Political status quoism and dawah activism
Al-Risala, April 2016, pp. 32–37
By Maulana Wahiduddin Khan
پر تشدد نزاعات ہمیشہ سیاسی ایشو پر پیدا ہوتے ہیں۔ اس بنا پر اسلام میں یہ اصول مقرر کیا گیا ہے کہ سیاست کے معاملے میں موجود صورت حال (status quo) پر عملاً راضی رہوتا کہ پر امن تعمیر کا ماحول ہمیشہ موجود رہے۔ اس طرح اسلام کا ربانی مشن مسلسل طور پر بلا انقطاع جاری اس اعتبار سے گویا ارض حجاز کو عملاً ایک ماڈل کی حیثیت حاصل ہے۔
سیاست اور تعمیر کے درمیان مذکورہ بندوبست (settlement) ہر مسلم علاقے کے لیے حدیث میں ارض حجاز کا ذکر استثنائی طور پر اس لیے کیا گیا کہ اس علاقے کی مخصوص حیثیت کی بنا پر یہاں ایک نفسیاتی قسم کا جبر (compulsion) قائم ہو گیا ہے۔ فتنہ کے دور میں بھی عملاً ایسا ہوگا کہ مسلمان اس علاقے میں متشددانہ سرگرمیوں سے احتراز کریں گے۔ اس بنا پر یہ علاقہ دورِ فتنہ میں بھی لوگوں کے لیے بلا اعلان ایک ماڈل بنارہے گا۔
مذکورہ حدیث میں حجاز کا لفظ جغرافی مقام کے اعتبار سے نہیں ہے، بلکہ اپنے ماڈل کے اعتبار سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حجاز کے لیے مسلمانوں کے اندر خصوصی احترام کی جو نفسیات پیدا ہوگی، اس کی وجہ سے یہ علاقہ عملاً سیاسی تشدد سے بچا رہے گا۔ اور اس بنا پر وہ لوگوں کے لیے ایک ماڈل کا کام کرے گا۔ یہ علاقہ اپنی صورت حال کے اعتبار سے مسلمانوں کو یہ بتا تا رہے گا کہ ہر جگہ تم اسی سیاسی ماڈل کو اختیار کرو تا کہ اسلام کا اصل مشن کسی رکاوٹ کے بغیر مسلسل طور پر جاری رہے۔ نئے دور کا آغاز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے مدنی دور میں چھ ہجری میں وہ واقعہ پیش آیا جو اسلامی تاریخ میں صلح حدیبیہ کے نام سے مشہور ہے۔ صلح حدیبیہ اصلاً ایک پر امن معاہدے کا نام تھا۔ اس صلح سے پہلے اہل توحید اور اہل شرک کے درمیان ٹکراؤ کا سلسلہ جاری تھا۔ جس نے کئی بار جنگ کی صورت اختیار کر لی تھی۔ صلح حدیبیہ کے بعد یہ صورت حال ختم ہو گئی ۔ اس کے بعد عرب میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا، جب کہ اہل ایمان کو یہ آزادی مل گئی کہ وہ ملک میں پر امن طور پر اپنا مشن جاری رکھیں۔ فریق ثانی کی طرف سے ان کے لیے متشددانہ مزاحمت پیش نہیں آئے گی۔
یہ معاہدہ جب فریقین کے درمیان طے پا گیا تو اس کے بعد قرآن کی سورہ نمبر 48 نازل اس سورہ میں اللہ کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا : اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِيْنَا لِيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيْمًا (الفتح: 1-2)۔ بے شک ہم نے تم کو کھلی ہوئی فتح دے دی۔ تا کہ اللہ تمھاری اگلی اور پچھلی خطائیں معاف کر دے۔ اور تمھارے اوپر اپنی نعمت کی تکمیل کر دے۔ اور تم کو سیدھا راستہ
قرآن کی اس آیت میں صراط مستقیم (straight path) سے کیا مراد ہے۔ کے وقت اور اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا، وہ اس معاملے میں شان نزول کی حیثیت رکھتا ہے۔ پس منظر کو لے کر اس آیت کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں سیدھا راستہ سے مراد مقصد کے حصول کا پر امن طریقہ (peaceful method) ہے۔ صلح حدیبیہ کے بعد پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیس فل میتھڈ کے ذریعے اپنے مشن کو زیادہ موثر طور پر جاری رکھا، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چند سالوں میں پورا عرب اسلام کا علاقہ بن گیا۔ اس سے پہلے عرب میں شرک کا غلبہ تھا۔ پورے عرب میں توحید کا غلبہ قائم ہو گیا۔
