینا چاہئے۔ اس سے قرآن کی اہمیت لوگوں کی نظر میں کم ہو جاتی ہے۔ اسی طرح گفتگو کے دوران غیر مسلموں کے لیے وہ بار بار کُفار کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ کہا کہ غیر مسلموں کے لیے کفار کا لفظ استعمال کرنا درست نہیں۔ غیر مسلم ہمارے مدعو ہیں۔ میں نے کہا کہ ہم بھی انسان ہیں اور وہ بھی انسان۔ اس اعتبار سے اُن کے لیے کفار کے بجائے مدعو کا لفظ استعمال کرنا درست ہوگا۔ میں نے ان سے اپنے یہاں سے قرآن کے اسپینش ترجمے کی اشاعت کی اجازت مانگی، اور اس کے لئے بطور رائلٹی ان کو ایک خطیر رقم کی پیش کش بھی کی، مگر وہ اس کی اجازت دینے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔
آخر میں میں نے اُن کو اپنے یہاں کا چھپا ہوا دعوتی لٹریچر دیا۔ مثلاً قرآن کا انگریزی ترجمہ، تذکیر القرآن (انگریزی) اور پرافٹ آف پیس، وغیرہ۔ اس کو انھوں نے شکریے کے ساتھ قبول کیا اور کہا کہ مولا نا وحید الدین خاں کا یہ ترجمہ میرے پاس پہلے سے موجود ہے۔ پچھلے سال ہم نے غرناطہ کی
مسجد کے لئے قرآن اور دوسری تعارفی کتابیں بھیجی تھیں جو کہ وہاں تقسیم کی گئیں۔ غرناطہ کے ایک اور ادارے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس ادارے کا نام یہ ہے: وقف الأندلس للتربية والتعليم (Fundación Educativa al-Andalus)
اس ادارے کے ذمے دار مسٹر مضطر (M. Mujtar Medinilla) ہیں۔ وہ ایک اسپینی ایک جرمن مسلمان مسٹر احمد (Ahmad Gross) کے ساتھ مل کر وہ اس ادارے کو چلا اس ادارے کے تحت تعلیم و تربیت کے علاوہ دعوتی کام بھی ہوتا ہے۔ یہ لوگ وہاں ایک بڑا اسلامی اسکول بھی قائم کرنے والے ہیں۔
مسٹر ادریس (Idris Medinilla) مسٹر مضطر کے بیٹے ہیں ۔ وہ مجھ کو غرناطہ کے ایک اور سینٹر میں لے گئے۔ اس کا نام یہ ہے:
مركز الدراسات الإسلامية (Centro de Estudios Islámicos)
یہ غرناطہ میں ایک بڑا دعوتی مرکز ہے۔ یہاں لوگ کثرت سے آ کر اسلام قبول کرتے ہیں۔ سیاح، خاص طور پر مسیحی حضرات بڑی تعداد میں اسلام کو جاننے کے لئے یہاں آتے رہتے ہیں۔ ایک بڑی لائبریری ہے۔ اسی طرح یہاں ایک وسیع اور خوبصورت لیکچر ہال بھی ہے۔ اس ہال میں اسلام کے مختلف موضوعات پر پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔
غرناطہ میں مولانا وحید الدین خاں کے ترجمہ قرآن کے اسپینش ایڈیشن کی تیاری کے متعلق مسٹر لقمان نیٹو (مترجم اسپینش) سے بات ہوئی۔ پہلے انھوں نے کہا کہ میں اسپینش زبان میں اس کا ترجمہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ تاہم بعد کو انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ قرآن کا ترجمہ آسان کام نہیں ہے، یہ ایک بہت بڑی ذمے داری کا کام ہے۔ میں اپنے آپ کو اس کا اہل نہیں پاتا۔ اس لیے میں اس کام کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ اسپین میں جن اداروں میں جانے کا اتفاق ہوا، اُن میں سے ایک مقامی اخبار کا آفس تھا۔ یہاں سے اسپینش زبان میں ایک پندرہ روزہ اخبار نکلتا ہے۔ اس کا نام یہ ہے: Islam Hoy (Islam Today)
Abdul Ghani Melera Navio (left) Dawah at Al Hambra Palace Hanif Esccudero Uribe (right)
یہاں اخبار کے ایڈیٹر سے بھی ملاقات ہوئی ۔ اس اخبار کے کئی ایڈیشن دیکھے۔ ہوا کہ یہ سب مسلم قومی ذہن کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ اسی طرح یہاں مدرسہ ایڈیشن (Madrasa Edition) کے نام سے ایک اشاعتی ادارہ ہے۔ اس کے انچارج مذکورہ اسپینی نو جوان مسٹر ادریس (Idris Medinilla) ہیں۔ مسٹر ادریس سے دعوتی موضوع پر بات ہوئی۔ دعوتی کام میں اپنی دلچسپی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ آپ ہمیں اسپینش زبان میں اپنا لٹریچر دیجئے۔ ان شاء اللہ ہم اس کو یہاں کے مقامی لوگوں کے درمیان پھیلائیں گے۔
4 نومبر 2014 کو غرناطہ میں الحمراء (Alhambra Palace) دیکھنے کا پروگرام تھا۔ اس کا پیشگی ٹکٹ لے کر میں وہاں گیا۔ غرناطہ (Granada) اسپین کے جنوب میں واقع ایک قدیم تاریخی غرناطہ کی شہرت کی اصل وجہ یہاں موجود قصر الحمراء ہے۔ 1492 تک غرناطہ مسلم اسپین کی آخری مسلم دورِ حکومت میں الحمراء قلعہ اور محل دونوں تھا، جس طرح دہلی کا لال قلعہ ہے۔ اور 1358 عیسوی کے دوران مختلف مراحل میں بنایا گیا۔ الحمراء آج بھی اسپین میں زائرین کا مرکز توجہ بنا الحمراء اسپین کا سب سے بڑا سیاحتی مقام ہے۔ الحمراء صرف ایک محل نہیں ہے، وہ نہایت وسیع باغات کے درمیان ایک پہاڑ پر واقع شاہی اقامت گاہ ہے۔ الحمراء کا رقبہ 740 میٹر لمبا اور تقریباً 200 میٹر
الحمراء غیر معمولی طور پر ایک بے حد خوب صورت مقام ہے۔ الحمراء کو مکمل طور پر دیکھنے کے لیے ایک پورا دن مطلوب تھا، مگر وقت کم ہونے کی وجہ سے میں جلد ہی اس کے ایک حصے کو دیکھ کر واپس یہاں زائرین کو میں نے دعوتی لٹریچر دیا۔
غرناطہ کے ایک اور سینٹر میں جانے کا اتفاق ہوا۔ یہ ادارہ الحمراء کے سامنے ایک اونچی پہاڑی پر واقع ہے۔ یہاں ایک خوب صورت مسجد ہے۔ اس سینٹر کا نام یہ ہے: