خلیفہ کا مطلب
Al-Risala, April 2016, pp. 9–11
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نے جب آدم کو پیدا کرنے کا ارادہ کیا تو کہا: اِنّی جَاعِلٌ فِي الْاَرْضِ خَلِیفَةً (2:30)۔ یعنی میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ خلیفہ کا مطلب ہے بعد کو آنے والا (successor)۔ قرآن میں کئی جگہ یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے، مثلاً: ثُمَّ جَعَلْنَاكُمْ خَلَائِفَ فِي الْاَرْضِ (10:14)۔
قرآن کی مذکورہ آیت (2:30) کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے پہلے جنوں کو پیدا کیا جنوں نے زمین میں فساد برپا کیا۔ اس کے بعد اللہ نے ایک اور مخلوق انسان کی صورت میں پیدا کی۔ اس وقت فرشتوں نے یہ شبہہ ظاہر کیا: اَتَجْعَلُ فِیهَا مَنْ يُفْسِدُ فِیهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ (2:30)۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں نے یہ بات جنوں کے تجربہ کی بنیاد پر کہی تھی۔ یعنی جنوں کو آزادی دی گئی، اس کے بعد انھوں نے فساد برپا کیا۔ اب اگر انسان کو آزاد مخلوق کی حیثیت دی جائے تو وہ بھی آزادی کا غلط استعمال کریں گے اور فساد برپا کریں گے۔ قرآن میں یہ حوالہ گویا بطور انتباہ (warning) ہے۔ یعنی اس طرح انسان کو متنبہ کیا گیا کہ وہ جنوں کی مثال سے سبق لیں، اور آزادی کا غلط استعمال کر کے دوبارہ فساد اور سفک دماء کی غلطی ورنہ ان کو بھی جنوں جیسا انجام بھگتنا پڑے گا۔
قرآن کی اس آیت میں خلیفہ کا لفظ کسی سیاسی معنی میں نہیں ہے۔ وہ صرف اس معنی میں ہے کہ فطرت کے قانون کے مطابق، انسانوں کے اندر توالد و تناسل کا نظام قائم ہوگا، ایک نسل کے بعد دوسری نسل پیدا ہوگی، ایک گروہ کے بعد دوسرا گروہ اس کی جگہ لے گا۔ اس آیت میں خلیفہ کا لفظ انسان کے مشن کو بتانے کے لیے نہیں آیا ہے بلکہ اس کی تخلیقی نوعیت کو بتانے کے لیے آیا ہے۔
جہاں تک انسان کے مشن کا معاملہ ہے، اس کو جاننے کے لیے ہر انسان کو خدا کی کتاب کا مطالعہ کرنا خدا کی کتاب سے معلوم ہوگا کہ انسان کو اس زمین پر کس طرح زندگی گزارنا ہے۔ انبیاء کا نمونہ قرآن میں انبیاء کا ذکر کرتے ہوئے یہ آیت آئی ہے: اِنَّا اَخْلَصْنَاهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى یعنی ہم نے ان پیغمبروں کو ایک خاص مشن، آخرت کی یاد دہانی کے لیے چن لیا اس سے معلوم ہوا کہ پیغمبروں کے لیے اللہ کی طرف سے مقرر کردہ مشن کیا ہے۔ پیغمبر کی امت کو بھی ہر زمانے میں اسی مشن کی پیروی کرنا چاہیے۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کا مشن آخرت کا مشن تھا۔ مگر یہ مشن اتفاقاً نہیں اس کے لیے پیغمبروں کو تیار کیا جاتا ہے۔ وہ اپنا مشن شروع کرنے سے پہلے غور و فکر کی زندگی وہ یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ انسان کی زندگی کا مقصد کیا ہے۔ کے خالق نے ان کو کس منصوبہ کے تحت پیدا کیا ہے۔ غور و فکر کی اس زندگی کے بعد انھیں اللہ کی طرف سے ہدایت ملتی ہے۔ اور پھر وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اصل یہ ہے کہ انسان کی زندگی آخرت رخی (akhirat-oriented life) ہو، انسان کی سوچ کا مرکز و محور آخرت ہو، وہ اپنی زندگی اس سوچ کے تحت گزارے کہ دنیا میں اس کی شخصیت بنے، وہ آخرت کے اعتبار سے ایک کامیاب
پیغمبر اس لیے نہیں آتا کہ وہ ملی ورک یا سوشل ورک جیسے کام کرے یا کوئی سیاسی پروگرام پیغمبر کا مشن یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو زندگی کے اصل مقصد سے آگاہ کرے، وہ لوگوں کو بتائے کہ خالق کے تخلیقی نقشے کے مطابق، ان کے لیے کامیابی کیا ہے اور ناکامی کیا ۔ وہ دنیا میں کس طرح زندگی گزاریں کہ موت کے بعد جب وہ آخرت کی دنیا میں پہنچیں تو وہ اللہ کے انعام کے مستحق قرار اللہ کی طرف سے پیغمبروں کو یہ حکم ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے میں کسی جھکاؤ (tilt) کا ثبوت نہ دیں، وہ کسی سمجھوتے کے بغیر خدا کا اصل پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہیں۔ اس معاملے میں وہ کسی بھی
عذر کو استعمال نہ کریں۔