یہ پر امن طریقہ کار (peaceful method) کا کرشمہ تھا۔ صلح حدیبیہ کے بعد پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے مشن کی پر امن منصوبہ بندی کی اور اس کا نتیجہ فتح مبین (clear victory) کی شکل میں ظاہر ہوا۔ یہاں فتح مبین سے مراد سیاسی فتح نہیں ہے، بلکہ نظریاتی فتح (ideological اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اسلام کا نشانہ نظریاتی فتح ہے نہ کہ سیاسی فتح۔ حدیبیہ کا مقصد صرف عرب میں "فتح مبین" نہیں تھا۔ بلکہ یہ دنیا کے لیے ایک انقلاب کا آغاز تھا۔ حدیبیہ کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا۔ یہ عمل مختلف مراحل سے گزرتا ہوا تاریخ میں جاری رہا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی میں وہ اپنی آخری تکمیل تک پہنچ گیا۔ اقوام متحدہ (UNO) کے عالمی پلیٹ فارم پر دنیا کی تمام قوموں نے متحدہ طور پر یہ طے کیا کہ اب
دنیا میں بطور اصول ایک ہی طریق کار تسلیم شدہ طریق کار ہوگا۔ اور وہ پر امن طریق کار ہے۔ اصولی طور پر کسی بھی قوم کو یہ حق نہیں ہوگا کہ وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے متشددانہ طریقہ کار (violent method) کو اختیار کرے۔
تاریخ کو اس مقام تک پہنچانے میں مختلف واقعات کا حصہ ہے۔ ان میں سے دواہم واقعات وہ ہیں، جن کو پہلی عالمی جنگ (1918-1914) اور دوسری عالمی جنگ (1945-1939) کہا جاتا ہے۔ ان دونوں جنگوں میں دنیا کی تمام بڑی طاقتیں براہ راست طور پر یا بالواسطہ طور پر اس کے باوجود اس جنگ کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ جنگ کے ہر فریق کو غیر معمولی نقصان اٹھانا پڑا۔
یہ دونوں جنگیں تاریخ کی عظیم جنگیں (great wars) کہی جاتی ہیں۔ اس لیے کہ ان جنگوں میں ایسے خطرناک ہتھیار استعمال ہوئے جو اس سے پہلے کبھی استعمال نہیں ہوئے تھے۔ باوجود کوئی فریق اپنا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ جان و مال کی بے پناہ قربانی کے باوجود ہر فریق کے حصے میں تباہی کے سوا کچھ اور نہیں آیا۔
ان عظیم جنگوں کے بعد تاریخ میں پہلی بار اس سلسلے میں ایک جبر (compulsion) کی صورت حال پیدا ہوئی۔ تمام قوموں نے اصولی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ اب ہمارا آپشن (option) صرف پر امن طریق کار ہوگا، جنگ اور تشدد کا طریقہ نہیں۔ چنانچہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمہ پر اقوام متحدہ وجود میں آئی جو گویا عالمی صلح حدیبیہ کے ہم معنی تھی۔ اس سے پہلے انسانی تاریخ میں اعلان کے ساتھ یا بلا اعلان یہ سمجھا جاتا تھا کہ مقصد کے حصول کا واحد ذریعہ جنگ ہے۔ یہ تصور عملاً پوری تاریخ میں جاری رہا۔ اس تصور کا باقاعدہ خاتمہ صرف بیسویں صدی کے وسط میں ہوا جب کہ اقوام متحدہ کا عالمی ادارہ تمام قوموں کے اتفاق رائے سے قائم ہو گیا۔ امن (peace) اس دنیا کا کائناتی کلچر ہے۔ انسان کے سوا پوری کائنات ہمیشہ سے اسی امن کلچر پر قائم ہے۔ انسان کو خالق نے آزادی عطا کی ہے۔ اس لیے انسانی دنیا میں یہ کلچر عملاً قائم نہ
اس کا سبب یہ تھا کہ انسان اپنی آزادی کے غلط استعمال کی بنا پر بار بار تشدد کا طریقہ اختیار کرتا یہاں تک کہ خالق نے انسان کی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے، تاریخ کو اس طرح بیج (manage) کیا کہ تاریخ میں عملاً ایک جبر (compulsion) کی صورت پیدا ہوگئی۔ لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہ رہا کہ انسان جبر اور تشدد کو اصولی طور پر قابل ترک قرار دے دے۔ اگر دنیا میں کہیں جنگ کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی حیثیت ایک استثنا (exception) کی جب کہ ماضی کی تاریخ میں جنگ کو عموم کی حیثیت حاصل تھی۔
