Al-Risala · February 2015

الجامعة الإسلامية الدولية ابن رشد - الأندلس

Al-Risala, February 2015, pp. 38–42

By Maulana Wahiduddin Khan

(Universidad Islamica Internacional Averroes De Al-Andalus)

قرطبہ میں ایک اور اسلامی سینٹر ہے۔ اس سینٹر کو اسپین کے ایک مسلمان مسٹر محمد حنیف (Hanif Esccudero Uribe) کے والد نے تقریباً 25 سال پہلے قائم کیا تھا۔ ادارے میں کئی کام ہوتے ہیں ۔ خاص طور پر یہاں کھانے پینے کی چیزوں کے لئے حلال سرٹیفکیشن(Halal Certification) جاری کیا جاتا ہے۔ میں اس ادارے میں گیا تو یہاں اسٹاف کے ایک ممبر مسٹر سعید (Said Bouzraal) سے ملاقات ہوئی۔ مسٹر سعید اس ادارے کے اشاعتی شعبے میں ایڈیٹر ہیں۔ یہاں سے اسپینش زبان میں کئی اہم کتابیں چھپی ہیں۔ معروف مترجم اور مفسر محمد اسد کا اسپینش ترجمہ قرآن بھی شائع ہوا ہے۔ میں نے اپنے یہاں سے اس کی اشاعت کی اجازت چاہی، مگر اس کی اجازت نہ مل سکی۔

مسٹر حنیف نے بتایا کہ ہمارے مرکز میں اسپین کے مختلف شہروں کے مسلمان آتے ہیں۔

یہاں کا دعوتی لٹریچر لے کر دعوتی کام کرتے ہیں۔ میں نے اپنے یہاں سے چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس مسٹر حنیف کو دیا۔ انھوں نے اس کو پسند کیا اور کہا کہ آپ ہم کو یہ لٹریچر مزید بھیجیں، تاکہ ہم اس کو یہاں دعوتی مقصد کے لیے استعمال کر سکیں۔

قرطبہ پہنچ کر مجھ کو قاضی منذر القرطبی کا ایک واقعہ یاد آ گیا۔ اسپین کے سلطان عبدالرحمن ناصر نے جب قرطبہ میں الزہراء کا محل تعمیر کر لیا تو ایک دن وہ اپنے سونے کے تخت پر بیٹھا۔ دربار میں بڑے بڑے لوگ جمع تھے۔ سلطان نے لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم نے سنا ہے کہ کبھی کسی نے ایسا عالی شان محل درباریوں نے خوب تعریف کی، مگر قاضی منذر سر جھکائے بیٹھے رہے۔ آخر میں سلطان نے قاضی منذر سے بولنے کے لیے کہا۔ قاضی منذر روپڑے۔ انھوں نے کہا: خدا کی قسم، میرا یہ گمان نہیں تھا کہ شیطان تمھارے اوپر اتنا زیادہ قابو پالے گا کہ وہ تم کو کافروں کے درجہ تک پہنچادے۔ نے کہا کہ دیکھئے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں اور کیسے آپ مجھے کافروں کے درجہ تک پہنچارہے ہیں۔ بعد قاضی منذر نے قرآن سے سورہ الزخرف کی آیات 35-33 پڑھیں۔ ان آیتوں کو سن کر سلطان شدید طور پر متاثر ہوا اور رونے لگا۔ اس نے قاضی منذر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ آپ کو بہتر جزا عطا فرمائے اور مسلمانوں میں آپ جیسے بہت لوگ پیدا کرے۔

قرطبہ کے بعد مجھے میڈرڈ (Madrid) جانا تھا۔ یہ سفر میں نے ٹرین کے ذریعہ طے کیا۔ ایک تیز رفتار ٹرین تھی جس کے ذریعے میں تقریباً چار گھنٹے میں قرطبہ سے میڈرڈ پہنچ گیا۔ سعودی عرب کے تعاون سے ایک عظیم الشان مسجد اور اسلامی مرکز تعمیر کیا گیا ہے۔ اس کا نام یہ ہے: (Centro Cultural Islamico De Madrid) المركز الثقافي الإسلامي بمدريد یہاں میں نے ظہر کی نماز ادا کی۔ اس سینٹر میں اسلام کے مختلف پہلوؤں، مثلاً سیرتِ رسول وغیرہ کے موضوع پر ایک مستقل نمائش (Exhibition) کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس سینٹر کو دیکھنے کے لیے کثرت سے زائرین یہاں آتے ہیں۔ یہاں زائرین کے درمیان بڑے پیمانے پر دعوتی کام کیا جاتا ہے۔ اسی طرح دعوتی مقصد کے تحت ’’ڈسکور اسلام‘‘ کے عنوان سے یہاں ایک پروگرام

