Al-Risala · January 2016

اتھارٹی صرف ایک

Al-Risala, January 2016, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

حدیث کی کتابوں میں ایک لمبی روایت آئی ہے، جس کا ایک حصہ یہ ہے : لو کان موسی حيّا ما وسعه إلا اتباعي ۔ (شعب الایمان للبيهقی، حدیث نمبر 174) یعنی اگر موسی زندہ ہوتے تو ان کے لیے اس کے سوا کچھ اور جائز نہ ہوتا کہ وہ میری اتباع کریں۔ حدیث کو علماء نے عام طور پر فضیلت رسول کے معنی میں لیا ہے، مگر یہ درست نہیں۔ فضیلت انبیاء کا تصور قرآن و حدیث سے ٹکراتا ہے۔ قرآن میں آیا ہے کہ لا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِنْ رُسُلِهِ (2:285) یعنی ہم اس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے۔ یہی بات حدیث میں ان الفاظ میں آئی ہے : لا تفضلوا بين أنبياء الله ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3414) یعنی اللہ کے پیغمبروں کے درمیان ایک کو دوسرے پر فضیلت نہ دو۔

اصل یہ ہے کہ اوپر مذکور حدیث میں شخصی فضیلت کا ذکر نہیں ہے۔ اس میں ایک عام اصول بتایا گیا ہے۔ وہ یہ کہ اتھارٹی ہمیشہ ناقابلِ تقسیم ہوتی ہے۔ نظم کا تقاضا ہے کہ اتھارٹی صرف ایک ہو۔ جہاں بھی اتھارٹی دو یا دو سے زیادہ ہوگی، نظم (discipline) قائم نہ رہے گا۔ حضرت موسیٰ کے زمانے میں دو پیغمبر تھے، موسیٰ اور ہارون۔ لیکن اتھارٹی کی حیثیت صرف موسیٰ کی تھی، ہارون کو نہ حضرت ہارون کا کام حضرت موسیٰ کی تصدیق کرنا تھا (28:34)۔

تفضیل انبیاء کا عقیدہ بلاشبہ قرآن اور حدیث میں اجنبی ہے۔ انبیاء کے درمیان ایک فرق ضرور پایا جاتا ہے۔ یہ فرق رول کے اعتبار سے ہے، نہ کہ فضیلت کے اعتبار سے۔ سے ہر پیغمبر نمونہ ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ مختلف پیغمبروں کے حالات کا مطالعہ کرے۔ میں اس کو اپنے حالات کے اعتبار سے مطابقت ملے، اس کو وہ اپنا لے۔ یہ پیروی طریق کار (method) کے اعتبار سے ہے۔ جہاں تک عقیدہ اور اصول دین کا سوال ہے، تمام پیغمبروں کا عقیدہ اور اصول دین ایک تھا۔

Printed page