اسلام کا تاریخی رول
Al-Risala, April 2016, pp. 19–31
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کو اللہ نے آزاد مخلوق کی حیثیت سے بنایا ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنی عقل کو استعمال کر کے خالق کے تخلیقی نقشہ (creation plan) کو دریافت کرے۔ ارادے کے تحت اپنی زندگی کو اس کے مطابق بنائے۔ اس حقیقت کو بتانے کے لیے اللہ نے بار بار اپنے پیغمبر بھیجے ۔ ہزاروں سال کے دوران بڑی تعداد میں ہر علاقے میں پیغمبر آئے۔ پیغمبروں کے ساتھ استہزاء (یس: 30) کا معاملہ کرتا رہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دین خداوندی کی کوئی تاریخ نہیں بنی۔
آخر میں اللہ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ انسانی تاریخ میں مداخلت کرے۔ اور پیغمبروں کا مشن جو دعوت کے مرحلے پر ختم ہوتا رہا، اس کو خصوصی تائید کے ذریعے انقلاب (revolution) کے مرحلے تک پہنچائے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اسی مقصد کے ساتھ ہوئی۔ آپ کے ذریعے دین خداوندی کو دعوت سے شروع کیا گیا، اور پھر اس کو انقلاب کے مرحلے تک پہنچا دیا گیا۔
بعد کسی نئے نبی کی ضرورت نہ تھی، اس لیے اعلان کر دیا گیا کہ پیغمبر اسلام سلسلہ نبوت کے آخری شخص (الاحزاب :40) ہیں۔
پیغمبر اسلام کے حوالے سے قرآن میں تین بار، لیُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (التوبة:33، الفتح:28، الصف:9) کے الفاظ آئے ہیں۔ ان آیتوں میں اظہارِ دین کا لفظ سیاسی حکومت کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ نظریاتی انقلاب کے معنی میں ہے۔ یہ ایک پُرامن انقلاب ہے۔ زمانے میں سائنس کو ایک نظریاتی غلبہ کا درجہ حاصل ہے۔ حالاں کہ سائنس یا سائنسدانوں کی کوئی سیاسی حکومت نہیں۔
اظہارِ دین سے مراد کوئی عملی نظام قائم کرنا نہیں۔ بلکہ اس کا اصل مقصد یہ تھا کہ دین خداوندی کے راستے کی تمام رکاوٹوں کو عملاً ختم کر دیا جائے۔ تا کہ جو انسان دین خداوندی کے راستے پر چلنا چاہے، وہ آزادانہ طور پر اس پر چل سکے اور خالق کے تخلیقی نقشہ کے مطابق، اپنی شخصیت ڈیولپ کرنے میں اس کو کوئی خارجی رکاوٹ نہ آئے۔
دینِ حق کی یہ رکاوٹیں بنیادی طور پر دو تھیں، ایک شرک (polytheism) اور دوسرے قدیم زمانے میں شرک اور بادشاہت کے نظام کو رفتہ رفتہ کامل غلبہ حاصل ہو گیا تھا۔ اس بنا پر عملاً یہ ناممکن ہو گیا تھا کہ کوئی شخص دین خداوندی کے راستے پر کامل آزادی کے ساتھ چل سکے۔ اور اپنے آپ کو اللہ کا مطلوب انسان بنائے۔
اعتقادی اعتبار سے شرک اور عملی اعتبار سے بادشاہت، اس راستے میں مستقل رکاوٹ بنے اللہ نے پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب کو خصوصی تائید عطا کی۔ تا کہ ان دونوں نظاموں کو وہ غلبہ کے مقام سے ہٹادیں اور ایسے حالات پیدا کر دیں جن میں انسانی تاریخ اپنے مطلوب رخ پر سفر کر سکے۔
پہلے نشانے کو ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لا يجتمع دينان في جزيرة العرب (موطا امام مالک ، حدیث نمبر 1862)۔ یعنی جزیرہ عرب میں دو دین اکٹھا نہیں
ساتویں صدی میں جب آپ نے یہ فرمایا اس وقت یہ حال تھا کہ مکہ کے مقدس کعبہ کو شرک کا مرکز بنا دیا گیا تھا۔ کعبہ کی عمارت میں تقریباً تین سو ساٹھ بت رکھ دیے گیے تھے۔ مختلف قبائل کے بت تھے۔ اس لیے مشرک قبائل کے لیے کعبہ نے مذہب شرک کے مرکز کی حیثیت حاصل کر لی تھی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی خصوصی تائید کے تحت ایک دور رس منصوبہ بنایا۔ کے نتیجے میں بیس سال کے اندر کعبہ کی حیثیت بدل گئی۔ وہ شرک کے مرکز کے بجائے توحید کا مرکز بن ایسا اس طرح ہوا کہ عرب قبائل کے سردار بڑی تعداد میں اسلام میں داخل ہوئے ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ موقع ملا کہ وہ کعبہ کو بتوں سے پاک کر دیں، اور ابراہیمی نقشہ کے مطابق اس کو توحید کے مرکز کی حیثیت دے دیں۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کا دوسرا نشانہ یہ تھا کہ بادشاہت کا دور ہمیشہ کے لیے ختم اس مشن کا ذکر ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں آیا ہے: إذا هلك كسرى فلا كسرى بعده، وإذا هلك قيصر فلا قيصر بعده (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3120) یعنی جب کسریٰ ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں ہوگا، اور جب قیصر ہلاک ہوگا تو اس کے بعد کوئی اور قیصر نہ ہوگا۔ کسریٰ سلطنت ایران (Sassanid Empire) کا حکمراں تھا۔ سلطنت روم (Byzantine Empire) کا حکمراں تھا۔ یہ دونوں قدیم بادشاہی نظام کی علامت بنے ہوئے تھے۔ اللہ کو یہ منظور تھا کہ یہ دونوں بادشاہتیں ختم ہو جائیں۔ اور پھر اس کے بعد کوئی بادشاہت کا نظام دوبارہ دنیا میں قائم نہ ہو۔
یہ ایک بے حد مشکل منصوبہ تھا۔ اس منصوبہ کو اس طرح آسان بنا دیا گیا کہ پہلے پیغمبر اسلام کے زمانے میں ساسانی ایمپائر اور بازنطینی ایمپائر میں زبردست ٹکراؤ ہوا۔ اس کے نتیجے میں دونوں سلطنتیں کمزور ہو گئیں۔ اس کا اشارہ قرآن کی سورہ الروم کے ابتدا میں کیا گیا ہے۔ کی تکمیل عمر فاروق کے زمانے میں ہوئی، جبکہ اہل ایمان سے دونوں بادشاہتوں کا فوجی ٹکراؤ ہوا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں سلطنتیں ٹوٹ کر عملاً ختم ہوگئیں۔
اس طرح انسانی تاریخ میں ایک نیا دور شروع ہوا۔ یہ دور ایک تاریخی عمل (historical process) کی صورت میں تھا۔ اس تاریخی عمل میں اہل اسلام اور سیکولر گروہوں نے مشترک طور پر کام کیا۔ یہ ایک عظیم تاریخی عمل تھا، جس کی تکمیل یورپ کی نشأۃ ثانیہ (Renaissance) کے زمانے میں انجام پائی۔
شرک کے دور کا خاتمہ، توہماتی دور (age of superstition) کا خاتمہ تھا۔ پہلے پوری تاریخ میں توہماتی فکر چھایا ہوا تھا۔ اسلامی انقلاب کے بعد پہلی بار یہ توہماتی دور ختم ہوا۔ انسان کے درمیان عقلی تفکیر (rational thinking) آئی۔ جس کے نتیجے میں جدید علوم پیدا فطرت کے رموز دریافت ہوئے۔ سائنس کا دور آیا، جس نے انسانی تاریخ کو ایک نئے تاریخی دور میں پہنچادیا۔
قرآن وحدیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اظہارِ دین کے منصوبے میں دو طرح کے اجزاء شامل تھے، ایک وہ جو رسول اور اصحابِ رسول کے زمانے میں واقعہ بن گیا۔ شرک کے دور کا خاتمہ اسی پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔ شرک کے دور کا خاتمہ رسول اور اصحابِ رسول کے ذریعے شروع ہوا، اور انھیں کے زمانے میں عملاً تکمیل تک پہنچ گیا۔ شرک کا کلچر اگر چہ اب بھی بعض گوشوں میں بظاہر موجود ہے، لیکن اب وہ کہیں بھی غالب حیثیت میں نہیں۔
اظہارِ دین کا دوسرا پہلو وہ ہے جس کو قرآن وحدیث میں مستقبل کے صیغے میں بیان کیا گیا مثلاً آیات کے ظہور کے بعد حق کی کامل تبیین (فصلت: 53)، یا حدیث کا یہ ارشاد: لیبلغن هذا الأمر ما بلغ الليل والنهار، ولا يترك الله بيت مدر ولا وبر إلا أدخله الله هذا الدين، بعز عزيز أو بذل ذليل (مسند احمد، حدیث نمبر 16957)، وغیرہ۔ اظہارِ دین کا یہ دوسرا پہلو، ایک ایسا پہلو تھا جو نسل در نسل گہری کوشش کے بعد مکمل ہونے والا تھا۔ اس لیے اللہ نے یہ مقدر کر دیا کہ اس کام میں سیکولر لوگوں کی تائید بھی بھر پور طور پر حاصل ہو۔ یہی وہ حقیقت ہے جو ایک حدیث
رسول میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: إن اللہ لیؤید هذا الدين بالرجل الفاجر ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔
اظہارِ دین کا یہ انقلاب اکیسویں صدی میں اپنے آخری تکمیل تک پہنچ چکا ہے۔ ایمان کا یہ کام ہے کہ وہ اس پیدا شدہ مواقع کو بھر پور طور پر دینِ خداوندی کی عالمی دعوت کے لیے تا کہ کوئی پیدا ہونے والا انسان اس سے بے خبر نہ رہے کہ اس کے خالق نے اس کو کیوں پیدا کیا ہے۔ اور خالق کا تخلیقی منصوبہ (creation plan) ان کے بارے میں کیا ہے۔ ربانی انسائیکلو پیڈیا قرآن میں بعض باتیں خبر کی زبان میں ہیں۔ مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ ایک انشاء کا قرآن میں اسی نوعیت کی دو آیتیں ہیں۔ ان دونوں کا ترجمہ یہ ہے: کہو کہ اگر سمندر میرے رب کی نشانیوں کو لکھنے کے لئے روشنائی ہو جائے تو سمندر ختم ہو جائے گا اس سے پہلے کہ میرے رب کی باتیں ختم ہوں، اگر چہ ہم اس کے ساتھ اسی کے مانند اور سمندر ملائیں (18:109)۔ اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں۔ بے شک اللہ زبر دست ہے، حکمت والا ہے۔
قرآن کی ان آیتوں میں ایک عظیم حقیقت کا بیان ہے۔ یہ بیان صرف بیان کے لیے نہیں بلکہ وہ ایک عظیم الہی منصوبہ کا اعلان ہے۔ یہ ایک مطلوب چیز ہے کہ عالم تخلیق میں کلمات اللہ یا آلاء اللہ کا مطالعہ کیا جائے ۔ اور اس کو لکھ کر تیار کیا جائے۔ یہ کام موجودہ دنیا کے محدود حالات میں نہیں اس کے لیے زیادہ بڑی ، ایک لا محدود دنیا در کار ہے۔ آخرت کی دنیا، اسی قسم کی ایک لا محدود دوسرے الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آخرت کی دنیا میں کرنے کا ایک کام یہ ہوگا کہ کلمات اللہ اور آلاء اللہ کو در یافت کیا جائے اور ان کی بنیاد پر ایک انسائیکلو پیڈیا یا ئی لائبریری تیار کی جائے۔ عظیم انسائیکلو پیڈیا ہی ہو گی جس کو ہم نے ربانی انسائیکلو پیڈیا کا نام دیا ہے۔
موجودہ محدود دنیا میں یہ ربانی انسائیکلو پیڈیا لکھی نہیں جا سکتی۔ خالق نے اس دنیا کو اس لیے بنایا ہے کہ اس دنیا میں اس عظیم ربانی انسائیکلو پیڈیا کے لکھنے والے (writers) تیار کیے جائیں۔ پھر آخرت کی دنیا میں ان افراد کو وہ تمام ضروری مواقع اعلیٰ ترین سطح پر مہیا کیے جائیں، جن کو استعمال کر کے وہ اس ربانی انسائیکلو پیڈیا یا کو تیار کریں۔ یہ کام کوئی مشقت کا کام نہ ہوگا، بلکہ وہ آخری حد تک ایک محفوظ کام (enjoyable task) ہوگا۔ اس واقعے کا اشارہ قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے: اِنَّ أَصْحَابَ الْجَنَّةِ الْيَوْمَ فِيْ شُغُلٍ فَاكِهُوْنَ (36:55) ۔ بے شک جنت کے لوگ آج اپنے مشغلوں میں خوش ہوں گے۔
ربانی انسائیکلو پیڈیا کی تحریر میں اپنے آپ کو شامل کرنا، بلا شبہ ایک ایسا انقلابی تصور ہے جو آدمی کو آخری حد تک پر شوق بنا دیتا ہے۔ وہ اپنے پورے وجود کی تعمیر اس طرح کرنے لگتا ہے کہ وہ اس عظیم اور مقدس ٹیم کا ایک ممبر بن جائے۔
ربانی انسائیکلو پیڈیا کی تیاری کا نشانہ کسی صاحب ایمان کے لیے سب سے بڑا نشانہ ہے۔ صاحب ایمان اس نشانے کو دریافت کرلے، اس کی پوری زندگی بدل جائے گی۔ وہ منفی سوچ (negative thinking) سے پوری طرح خالی ہو جائے گا۔ نفرت، تشدد اور جنگ جیسی چیزوں میں اپنے کو مشغول کرنے کے لیے اس کے پاس وقت ہی نہیں ہوگا۔
قرآن کی مذکورہ آیتوں میں روشنائی اور قلم کا ذکر ہے۔ یہ دوسرے الفاظ میں تصنیفی منصوبہ کا ان آیتوں میں روشنائی اور قلم کا لفظ تمثیل کی زبان میں ربانی انسائیکلو پیڈیا کی تیاری کے عظیم کام کو بتاتا ہے۔ یہ علامتی طور پر اس پورے انفراسٹرکچر کو بتا رہا ہے جو ربانی انسائیکلو پیڈیا کی تیاری کے لیے کائناتی سطح پر مطلوب ہوں گے۔
قرآن میں جنت کی نعمتوں کا ذکر ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنت میں اہل جنت کے لیے ہر قسم کی سہولتیں اعلیٰ سطح پر حاصل ہوں گی ۔ یہ نعمتیں اپنے آپ میں جنت کی واحد چیز نہیں۔ قرآن کے بیان کے مطابق، وہ بطور ٹرٹل (فصلت (32) ہوگی۔ یعنی رب العالمين کی طرف سے
مہمانی (hospitality) کے طور پر۔
اسلام نے انسان کے لیے زندگی کا جو تصور (concept) دیا ہے، اس میں نفرت اور تشدد کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ یہ تصور انسان کے اندر اعلیٰ سوچ (high thinking) پیدا کرتا ہے، اس میں ہر قسم کی منفی سوچ اس طرح ختم ہو جاتی ہے جیسے کہ اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ یہ تصور انسان کو مکمل معنوں میں ایک مثبت شخصیت (positive personality) بنا دیتا ہے۔