چلایا جاتا ہے۔ اس کا نام یہ ہے :

اكتشف الإسلام (Descubra El Islam)

اس سینٹر کے عرب ڈائریکٹر سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان کو الا سلام متحدی اور اپنے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹ What is Islam کا اسپینش ایڈیشن (Que es el Islam ؟ اس کو انھوں نے شکریے کے ساتھ قبول ا۔

7 نومبر 2014 کو اسپین سے روانہ ہو کر مجھ کو ترکی جانا تھا۔ یہاں 10-8 نومبر کے درمیان ایک بک فیر (Istanbul International Book Fair) ہو رہا تھا۔ یہ ایک بہت بڑا بک فیر یہاں ترکی کے کئی بڑے پبلشرز اور پبلشنگ گروپ سے ملاقات ہوئی ۔ تماس (Timas) ، کاُنات (Kaynak)، نسیل (Nesil) اور تسارم (Tasarim)، وغیرہ۔

ان لوگوں کو میں نے مولانا وحید الدین خاں کا انگریزی ترجمہ قرآن (پاکٹ سائز) دکھایا۔ مسٹر راشد (Rasit Tibet) نے اس کو بہت پسند کیا۔ انھوں نے کہا کہ ترکی زبان میں اسی طرح کا ترجمہ قرآن شائع کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہاں بھی عام طور پر یہی رواج ہے کہ لوگ صرف قرآن کا عربی متن پڑھ لیتے ہیں، قرآن کو سمجھ کر اس کی تلاوت کرنے سے عموماً لوگ غافل ہیں۔ اس لیے اگر اس طرح کا ایک پاکٹ سائز ترجمہ قرآن یہاں کی مقامی زبان میں شائع کر دیا جائے تو وہ فہم قرآن کے لیے بہت مفید ثابت ہوگا۔

یہاں ترکی کے ایک اور پبلشر (Bahar Publication) کے ڈائریکٹر مسٹر محمد (Mehmet Baspehlivan) سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے مولانا وحید الدین خاں کی ایک کتاب ترکی کی زبان میں شائع کی ہے۔ اس کے علاوہ، وہ تذکیر القرآن کا ترکی ایڈیشن بھی شائع کرنا ترکی کے سفر (مئی 2012) میں مولانا ائن کے گھر بھی گئے تھے اور وہاں ایک مختصر نشست

اس سفر میں استنبول (ترکی) کی مسجد رستم پاشا (Rustem Pasha Mosque) کے

امام سے ملاقات ہوئی ۔ مسجد رستم پاشا ایک تاریخی مسجد ہے۔ اس مسجد کی تعمیر سولھویں صدی عیسوی میں اس مسجد کی تعمیر میں استعمال کیے گئے ٹائلس (tiles) دنیا میں سب سے خوب صورت مانے اس لیے یہاں بہت زیادہ سیاح(tourists) آتے ہیں۔

اس مسجد کے امام اسماعیل (Ismail Karakelle) سے تقریباً چار سال پہلے ترکی کے ایک سفر میں میری ملاقات ہوئی تھی۔ اُس وقت اُن سے زائرین کے درمیان مولانا وحید الدین خاں کے انگریزی ترجمہ قرآن کے ڈسٹری بیوشن کی بات ہوئی تھی۔ انھوں نے اس سے دلچسپی ظاہر کی۔ میں نے اُن کو ترکی کے ایک پریس (Imak Printers) سے چھپوا کر اس کی تیس ہزار کاپیاں ان کو مسجد میں آنے والے زائرین کے درمیان ڈسٹری بیوٹ کرنے کے لیے دی تھیں۔ اس کے بعد سے یہاں مسلسل قرآن ڈسٹری بیوشن کا کام جاری ہے۔ اب کچھ مقامی اہل خیر کے تعاون سے ترکی ہی میں ہمارا انگریزی ترجمہ قرآن چھاپ کر لوگوں کو دیا جاتا ہے۔ اب تک اس ترجمے کی ایک لاکھ 80 ہزار کاپیاں زائرین کے درمیان تقسیم کی جاچکی ہیں۔

