والدین کی ذمہ داری
Al-Risala, January 2016, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
اولاد کی تربیت کے بارے میں ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے : ما نحل والد ولداً من نحل أفضل من أدب حسن ۔ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 1952) کسی باپ کی طرف سے اس کے بیٹے کے لیے سب سے بہتر تحفہ یہ ہے کہ وہ اس کی اچھی تربیت کرے۔ اس حدیث میں ادب حسن کا مطلب زندگی کا بہتر طریقہ ہے۔ بیٹا یا بیٹی بڑے ہونے کے بعد دنیا میں کس طرح رہیں کہ وہ کامیاب ہوں، وہ اپنے گھر اور اپنے سماج کا بوجھ (liability) نہ بنیں بلکہ اپنے گھر اور اپنے سماج کا سرمایہ (asset) بن جائیں۔
والدین اپنے بچوں کو اگر لاڈ پیار (pampering) کریں تو انھوں نے بچوں کو سب بُرا تحفہ اور اگر والدین اپنے بچوں کو زندگی گزارنے کا کامیاب طریقہ بتائیں، اور اس کے لیے ان کو تیار کریں تو انھوں نے اپنے بچوں کو بہترین تحفہ دیا۔ مثلاً بچوں میں یہ مزاج بنانا کہ وہ دوسروں کی شکایت کرنے سے بچیں۔ وہ ہر معاملے میں اپنی غلطی تلاش کریں، وہ اپنی غلطی تلاش کر کے اس کو درست کریں، اور اس طرح اپنے آپ کو بہتر انسان بنائیں۔ وہ دنیا میں تواضع (modesty) کے مزاج کے ساتھ رہیں، نہ کہ فخر اور برتری کے مزاج کے ساتھ۔ زندگی میں ان کا اصولِ حیات یہ ہو کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہرائیں، نہ کہ دوسروں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کریں۔ وہ اپنے وقت اور اپنی توانائی کو صرف مفید کاموں میں لگائیں۔
والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو یہ بتائیں کہ اگر تم غلطی کرو تو اس کی قیمت تم کو خود ادا کرنا کوئی دوسرا شخص نہیں جو تمھاری غلطی کی قیمت ادا کرے۔ کبھی دوسروں کی شکایت نہ کرو۔ کی شکایت کرنا اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ ہمیشہ مثبت انداز سے سوچو، منفی سوچ سے مکمل طور پر اپنے آپ کو بچاؤ۔ بُری عادتوں سے اس طرح ڈرو، جس طرح کوئی شخص سانپ بچھو سے ڈرتا ہے۔ چاہیے کہ وہ اپنی اولاد کو ڈیوٹی کانشس بنائیں، نہ کہ رائٹ (right) کانشس۔