اختلاف کا مسئلہ
Al-Risala, March 2016, pp. 28–29
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں کے اندر بڑے پیمانے پر مذہبی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ یہ اختلاف بڑھ کر کبھی تشدد کی صورت اختیار کرلیتا رہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ان اختلافات کا سبب مدارس کا ان کے خیال کے مطابق، اگر مدارس کے نصاب میں اصلاح کردی جائے تو اختلاف کا خاتمہ ہو جائے گا اور لوگوں کے اندر اتحاد و اتفاق کی حالت قائم ہو جائے گی۔ مگر یہ اصل صورتِ حال کا کم تر اندازہ (underestimation) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اختلاف کا سبب فطرت انسانی میں ہے، نہ کہ مدارس کے نصاب میں۔ پیدائش کے اعتبار سے، ہر مرد مسٹر ڈفرنٹ (Mr. Different) ہوتا ہے اور ہر عورت مس ڈفرنٹ۔
یہی فطری فرق اختلاف کا اصل سبب ہے۔ اگر تمام مدارس کا نصاب ایک کر دیا جائے تب بھی اختلاف باقی رہے گا، کیوں کہ خواہ نصاب کی سطح پر اختلاف نہ ہو تب بھی فطرت کی سطح پر اختلاف موجود ہے گا، وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔
حضرت علی اور حضرت معاویہ دونوں ایک ہی مدرسہ، مدرسہ نبوت، کے تعلیم یافتہ تھے، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ ابو الحسن اشعری اور واصل بن عطاء دونوں ایک ہی مدرسہ فکر سے تعلق رکھتے تھے، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔
موجودہ زمانے میں سرسید احمد خاں اور مولانا قاسم نانوتوی دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے، اس کے باوجود دونوں کے درمیان اختلاف پیدا ہوا۔ مولانا شبیر احمد عثمانی اور مولانا حسین احمد مدنی دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔ سید سلیمان ندوی اور مولانا مسعود علی ندوی دونوں ایک ہی مدرسہ کے تعلیم یافتہ تھے، اس کے باوجود دونوں میں اختلاف پیدا ہوا۔
اصل یہ ہے کہ خواہ دو آدمیوں نے ایک ہی مدرسہ اور ایک ہی نصاب کے تحت تعلیم پائی ہو،
لیکن طرزِ فکر (way of thinking) کی سطح پر ہمیشہ ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق ہوتا ہے۔ یہی فرق ہے جو اختلاف کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ بڑھ کر نفرت اور تشدد تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ اختلاف یا فرق چوں کہ فطرتِ انسانی کا حصہ ہے، اس لیے وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ایسی حالت میں اختلاف کے مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ نا کام طور پر اس کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے، بلکہ اس کا حل یہ ہے کہ لوگوں کو اُس اصول کی تعلیم دی جائے جس کو ’اختلاف کے باوجود اتحاد‘ کہا جاتا ہے۔ یعنی رائے (opinion) کی سطح پر اختلاف، سماجی تعلق (social relationship) کی سطح پر اتفاق۔
انسانوں کے طرز فکر میں اختلاف کوئی غیر مطلوب چیز نہیں، بلکہ وہ عین مطلوب ہے۔ کہ اس اختلاف کی بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان ڈسکشن اور ڈائیلاگ ہوتا ہے، اور ڈسکشن اور ڈائیلاگ ذہنی ارتقا کا ذریعہ ہے۔ جہاں ڈسکشن اور ڈائیلاگ نہ ہو، وہاں یقینی طور پر ذہنی جمود (intellectual stagnation) پیدا ہو جائے گا، اور ذہنی جمود سے زیادہ تباہ کن اور کوئی چیز انسان کے لئے نہیں۔