اب دنیا دو گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ ایک سیکولر دنیا اور دوسرے مسلم دنیا۔ سیکولر دنیا کا مسلمہ معیار (accepted criterion) صرف ایک ہے، اور وہ نتیجہ (result) ہے۔ سیکولر دنیا کا اصول یہ ہے کہ جو عمل بے نتیجہ ہو، اس کو اختیار نہیں کیا جائے گا، صرف وہ عمل اختیار کیا جائے گا جو مطلوب نتیجہ پیدا کرنے والا ہو۔ سیکولر دنیا عقل کے اصول پر چلتی ہے۔ اور عقل کا اصول یہ ہے کہ نتیجہ خیز کام کرو، اور بے نتیجہ کام کو چھوڑ دو۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد دنیا میں نو آبادیات کا دور نو آبادیاتی نظام اصلاً صنعتی نظام تھا۔ ابتدائی دور میں قدیم تصور کے تحت نو آبادی طاقتوں نے یہ سمجھا کہ ہمیں اپنی صنعت کو فروغ دینے کے لیے پولیٹکل پاور کی بھی ضرورت ہے۔ انھوں نے اپنی صنعتی سرگرمیوں کے ساتھ ہر جگہ پولیٹکل اقتدار قائم کرنے کی کوشش کی، تا کہ وہ اپنی صنعتی سرگرمیوں کو سیاسی شیلٹر (political shelter) عطا کر سکیں۔
لیکن نو آبادی طاقتوں کو تجربے کے بعد محسوس ہوا کہ جدید دور قوم پرستی (nationalism) کا دور ہے۔ اس دور میں سیاسی شیلٹر کا تصور ایک نا قابل عمل تصور بن چکا ہے۔ چناں چہ انھوں نے سیاسی شیلٹر کا ایک بدل دریافت کر لیا۔ اور وہ تنظیم (organization) تھا۔ انھوں نے کامیاب طور پر یہ منصوبہ بنایا کہ سیاسی شیلٹر کے مقصد کو بہتر تنظیم کے ذریعے حاصل کریں۔ اب انھوں نے اپنی صنعتی سرگرمیوں کے لیے صرف دو چیزوں پر ساری توجہ صرف کر دی۔
اور وہ تھا۔ کوالٹی اور آرگنائزیشن۔ انھوں نے بہتر کوالٹی اور بہتر تنظیم کے ذریعہ زیادہ بڑے پیمانے پر اپنے اس مقصد کو حاصل کرلیا، جس کو ناکام طور پر نو آبادیات کے تصور کے تحت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ جدید دور میں نو آبادی طاقتوں نے جو طریقے استعمال کیے ہیں، ان میں سے دو طریقے وہ ہیں جن کو انویسٹمنٹ (investment) اور آؤٹ سورسنگ (outsourcing) کہا جاتا ہے۔ یہ نئے طریقے مکمل طور پر پر امن اور غیر سیاسی طریقے ہیں، لیکن ان طریقوں کے ذریعے موجودہ زمانے کی ترقی یافتہ قوموں نے اکیسویں صدی میں بہت بڑے پیمانے پر اپنا صنعتی ایمپائر (industrial empire) قائم کرلیا۔ بغیر اس کے کہ اس کو کسی کی طرف سے مزاحمت کا سامنا پیش آئے۔
یہ حقیقت موجودہ زمانے کی تمام قوموں نے دریافت کرلی۔ اس میں صرف ایک قوم کا استثنا ہے، اور وہ مسلمان ہے۔ آج کی دنیا میں جو تشدد (militancy) جاری ہے، وہ عملاً مسلم تشدد (militancy) یہ صرف مسلمان ہیں جو آج کی دنیا میں متشددانہ طریقہ کار (violent method) کا طریقہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس مسلم تشدد کی مثالیں تقریباً ہر روز میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ نائن الیون 2011 اور پیرس اٹیک 2015 اس کی چند مثالیں ہیں۔
اس عموم میں مسلمانوں کے استثنا کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان بعد کی تاریخ میں جو علمی لٹریچر بنا، وہ امن کے اصول کے بجائے جہاد (بمعنی قتال) کے اصول یہ رسول اور اصحاب رسول کے دین سے ایک انحراف کے ہم معنی تھا۔ لیکن وہ مسلم اہل علم کے درمیان اتنا زیادہ رائج ہوا کہ آخر کار اس نے عقیدہ کی صورت اختیار کر لیا۔ مسلمانوں کا تشدد مبنی بر عقیدہ تشدد ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کے نام پر لڑ کر مر جاؤ، اور اس کے بعد سیدھے جنت میں پہنچ یہ عقیدہ اتنا زیادہ بڑھا کہ موجودہ زمانے میں ایسے علما پیدا ہوئے جنھوں نے خودکش بمباری (suicide bombing) کو یہ کہہ کر مقدس درجہ دے دیا کہ وہ خود کشی نہیں ہے، بلکہ استشہاد (طلب شہادت) ہے۔ یہ نظریہ بلاشبہ ایک بے اصل نظریہ ہے۔ اس کی تائید میں کوئی بھی آیت یا
حدیث موجود نہیں۔ لیکن اب وہ اتنا زیادہ عام ہو چکا ہے کہ کوئی قابلِ ذکر عالم اس کے خلاف بولنے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی کی زبان میں یہ کہا تھا : إذا وضع السيف في أمتي، فلن يرفع عنهم إلى يوم القيامة (سنن ابن ماجه، حدیث نمبر 3952)۔