Al-Risala · April 2016

خلافت، ملوکیت

Al-Risala, April 2016, pp. 11–14

By Maulana Wahiduddin Khan

ارسطو (Aristotle) اپنے زمانے کے یونانی بادشاہ (Alexander the Great) کا استاد (tutor) تھا۔ ارسطو کا نظریہ تھا یونان میں آئیڈیل حکومت قائم کرنا۔ اس کے لیے اس نے نوجوان الیگزینڈر کی تربیت کرنے کی کوشش کی۔ مگر جب الیگزینڈر یونان کا بادشاہ بنا تو وہ بھی دوسرے حکمرانوں کی طرح صرف ایک اقتدار پسند بادشاہ بن گیا۔ ارسطو کا معیاری حکومت کا خواب واقعہ کی صورت اختیار نہ کر سکا۔

یہی تمام دنیا کے مفکرین اور مصلحین کا انجام ہوا ہے۔ انسانی تاریخ کے تمام سوچنے والے ذہن اسی آئیڈیلزم (idealism) کے مسحور کن تخیل (obsession) میں پڑے رہے۔ ہر ایک کا نشانہ صرف ایک تھا۔ وہ ہے دنیا میں آئیڈیل نظام قائم کرنا۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی ایک واقعہ ہے کہ پوری تاریخ میں کوئی بھی شخص اپنے آئیڈیل نشانے کو پورا نہ کر سکا۔ ہر ایک کا وہی حال ہوا جو چوتھی صدی قبل مسیح میں ارسطو کا ہوا تھا۔

اس کا سبب کیا ہے۔ یہ کوئی اتفاقی بات نہیں۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پولیٹکل آئیڈیلزم (political idealism) فطرت کے قانون کے خلاف ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، اس دنیا کے لیے صحیح سیاسی نظریہ پولیٹکل آئیڈیلزم نہیں ہے، بلکہ پولیٹکل پر یگمٹزم آئیڈیل سیاست کا حصول اس دنیا میں سرے سے ممکن ہی نہیں۔ آئیڈیل نظام کے لیے خالق نے جنت کی دنیا بنائی ہے۔ جنت کی دنیا ہر اعتبار سے آئیڈیل اور پر فیکٹ ہوگی۔ مگر خالق نے موجودہ دنیا کو آزمائش گاہ (testing ground) کے طور پر بنایا یہاں ہر عورت اور ہر مرد کو اس لیے پیدا کیا جاتا ہے کہ وہ مختلف قسم کے آزمائشی حالات میں رہ کر مثبت رسپانس (positive response) دے۔ تا کہ وہ جنت کے لیے مستحق امیدوار (deserving candidate) قرار پائے۔ اور پھر جنت کی ابدی دنیا میں داخلہ کے لیے اس کا

انتخاب کیا جائے۔ اس تخلیقی نقشہ (creation plan) کی بنا پر ہمیشہ یہی ہوگا کہ اس دنیا میں قائم ہونے والا سیاسی نظام انسان کی آزادی کے تابع ہو۔ اور اس بنا پر یہاں کبھی معیاری نظام نہ بن سکے۔

یہی اصول خود مسلم معاشرہ پر بھی منطبق (apply) ہوتا ہے۔ مسلم معاشرے میں افراد تو معیاری ہوسکتے ہیں۔ مگر عملی نظام مجموعی معنی میں کبھی معیاری نہیں ہوگا۔ ایک فرد خود اپنی ذاتی سوچ کے تابع ہوتا ہے۔ اس لیے وہ اپنی ذات کی حد تک اپنے آپ کو جیسا چاہے، ویسا بنا سکتا ہے۔ نظام ہمیشہ اجتماعی حالات کے تابع ہوتا ہے۔ انسان اپنی آزادی کا کبھی درست استعمال کرتا ہے اور کبھی غلط استعمال۔ اس بنا پر اس دنیا میں مجموعی اعتبار سے جو نظام بنے گا، وہ بیک وقت دونوں قسم کے اجزاء پر مشتمل ہوگا، کچھ درست اور کچھ نادرست۔ یہ فرق کسی نقص کی بنا پر نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ عین کیوں کہ وہ خالق کے نقشہ تخلیق کے مطابق ہوگا۔

کچھ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ اسلام میں خلافت کا مطلب معیاری سیاسی نظام ہے۔ اس بنا پر وہ ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان معیاری سیاسی نظام بنانے کی تحریکیں چلاتے ہیں۔ مگر اس قسم کی کوشش سے مطلوب نظام تو قائم نہیں ہوا، البتہ مسلمانوں کے اندر باہمی ٹکراؤ کی غیر مطلوب حالت قائم ہوگئی۔ ایسے مسلم قائدین نے صرف پولیٹیکل اپوزیشن کی مثالیں قائم کی ہیں، ان کی کوششوں کا کبھی کوئی مثبت انجام برآمد نہیں ہوا۔ خلافت کی اصطلاح اسلام میں افراد انسانی کی آزادی کو بتاتی ہے، نہ کہ معیاری سیاسی نظام کو۔ قرآن کے مطابق انسان کو خلیفہ بمعنی آزاد مخلوق بنایا گیا ہے۔ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ انسان اپنی آزادی کا عملی استعمال کس طرح کرتا ہے : لِنَنْظُرَ كَيْفَ

قرآن میں اولوالعزم انبیاء (الاحقاف: 35) کا حوالہ دیا گیا ہے۔ لیکن کسی بھی نبی کے بارے میں یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ اس نے اپنے زمانے میں معیاری خلافت کا نظام قائم کیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی قرآن کی کسی آیت میں یہ الفاظ نہیں آئے ہیں کہ تمھارا مشن یہ ہے کہ تم دنیا میں

معیاری خلافت قائم کرو۔ پیغمبر اسلام کا مشن بھی دوسرے انبیاء (النساء: 165) کی طرح انذار وتبشیر (الفرقان: 56) تھا، نہ کہ معیاری معنوں میں کسی سیاسی انتظام کا قیام۔ پیغمبر اسلام کے بعد صحابہ کے زمانے میں جو سیاسی نظام قائم ہوا، اس میں بھی مسلم حا کم کو خلیفہ نہیں کہا گیا، بلکہ امیر المومنین کہا گیا۔ اس صورتِ حال کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خلافت کا نظام ملوکیت کے نظام میں تبدیل ہو گیا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وقت کے حالات کے مطابق، جو سیاسی نظام قابل عمل (workable) تھا، وہ قائم ہوا اور وقت کے مسلمانوں نے اس کو قبول کیا۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ہر نظام میں اسلام کا مطلوب تعمیری سفر بدستور جاری رہا۔ حالات میں تغیر کے باوجود، اس میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا۔ تھیسس، اینٹی تھیسس فریڈرش ہیگل (وفات 1831) اٹھارویں صدی کا مشہور جرمن فلسفی ہے۔ اس نے ایک فلسفہ پیش کیا۔ جس کو تھیسس اور انٹی تھیسس (thesis and anti-thesis) کہا جاتا ہے۔ اس نظریہ کو انسانی تاریخ پر منطبق کرتے ہوئے، کارل مارکس نے اپنا مشہور نظریہ جدلیاتی مادیت (dialectical materialism) وضع کیا۔ ہیگل اور مارکس، دونوں نے ایک مشترک غلطی تاہم ان کے نظریے میں ایک جزئی صداقت پائی جاتی ہے۔ مزید غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس نظریے کی اصل فطرت کے ایک قانون پر قائم ہے۔ یہ قانون وہی ہے جس کو قرآن میں قانون دفع (البقرۃ: 251، الحج: 40) کہا گیا ہے۔

قرآن میں دفع کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دفع کا لفظی مطلب ہے، ہٹانا (to repel)۔ مراد تاریخ کے وہ انقلابات ہیں جو ایک قوم کو غلبہ کے مقام سے ہٹاتے ہیں اور اس کے بعد دوسری قوم کو موقع ملتا ہے کہ وہ دنیا کا نظام سنبھالے۔ اس قسم کے انقلابات تاریخ میں بار بار ہوئے ہیں۔ یہ انقلابات بظاہر انسان کے ذریعے انجام پاتے ہیں۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ خالق کا منیجمنٹ (management) ہوتا ہے۔ خالق انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے تاریخ کو مینیج (manage) کر رہا ہے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو قرآن میں دفع کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔

اسی تاریخی حقیقت کو ہیگل اور مارکس نے اس طرح بیان کیا کہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک صورت حال یا مقدمہ (thesis) سامنے آتا ہے۔ اس کے بعد خود تاریخی اسباب سے اس کا جوابی مقدمہ (anti-thesis) وجود میں آتا ہے۔ اس کے بعد ایک امتزاج (synthesis) وجود میں آتا ہے جو سابق حالت کی جگہ لے لیتا ہے۔ اس طرح تاریخ کا سفر برابر جاری رہتا ہے۔ سیکولر تاریخ کے ساتھ بھی پیش آتا ہے اور مذہبی تاریخ کے ساتھ بھی۔ قانون فطرت کے مطابق ایسا ہوتا ہے کہ حالات کے تحت ایک ایکشن (action) سامنے پھر اس کے جواب میں ایک ری ایکشن (reaction) پیدا ہوتا ہے۔ اس کے بعد تیسری شکل سامنے آتی ہے، وہ اس صورت حال کا رسپانس (response) ہے۔ (negative response) حالات کو مزید بگاڑتا ہے، اور پازیٹیو رسپانس (positive response) سماج کو ایک بہتر دور کی طرف لے جاتا ہے۔ یہی پوری انسانی تاریخ میں ہوا ہے۔ اس حقیقت کو جاننا، اور ری ایکشن سے بچ کر صورت حال کا پازیٹیو رسپانس دینا یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا راز ہے۔

Printed page