Al-Risala · April 2016

اسلام اور سلطان

Al-Risala, April 2016, pp. 14–19

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام کی تاریخ 610 عیسوی میں شروع ہوئی ۔ 632 عیسوی میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد اس دور کا آغاز شروع ہوا جس کو عام طور پر خلافت کا دور کہا جاتا ہے۔ کی مدت تقریباتیس (30) سال ہے۔ اس مدت میں چار صحابی خلیفہ مقرر ہوئے۔ خلفاء کا تقرر چار مختلف طریقوں (methods) سے ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خلیفہ یا سیاسی قائد (political leader) کے تقرر کا معاملہ اسلام میں مبنی بر نص (based on text) معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ مبنی بر اجتہاد معاملہ ہے۔ اس بنا پر اس کے لیے کوئی واحد معیاری ماڈل نہیں ۔ اس کا فیصلہ حالات کی بنیاد پر بذریعہ اجتہاد کیا جاتا ہے۔

خلافت کے بعد امیر معاویہ (وفات : 41ھ) کا دور شروع ہوا۔ وہ ایک صحابی تھے۔

زمانے میں حکومت کے لیے خاندانی ماڈل (dynasty) کو اختیار کر لیا گیا۔ اس وقت صحابہ بڑی تعداد میں موجود تھے۔ صحابہ نے اس خاندانی ماڈل کو عملاً قبول کر لیا۔ اس کے بعد اسلام کی پوری سیاسی تاریخ اسی ماڈل پر چلتی رہی۔ صحابہ، تابعین، تبع تابعین، محدثین، فقہاء، علماء سب کے سب اس ماڈل پر راضی ہو گئے۔ اس کے بعد اسلام کی تاریخ میں مختلف مسلم حکومتیں قائم ہوئیں۔ مثلاً بنو امیہ کا دور، بنو عباس کا دور، عثمانی ایمپائر، مغل ایمپائر، وغیرہ۔ یہ تمام اسی خاندانی ماڈل پر قائم ہوئے۔ اور دورِ اول کے وہ تمام لوگ جن کو اسلاف کہا جاتا ہے، ان سب نے اس ماڈل کو عملاً قبول کر لیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ یہ ماڈل تاریخی عمل کے نتیجے میں ایک مقبول ماڈل (historically accepted model) بن چکا تھا۔ یہی خاندانی ماڈل موجودہ زمانے کی عرب ریاستوں میں قائم ہے۔

مسلم علماء کے درمیان منہج سلف کو معیاری منہج مانا جاتا ہے۔ متقدمین یا اسلاف کا یہ منہج جس دور میں بنا وہ پورا دور خاندانی ریاست (dynasty) کا دور تھا۔ اس دور کو تمام علمائے امت نے درست منہج کے طور پر قبول کر لیا۔ کسی قابل ذکر عالم نے اس کے خلاف خروج (revolt) نہیں کیا۔ حتیٰ کہ عباسی دور میں تمام علماء کے اجماع سے یہ مسئلہ بنا کہ مسلم حکمراں کے خلاف خروج کرنا حرام بطور حوالہ مشہور محدث امام نووی (وفات: 676 ھ) کا ایک قول یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ انھوں نے اس معاملے میں منہج سلف کی ترجمانی کرتے ہوئے لکھا ہے: و أما الخروج عليهم وقتالهم فحرام بإجماع المسلمين وإن كانوا فسقة ظالمين۔ (شرح النووي على صحيح مسلم، کتاب الامارة، 12/229) یعنی مسلم حکمرانوں کے خلاف خروج کرنا اور ان سے قتال کرنا مسلمانوں کے اجماع کے تحت حرام ہے۔ خواہ وہ (کسی کے نزدیک ) ظالم اور فاسق ہوں۔

اس زمانے میں یہ مسلم حکمران کون تھے۔ یہ وہی تھے جو خاندانی حکومت (dynasty) کے اصول کے تحت حکمراں بنے تھے۔ موجودہ زمانے کی عرب ریاستیں اسی خاندانی نظام کا امتداد اس لیے علماء کا یہ متفقہ فتویٰ موجودہ عرب ریاستوں پر بھی عین اسی طرح اپلائی (apply) ہوگا جس طرح وہ اس سے پہلے کی مسلم ریاستوں پر اپلائی ہوتا ہے۔