زندگی کے اس تصور کے مطابق، جنت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جنت میووں اور حوروں کی ایک دنیا ہے، اور آدمی کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ خود کش بمباری (suicide bombing) کی چھلانگ لگا کر اس دنیائے عیش میں پہنچ جائے۔ جنت کا یہ تصور، جنت کا کمتر اندازہ جنت ایک اعلیٰ نوعیت کی با معنی سرگرمیوں (meaningful activities) کا مقام ہے۔ نہ کہ محدود معنوں میں صرف ایک عیش خانہ۔ جنت میں داخلے کی پہلی شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو جنتی دنیا کے لیے مستحق امیدوار (deserving candidate) بنائے۔ جنت میں داخلے کے لیے موجودہ دنیا میں تیاری کے عظیم جدوجہد کے کورس سے گزرنا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ فیصلہ ہوگا کہ کوئی شخص جنت کی دنیا میں داخلے کا استحقاق رکھتا ہے یا نہیں۔
زندگی کا یہ تصور ایک شخص کی زندگی سے دنیارخی (worldly-oriented) زندگی کا مکمل خاتمہ کر دیتا ہے، وہ اس کو پورے معنوں میں آخرت رخی (akhirat-oriented) بنا دیتا ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا پیغمبرانہ مشن شروع کیا۔ توحید کا مشن تھا۔ یعنی توحید کو نظریاتی اعتبار سے سب سے زیادہ برتر نظریہ بنا دینا۔ مکہ کے سرداروں نے ایک بار آپ کو بلایا، آپ سے پوچھا کہ آپ ہم سے کیا چاہتے ہیں۔ پیغمبر اسلام نے جواب دیا: كلمة واحدة تعطونيها تملكون بها العرب، وتدين لكم بها العجم ( سیرت ابن ہشام،
جلد 1 صفحہ 417 )۔ یعنی میں صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں، تم وہ کلمہ مجھ کو دے دو، تم عرب کے مالک ہو جاؤ گے، اور عجم تمھارے آگے جھک جائیں گے۔ یہاں کلمہ کا مطلب ہے آئیڈیالوجی۔ پیغمبر اسلام نے یہ بات سیاسی اقتدار کے معنی میں نہیں کہی تھی۔ بلکہ وہ نظریاتی غلبہ کے معنی اللہ تعالیٰ کو یہ مطلوب تھا کہ دنیا میں ایک ایسا انقلاب آئے جب کہ تمام دلائل توحید کے حق میں ہو جائیں۔ اور تمام مواقع توحید کے موافق ہو جائیں۔ یہی وہ بات ہے جو آپ سے پہلے حضرت مسیح نے ان الفاظ میں کہی تھی: تم اس طرح عبادت کرو: آسمان میں رہنے والے اے ہمارے باپ، تیرا نام مقدس ہے۔ تیری بادشاہی آئے، جس طرح کہ تیرا منشا آسمان میں پورا ہوتا ہے اسی طرح اس دنیا میں بھی پورا ہو :
So pray this way: Our Father in heaven, may Your name be honoured, may Your kingdom come, may Your will be done on earth as it is in heaven. (Matthew, 6:9–10)
اللہ کے دین میں جبر نہیں (البقرہ: 256)۔ البتہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ دین کو آخری حد تک مدلل بنا دیا جائے۔ اس کے بعد یہ انسان کا اپنا معاملہ ہو کہ وہ اس کو مانتا ہے یا نہیں مانتا اس مقصد کے حصول کے لیے یہ ضرورت تھی کہ دین کے موافق ایک انقلاب اس انقلاب کے لیے موحد انسانوں کی ایک ٹیم درکار تھی۔ مگر کسی نبی کے زمانے میں ایسی ٹیم نہ اس لیے پچھلے انبیاء کے زمانے میں ان کا مشن انقلاب (revolution) تک نہیں پہنچا۔ پیغمبر ابراہیم کے ذریعے اللہ نے یہ منصوبہ بنایا کہ خصوصی اہتمام کے ذریعے ایسی مطلوب ٹیم تیار کی جائے۔ اس مقصد کے لیے ساڑھے چار ہزار سال پہلے ابراہیم علیہ السلام نے یہ قربانی کی کہ اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسادیا۔ اس کے بعد دو ہزار سال سے زیادہ مدت میں توالد و تناسل کے ذریعے صحرائی ماحول میں ایک نئی نسل تیار ہوئی۔ تاریخ میں اس نسل کو بنواسماعیل کہا جاتا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب اسی نسل کے منتخب افراد تھے۔ مطلوب انقلاب اچانک نہیں ظہور میں آسکتا تھا۔ اس کے لیے ضرورت تھی کہ تاریخ میں
ایک نیا عمل (process) شروع کیا جائے۔ جو انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، مختلف مراحل سے گزرے۔ اور پھر وہ اپنے نقطہ انتہا (culmination) تک پہنچے۔ یہ عمل عرب میں اور مغرب میں جدید تہذیب (modern civilization) کی صورت میں اپنی تکمیل
اس انقلاب کے دو پہلو تھے۔ ایک یہ تھا کہ علوم کی ترقی اس طرح ہو کہ تمام علمی اور سائنسی دلائل دین خداوندی کی تصدیق بن جائیں۔ یہ مستقبل میں پیش آنے والا واقعہ تھا، جس کی پیشین گوئی قرآن میں ان الفاظ میں کی گئی تھی: سُنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقّ (41:53)۔ یعنی عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ اس انقلاب کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ عملی اعتبار سے یہ اسباب دین خداوندی کے مویّد (supporter) بن جائیں۔ صرف اہل ایمان کے ذریعے نہیں ہو سکتا تھا۔ اس لیے اللہ نے اس کے لیے دوسری قوموں کو بھی اس عمل کا موید بنا دیا۔ یہ پیشین گوئی ایک حدیث رسول میں اس طرح ملتی ہے: إن الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، حدیث نمبر (3062)۔
اکیسویں صدی میں یہ تائیدات اپنی آخری صورت میں حاصل ہو چکی ہیں۔ زمانے میں قول و عمل کی آزادی کا انسان کے لیے ایک ناقابل تنسیخ حق قرار پانا، ٹکنالوجی کی ترقی کے ذریعے ہر قسم کے امکانات کا اعلیٰ سطح پر کھل جانا، پرامن طریقہ کار کے ذریعہ ہر مقصد کا حصول ممکن ہو جانا، ساری دنیا میں کھلا پن (openness) کا ماحول قائم ہو جانا، وغیرہ۔ ابتدائی دور میں، اس عمل کو مسلسل طور پر جاری رکھنے کے لیے ایک تائیدی شلٹر (supporting shelter) درکار تھا۔ اہل اسلام کو سیاسی طاقت دے کر اس شلٹر کا انتظام کیا انیسویں صدی کے آخر تک اہل اسلام کی یہ سیاسی طاقت اس عمل کو تائیدی شلٹر فراہم کرتی یہاں تک کہ وہ اپنے آخری منزل پر پہنچ گیا۔
بیسویں صدی میں وہ دور آ گیا جب کہ یہ عمل اتنا طاقت ور ہو چکا تھا کہ وہ خود اپنی طاقت سے جاری رہ سکے۔ بیسویں صدی میں مسلمانوں کی سیاسی طاقت کمزور ہو گئی۔ لیکن مطلوب عمل خود اپنی طاقت سے مسلسل طور پر جاری رہا۔ جدید دور میں ماڈرن تہذیب کا فروغ ، اور 1945 میں اقوام متحدہ (UNO) کا قیام وغیرہ، وہ واقعات ہیں، جب کہ یہ عمل امکانی طور پر اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اب تمام دلائل اور تمام مواقع توحید کی آئیڈیالوجی کے لیے پوری طرح موافق ہو چکے ہیں۔ اہل اسلام کو صرف یہ کرنا ہے کہ وہ اس انقلاب کو شعوری طور پر سمجھیں۔ اور دانش مندانہ منصوبہ بندی کے تحت توحید کی آئیڈیالوجی کو اسی طرح ایک معلوم حقیقت بنا دیں، جس طرح موجودہ زمانے میں سائنس کا علم لوگوں کے لیے ایک معلوم حقیقت بن چکا ہے۔
قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اللہ نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ وہ تمام دین پر اس کو غالب کر دے (التوبۃ: 33)۔ اس غلبہ سے مراد سیاسی غلبہ نہیں ہے، بلکہ نظریاتی غلبہ ہے۔ مزید یہ کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ غلبہ کا یہ واقعہ پیغمبر اسلام کے اپنے زمانے میں مکمل طور پر ظاہر ہو جائے گا۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تاریخ انسانی میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) جاری ہوگا، جو آخر کار دین حق کے کامل نظریاتی غلبہ کے ہم معنی بن جائے گا۔
قرآن وحدیث میں کچھ بیانات حال (present) کی زبان میں ہیں، اور کچھ بیانات مستقبل (future) کی زبان میں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کی کچھ تعلیمات وہ ہیں جو پیغمبر اسلام کے اپنے زمانے میں پوری ہونے والی تھیں۔ اور کچھ تعلیمات وہ ہیں جو رسول اور اصحاب رسول کے بعد کے زمانے میں اپنی تکمیل تک پہنچنے والی تھیں۔
پہلی قسم کی تعلیم کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ یعنی آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو پورا کر دیا۔ قرآن کی اس آیت میں تکمیل سے مراد قرآن کے نزول کی تکمیل ہے۔ قرآن (کتاب اللہ) کا نزول اپنی آخری صورت میں ہو چکا۔
اب قیامت تک کوئی نیا قرآن جزئی یا کلی طور پر اترنے والا نہیں۔
قرآن کی اس آیت میں اکمال دین کا لفظ ہے۔ اکمال دین میں باعتبار تفصیل یہ بات بھی شامل ہے کہ اسلام کے دور اول میں قرآن مدون ہوا، پیغمبر کا اسوہ (example) ہر پہلو سے مستند طور پر قائم ہو گیا، کعبہ کو بتوں سے پاک کرکے توحید کا مرکز بنا دیا گیا، امت مسلمہ عملاً وجود میں آگئی،
دوسری قسم کی تعلیم کی ایک مثال قرآن کی یہ آیت ہے: يُرِیدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَيَابَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (9:32) ۔ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے منھ سے بجھا دیں حالانکہ اللہ کو اس کے علاوہ کوئی بات منظور نہیں کہ وہ اپنے نور کو پورا کرے، خواہ منکروں کو یہ کتنا ہی نا گوار ہو۔
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنے منھ سے بجھا دیں۔ اس آیت کا تعلق پوری انسانی تاریخ سے ہے۔ تاریخ میں مسلسل طور پر اہل انکار یہ کوشش کرتے رہے ہیں کہ ہدایت کے بارے میں اللہ کا منصوبہ مکمل نہ ہونے پائے۔ مگر قرآن کے نزول کے بعد اللہ نے یہ مقدر کر دیا کہ اس معاملے میں کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے۔ اور ہدایت کے بارے میں اللہ کا منصوبہ لازمی طور پر مکمل ہو کر رہے۔
اس طرح کی آیتوں یا حدیثوں میں مستقبل کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ مقصد خود زمانے رسول میں پورا نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ اس طرح پورا ہوگا کہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ تاریخ میں ایک انقلابی عمل (revolutionary process) جاری ہوگا۔ کے نقطۂ انتہا (culmination) پر ایسا ہوگا کہ اتمام نور کے بارے میں اللہ کا منصوبہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ جائے گا۔
اللہ کے منصوبے کے مطابق، یہ عمل پوری تاریخ میں جاری رہا۔ اس عمل میں مسلم لوگوں کے علاوہ سیکولر لوگوں نے بھی حصہ لیا۔ یہ عمل انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے جاری رہا۔
انسان کی آزادی قائم تھی، اور زیریں لہر (undercurrent) کے طور پر خدا کا منصوبہ بھی مسلسل طور پر جاری رہا۔ یہاں تک کہ وہ اپنی تکمیل تک پہنچ گیا۔
اسلام کی مدون تاریخ میں یہ واقعہ ایک گمشدہ کڑی (missing link) کی حیثیت رکھتا یہی وجہ ہے کہ ساری دنیا کے مسلمان تاریخ کے ایک حصے کو جانتے ہیں، اور وہ تاریخ کے دوسرے حصے سے بے خبر ہیں۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ عالمی تاریخ میں مسلمانوں نے کس طرح اپنا رول لیکن وہ اس سے بے خبر ہیں کہ عین اسی وقت سیکولر عناصر بھی مسلسل طور پر اپنا تائیدی رول ادا کرتے رہے۔
اسلام کا ایک جزء اس کی آئیڈیالوجی ہے۔ یہ آئیڈیالوجی تمام تر قرآن و سنت پر مبنی ہے۔ اسلام کا دوسرا جزء اس کے تائیدی اسباب ہیں۔ اس دوسرے جزء میں دنیا کی تمام قوموں نے حصہ لیا مثلاً قدیم زمانہ مذہبی جبر (religious persecution) کا زمانہ تھا، آج انسان کو پورے معنوں میں مذہبی آزادی حاصل ہے۔ قدیم زمانے میں کھلاپن (openness) نہیں ہوتا تھا، آج پوری دنیا کھلے پن کے دور میں پہنچ گئی ہے۔ قدیم زمانے میں کمیونی کیشن (communication) صرف محدود طور پر ہو سکتا تھا، آج ماڈرن ٹکنالوجی نے کمیونی کیشن کو لامحدود حد تک بڑھا دیا قدیم زمانے میں بین الاقوامی مسلمات (international norms) قائم نہیں ہوئے تھے، موجودہ زمانے میں بین الاقوامی مسلمات بڑے پیمانے پر قائم ہو گئے ہیں۔ قدیم زمانے میں امن اور جنگ کا کوئی مسلمہ اصول نہیں تھا، آج اقوام متحدہ (UNO) کے ذریعے امن اور جنگ کا مسلمہ اصول وضع ہو گیا ہے، وغیرہ۔ یہ تمام مسلمات کیسے قائم ہوئے۔ اس کو وجود میں لانے میں بڑا رول سیکولر افراد نے انجام دیا ہے۔
مسلمان اگر اس حقیقت کو جان لیں تو ان کو پوری انسانی تاریخ عملاً اسلام کی تاریخ نظر آئے جب کہ اس وقت وہ صرف مسلم تاریخ کو اسلام کی تاریخ سمجھتے ہیں۔ موجودہ حالت میں مسلمانوں کی نفسیات ہم اور وہ (we and they) کے تصور پر مبنی ہے۔ لیکن اس حقیقت کو جاننے
کے بعد مسلمانوں کی نفسیات ہم اور ہم (we and we) کے تصور پر قائم ہو جائے گی۔ یہ طرزِ فکر پورے معنوں میں مسلمانوں کے اندر مثبت سوچ (positive thinking) پیدا کر دے گی۔ بلا شبہ ان کے لیے سب سے بڑی طاقت بن جائے گا۔