ترکی سے مجھے 11 نومبر 2014 کو دبئی جانا تھا۔ یہاں شارجہ میں ایک بک فیر (Sharjah International Book Fair) تھا۔ یہاں پر ہمارا بھی اسٹال تھا جس کو بک لینڈ کے لوگ بیچ کر رہے تھے۔ یہ ایک بہت بڑا بک فیر تھا۔ اس میں کثرت سے عالم عرب کے تقریباً تمام بڑے پبلشرز آتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں انڈین پبلشرز بھی بہت بڑی تعداد میں شرکت تاہم یہاں انڈین پبلشرز کے اسٹال پر بہت زیادہ بھیڑ ہوتی ہے۔ خاص طور پر ساؤتھ انڈیا کے لوگ بہت زیادہ یہاں کے اسٹال پروزٹ کرتے ہیں اور بڑے پیمانے پر یہاں سے کتابیں اس موقع پر روز ٹرس کے درمیان بھی ہمارے یہاں سے چھپے ہوئے قرآن کے انگریزی ترجمہ اور دعوتی پمفلٹس تقسیم کیے گئے۔ اس کو لوگوں نے شوق سے لیا۔

دبئی میں ہمارے کئی ساتھی قرآن ڈسٹری بیوشن کا کام کر رہے ہیں۔ خاص طور پر مسیما جلال، مسٹر جاوید خطیب، مسٹر سلیم عبد الرحمن۔ ان لوگوں نے حال میں قرآن ڈسٹری بیوشن کا ایک پروگرام

(100 Quran for 100 Hotels) بنایا تھا۔ اس کے تحت دبئی کے ایک سو بڑے ہوٹلوں کے ریسپشن (reception) پر ہمارے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ ایک خوب صورت اسٹینڈ کے ساتھ رکھوایا گیا۔ دبئی ایک عالمی سیاحتی اور تجارتی مرکز ہے۔ اس لیے یہاں دنیا کے ہر مقام سے بکثرت سیاح آتے ہیں۔ چناں چہ دبئی اوقاف کے تعاون سے دبئی میوزیم (متحف دبئی) میں بھی قرآن ڈسٹری بیوشن کا کام شروع کیا گیا ہے۔ میوزیم کے ایگزٹ گیٹ (exit gate) پر ایک ریک (rack) میں ہمارے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا ترجمہ رکھا ہوا ہے۔ اس ریک پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں: خذ هديتك (Take Your Gift)۔ میوزیم سے جاتے ہوئے سیاح عام طور پر یہاں سے اس کو لے لیتے ہیں۔ میوزیم کے سیکورٹی گارڈ نے بتایا کہ ہم ریک میں قرآن کا ترجمہ رکھتے ہیں اور تھوڑی ہی دیر میں اس کی تمام کاپیاں ختم ہو جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ دبئی کے کچھ اور بڑے ہوٹلوں کے کمروں میں بھی قرآن کا ترجمہ رکھوایا گیا ہے۔ مثلاً ناویل (Novotel Al Barsha) اور جُمیر ایچ ہوٹل، وغیرہ۔ یہاں ہوٹل کے ہر کمرے میں ہمارے ساتھیوں نے قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھوایا ہے۔ اس کے علاوہ جُمیر مسجد اور البد یہ مسجد میں بھی ہمارے یہاں کا چھپا ہوا قرآن کا انگریزی ترجمہ رکھا گیا ہے، تاکہ اس کو یہاں آنے والے سیاحوں کے درمیان تقسیم کیا جاسکے۔

دبئی کے سفر سے واپسی پر میرے پاس ترجمہ قرآن کی صرف ایک کاپی موجود تھی۔ میں سوچ رہا تھا کہ اس کا استعمال کیسے کیا جائے ۔ اس کے بعد جہاز میں ایک امریکی خاتون سے ملاقات ہوئی ۔ ایک بڑے گروپ کے ساتھ انڈیا آ رہی تھیں۔ اُن سے دیر تک اسلام کے موضوع پر باتیں ہوتی آخر میں میں نے ان کو قرآن کا یہ ترجمہ اور کچھ دعوتی پمفلٹس دئے۔ انھوں نے خوشی کے ساتھ اس کو لیا اور کہا میں اس کو ضرور پڑھوں گی۔ اس سے اندازہ ہوا کہ آدمی کو ہر وقت اپنے پاس قرآن کا ترجمہ اور دعوتی لٹریچر رکھنا چاہئے۔ کسی بھی وقت کوئی شخص مل سکتا ہے جس کو قرآن کا ترجمہ دے کر اُس تک خدا کا پیغام پہنچایا جاسکے۔ (ثانی اثنین خان)

Printed page