علماء نے متفقہ طور پر خاندانی حکومت (dynasty) کو کیوں درست ماڈل کے طور پر مان اس کا سبب یہ ہے کہ اسلام میں حکومت کا اصل مقصد تمکین فی الارض (22:41) ہے، نہ کہ کسی مخصوص ڈھانچہ کو قائم کرنا۔ تمکین سے مراد سیاسی استحکام (political stability) ہے۔ استحکام سے معتدل ماحول قائم ہوتا ہے۔ اور معتدل ماحول سے علمائے اسلام اور مصلحین امت کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر دین کے تمام غیر سیاسی شعبوں کو چلائیں۔ اس معاملے کی ایک حکمت یہ ہے کہ زندگی کا نظام قانون اور حکومت پر کم اور روایات (traditions) پر زیادہ چلتا ہے۔ اور روایات کا معاملہ یہ ہے کہ وہ لمبی مدت تک کے عمل کے بعد کسی سماج میں قائم ہوتی ہیں۔ درست طور پر کہا جاتا ہے کہ روایت ہمیشہ لمبی تاریخ کے بعد بنتی ہے :

It requires a lot of history to make a little tradition. یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حکومت کی حیثیت اگر سیاسی سلطنت (political empire) کی ہے تو روایات کی حیثیت غیر سیاسی سلطنت (non-political empire) کی ہے۔ روایات پر مبنی سلطنت اگرچہ ایک ناقابل مشاہدہ سلطنت (unseen empire) ہوتی ہے۔ لیکن کسی سماج کا نظام سب سے زیادہ بلکہ تقریباً 99 پرسنٹ عملاً اسی غیر سیاسی سلطنت کے تحت چلتا ہے۔ یہ غیر سیاسی سلطنت ہمیشہ وہ لوگ بناتے ہیں جو حکومت کے دائرے سے باہر مسلسل طور پر اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ اسلام پر نبیوں کی آمد کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ اس لیے ضروری تھا کہ دین کا تسلسل قائم کرنے کے لیے مسلم سماج میں اسلام کا ایک روایتی ڈھانچہ بنے۔ اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ رسالت کے زمانے میں مخالفت، بائیکاٹ، لڑائی اور ہجرت جیسے واقعات کی بنا پر حالات کا وہ تسلسل نہیں بنا جس میں روایات قائم ہوں۔ خلافت کے زمانے میں باہمی اختلافات بہت زیادہ ابھر آئے۔ کہ چار میں سے تین خلیفہ کو قتل کر دیا گیا۔ اس لیے خلافت کے زمانے میں بھی دینی تسلسل کا مطلوب ماحول نہ بن سکا۔

اللہ اپنے منصوبے کے مطابق ، پورے عالم تخلیق کو پیچ (manage) کر رہا ہے۔ (physical world) اللہ کے مکمل کنٹرول کے تحت چل رہی ہے۔ انسان کو چوں کہ مقصد تخلیق کے تحت آزادی دی گئی ہے۔ اس لیے انسانی دنیا میں اللہ کا طریقہ مختلف ہے۔ اور وہ ہے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے انسانی تاریخ کو مطلوب انداز میں پیچ کرنا۔ اس لیے اللہ کی مرضی ہوئی کہ ایسا سیاسی انتظام بنے جو مسلسل طور پر بلا انقطاع چلنے والا ہو۔ اس کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں پایا جاتا ہے: اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ (15:9) ۔ حفاظت کے وسیع تر معنی میں یہاں پورے دین اسلام کی حفاظت شامل ہے۔ دور رسالت کے تقریباً 30 سال کے بعد امت کے اندر خاندانی حکومت (dynasty) کا جو نظام قائم ہوا، وہ اسی خدائی نظام کے تحت وقوع میں آیا۔ اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ خاندانی حکومت کے قیام کے بعد امت کے اندر مطلوب ماحول عملاً قائم ہو گیا۔ اس نظام کو امت نے قبول کر لیا۔ ایسا پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کے تحت ہوا۔ اس نظام کے تحت جو تسلسل قائم ہوا، اس کے زیر اثر دینی روایات بننا شروع ہو گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر پورے عالم اسلام میں دین کا ایک روایتی ڈھانچہ عملاً قائم ہے۔ اس کی وجہ سے امت کے ہر فرد کے لیے یہ آسان ہو گیا ہے کہ وہ پیدا ہوتے ہی دین اسلام کو پہچان لے اور اس پر عمل کرنے لگے۔

اسلام کی تاریخ بتاتی ہے کہ قدیم زمانے میں امیر معاویہ کے بعد جب خاندانی ریاست کا نظام قائم ہوا تو حالات میں استحکام پیدا ہو گیا۔ اور تمام دینی کام اسموتھ (smooth) طور پر انجام مثلاً قرآن کی حفاظت ، حدیث کی جمع و تدوین، فقہ کی تدوین، علوم اسلامی کی تدوین، مسجد و مدرسے کا نظام قائم ہونا ، حج و عمرہ کا نظام، دین کی تبلیغ و اشاعت، وغیرہ۔ یہ تمام کام امن اور اعتدال کے ماحول میں انجام پانے لگے۔ علوم اسلامی کا کتب خانہ پورا کا پورا اسی دور میں تیار ہوا۔ یہ کام اس سے پہلے عدم استحکام کی بنا پر کم ہو رہا تھا۔ اور استحکام کے بعد سے یہ نظام عملاً آج تک تقریباً اسی طرح

امام مالک بن انس (وفات : 179 ھ) اپنے استاد وہب ابن کیسان کے حوالے سے کہتے ہیں : انہ لا يصلح آخر هذه الأمة إلا ما أصلح أولها۔ (مسند الموطا للجوہری، حدیث نمبر 783) یعنی بلاشبہ اس امت کے دورِ آخر کی اصلاح بھی اسی طریقے کی پیروی سے ہوگی جس طریقہ کی پیروی سے امت کے دور اول کی اصلاح ہوئی۔ اول امت (earlier ummah) سے مراد وہی دور ہے جس کو متقدمین کا دور یا اسلاف کا دور کہا جاتا ہے۔ اور دورِ اسلاف پورا کا پورا وہی ہے جو خاندانی ریاست کے دور میں وجود میں آیا۔ اس سے یہ بات مستنبط ہوتی ہے کہ دور اول میں جس سیاسی ماڈل کو تمام علماء کے اتفاق رائے سے قبول کیا گیا تھا اور جس کے نتیجے میں امت کے تمام کام درست طور پر انجام پائے، وہی ماڈل امت کے بعد کے دور کے لیے بھی درست ہے۔ اسی طریقہ کے مطابق بعد کے زمانے میں بھی امت کی اصلاح ممکن ہے۔

صحابی رسول عبد اللہ ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الإسلام والسلطان أخوان توأمان (كنز العمال، حدیث نمبر 14613)۔ یعنی اسلام اور سلطان دو جڑواں بھائی ہیں۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں: الملك والدين توأمان (کشف الخفاء، حدیث نمبر (2329)۔ یعنی ملک اور دین دونوں جڑواں بھائی ہیں۔

ان روایتوں میں سلطان اور ملک، دونوں کے معنیٰ ایک ہیں۔ یعنی سیاسی اقتدار اس سے معلوم ہوا کہ اسلام میں سیاسی اقتدار کا رول اصلاً تائیدی رول (supporting role) ہے۔ سیاسی اقتدار کا کام یہ ہے کہ وہ اسلام کے لیے طاقت ور مددگار بنے، وہ اسلام کو شیلٹر (shelter) عطا کرے۔ تا کہ اس کے زیر سایہ تمام دینی کام اسوتھ (smooth) طور پر انجام پائیں۔

قرآن میں عدل یا قسط کے معاملے کو متعدی کے صیغے میں بیان نہیں کیا گیا ہے بلکہ لازم کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی عدل کی پیروی کرو (5:8)، قسط پر قائم رہو (4:135)۔ سیاسی اقتدار کا کام عدل و قسط کی تنفیذ (enforcement) نہیں ہے۔ بلکہ وہ یہ ہے کہ وہ سماج میں

معتدل حالات قائم کرے تاکہ لوگوں کو یہ موقع ملے کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر اپنی زندگی میں عدل و قسط کے پیرو بن سکیں۔

سیاسی اقتدار کے اسی رول کی بنا پر اسلام میں سیاسی اقتدار کا کوئی ایک خارجی ماڈل نہیں سیاسی اقتدار کا کام یہ ہے کہ وہ اہل اسلام کو امن اور حفاظت عطا کرے۔ تاکہ دین کے تمام کام معتدل انداز میں انجام پائیں۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے علماء نے متفقہ طور پر خاندانی حکومت (dynasty) کے ماڈل کو درست ماڈل کی حیثیت سے قبول کر لیا جو کہ واضح طور پر ابتدائی خلافت کے ماڈل سے مختلف تھا۔ کیوں کہ انھوں نے دیکھا کہ اس ماڈل کے تحت اہل اسلام کو امن اور حفاظت کا مقصد بخوبی طور پر حاصل ہو رہا ہے۔ اور تمام دینی کام بلا رکاوٹ انجام پا رہے ہیں جو کہ اس سے پہلے عملاً پورے طور پر حاصل نہ تھے۔

Printed page