دین کا ضروری ڈھانچہ
Al-Risala, April 2016, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آئی ہے: إن الدين ليأرز إلى الحجاز كما تأرز الحية إلى جحرها (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2630)۔ یعنی دین حجاز میں سمٹ آئے گا، جس طرح سانپ اپنے بل میں سمٹ آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فتنے کے دور میں بھی دین حجاز میں زندہ
حجاز وہ جغرافی علاقہ ہے جہاں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، جہاں حرم مکہ اور حرم مدینہ واقع ہیں، جہاں اسلام کی تاریخ بنی، جہاں ابراہیم اور اسماعیل اور اس کے بعد رسول اور اصحاب رسول کی روایات قائم ہوئیں، جو اسلام کی عالمی عبادت، حج کا مرکز ہے۔ حرم وہ مقام ہے جہاں جان کو مارنا کلی طور پر حرام ہے۔
چنانچہ ارض حجاز (عرب) کو مسلمانوں کے درمیان خصوصی احترام کا درجہ حاصل ہو گیا ہے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جس کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی زبان میں فرمایا کہ جب دنیا میں فتنہ پھیل جائے گا تب بھی ارضِ حجاز (عرب) نسبتاً محفوظ رہے گا۔ تشدد کے دور میں بھی مسلمان یہاں احتراماً تشدد سے پرہیز کریں گے۔ اس لیے دین کا وہ ڈھانچہ جس کو قائم رکھنا ہر حال میں ضروری ہے، کسی نہ کسی صورت میں یہاں قائم رہے گا۔
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ڈھانچہ کیا ہے۔ وہ ڈھانچہ یہ ہے کہ امت سیاسی ٹکراؤ سے مکمل طور پر پر ہیز کرے۔ اور غیر سیاسی دائرے میں پر امن تعمیر کو ہمیشہ جاری رکھے۔ کو ایک جملے میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے :