Al-Risala · February 2015

Grand Mosque of Granada

Al-Risala, February 2015, pp. 36–38

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مسجد یہاں کے نومسلم حضرات نے تقریباً تیس سال پہلے تعمیر کی تھی۔ یہاں میں نے ظہر کی

نماز ادا کی۔ سینٹر میں کچھ لوگوں سے ملاقات ہوئی جو اسپین میں دعوتی کام کرتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ یہاں روزانہ تقریباً 500 زائرین آتے ہیں۔ یہاں سے الحمراء کا منظر نہایت دلکش نظر آتا ہے۔ ایک مکتبہ (bookshop) بھی ہے۔ اس میں تعارفِ اسلام کے موضوع پر کتابیں موجود ہیں۔ سینٹر کی مسجد کے ذمہ داران سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان کو اپنے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹ What is Islam کا اسپینش ایڈیشن (?Qué es el Islam) ان لوگوں نے کہا کہ اگر آپ ہمیں قرآن کے تراجم اور کتابیں بھیجیں گے تو ہم ان کو یہاں سیاحوں (tourists) کے درمیان پھیلائیں گے۔

غرناطہ سے فارغ ہو کر میں قرطبہ کے لیے روانہ ہوا۔ یہ ٹرین کے ذریعے تقریباً دو گھنٹے کا سفر قرطبہ (Cordoba) اسپین کا ایک قدیم شہر ہے۔ 711 عیسوی میں مسلمانوں نے اس کو فتح کیا اور 756 میں اس کو اپنا دار السلطنت بنایا۔ اس کے بعد پندرھویں صدی عیسوی تک وہ مسلم اسپین کا دارالسلطنت بنا رہا۔ دسویں صدی میں قرطبہ یورپ کا سب سے بڑا شہر تھا۔ اس کی حیثیت ایک قسم کے عالمی کلچرل سنٹر کی ہوگئی تھی۔

قرطبہ میں اسپین کے مسلم دورِ حکومت (1492-711) کی بہت سی یادگاریں پائی جاتی ہیں۔ ان میں مسجد قرطبہ کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ مسجد بارہ ہزار مربع میٹر کے رقبے میں واقع ہے۔ میں تقریباً بارہ سو ستون ہیں۔ اب اس کو چرچ میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

مسجد قرطبہ کے وسیع صحن میں ہر طرف خوب صورت فوارے جاری تھے اور مختلف قسم کے درخت لگے ہوئے تھے۔ ان درختوں میں پھل لٹکے ہوئے تھے۔

مسلم اقتدار کے خاتمہ کے بعد مسجد قرطبہ کو عیسائیوں نے چرچ میں تبدیل کر دیا ہے۔ کی اصل حقیقت یہ ہے کہ اسپین میں ایک مسیحی پیشوا سینٹ ونسنٹ (Saint Vincent Ferrer) مسیحیوں نے اس کے نام پر قرطبہ میں دریا کے کنارے ایک چرچ تعمیر کیا تھا۔ اس علاقہ پر سیاسی قبضہ کے بعد مسلمانوں نے عین اسی چرچ کی جگہ مسجد بنا دی۔ اس طرح اس مسجد کے ساتھ

غیر ضروری طور پر نزاع کی حالت قائم ہوگئی۔ کہا جاتا ہے کہ بعد کو 786 عیسوی میں سلطان عبدالرحمن الداخل نے عیسائیوں کو راضی کر کے اس جگہ کو خرید لیا اور وہاں مزید توسیع کے ساتھ عظیم مسجد قرطبہ کی تعمیر اس تعمیر پر دو سال میں 80 ہزار دینار خرچ ہوئے۔ عیسائیوں کو جب دوبارہ سیاسی غلبہ ملا تو انھوں نے مسجد کے تو سیعی حصہ کو چھوڑ دیا۔ تاہم سینٹ ونسنٹ چرچ کی ابتدائی جگہ کو دوبارہ انھوں نے گرجا میں تبدیل کر دیا۔

مسجد قرطبہ کے قریب ایک اسلامی سینٹر تھا۔ اس میں مسجد کے علاوہ ایک ادارہ بھی قائم ہے۔ میں اس ادارے میں گیا تو معلوم ہوا کہ اس وقت یہاں ترکی حکومت کے تعاون سے ریسٹوریشن (restoration) کا کام چل رہا ہے، اس وجہ سے یہ ادارہ فی الحال بند ہے۔ یہ ایک بڑا ادارہ تھا جس میں مسجد اور اسلامک سینٹر قائم ہے۔ اس ادارے کا پورا نام یہ ہے:

مسجد الأندلسيين (Mezquita De Los Andaluces)

Printed page