مثبت سوچ
Al-Risala, March 2016, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ہندوستانی کو پہلی بار جاپان جانے کا موقع ملا۔ ایک روز انھوں نے اپنے جاپانی میزبان سے ازراہِ ہمدردی کہا: ’’آپ لوگوں کے ساتھ امریکا نے بڑا ظلم کیا۔ اس نے تاریخ کے پہلے ایٹم بم آپ کے ملک پر گرائے اور آپ کے دو شہروں کو کھنڈر بنا دیا۔ ’’نہیں کوئی ظلم نہیں‘‘ جاپانی نے کہا۔ ’’یہ بم تو ہمارے لئے رحمت ثابت ہوئے۔ ہمارے یہ شہر قدیم طرز پر آباد تھے۔ تنگ اور خم دار سڑکیں، فرسودہ مکانات، گندے محلے، ان کا نام تھا ہیروشیما اور ناگاساکی۔ معمولی حالات میں ہم نئے طرزِ پر ان کی تعمیر نہیں کر سکتے تھے۔ مگر جب جنگ نے اچانک ان کو صفحۂ ہستی سے مٹادیا تو ہم کو موقع مل گیا اور ہم نے قدیم ملبہ پر انتہائی جدید قسم کے منصوبہ بند شہر آباد کر دیئے۔ مثبت سوچ اسی طرح کام کرتی ہے۔ وہ ہر بربادی میں اپنے لئے نئی تعمیر کے امکانات ڈھونڈ لیتی ہے۔