Al-Risala · April 2016

اسلام کی تاریخ

Al-Risala, April 2016, pp. 37–44

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں اپنا مشن شروع کیا۔ آپ کا مشن دعوت توحید کا مشن تھا۔ لوگوں کے لئے اس پیغمبرانہ مشن کے ماخذ ابتدائی دور میں صرف دو تھے، قرآن قدیم زمانے میں پرنٹنگ پریس موجود نہ تھا، اس لئے لوگ حافظہ اور مخطوطات کے ذریعے اسلام کو سمجھتے رہے۔ ابتدائی دور میں اسلام کو سمجھنے کے لئے قرآن و حدیث کو واحد ماخذ (source) کی حیثیت حاصل تھی۔ لوگ قرآن اور حدیث کو پڑھتے اور اس سے اسلام کی تعلیمات اخذ بعد کے زمانہ میں جو تبدیلی پیدا ہوئی، اس نے اس معاملے میں امت مسلمہ کے لئے اسلام کا ماخذ بدل دیا۔ اب قرآن و حدیث کے بجائے عملاً تاریخ ان کی ذہن سازی کا ذریعہ بن گئی۔ اس عمل کا آغاز دوسری صدی ہجری میں سیرت نگاری سے ہوا۔ اس ابتدائی دور میں سیرت پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ سب غزواتی پیٹرن پر لکھی گئیں۔ مثلاً مغازی الواقدی، مغازی موسیٰ بن عقبہ، مغازی ابن اسحاق، وغیرہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن اصلاً پرامن دعوت کا مشن تھا۔ ابتدائی دور کی ان کتابوں نے قارئین کو یہ تاثر دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن، ایک ایسا مشن تھا جو جنگ و قتال پر مبنی تھا، نہ کہ اللہ کی طرف پرامن دعوت پر۔

عباسی خلافت 123ھ میں قائم ہوئی ۔ اس کے بعد اسلامی موضوعات پر تحریری کام بڑے پیمانے پر شروع ہوا۔ اب وسیع تر معنوں میں اسلام کی تاریخ لکھی جانے لگی۔ لیکن اب بھی بنیادی پیٹرن وہی باقی رہا۔ چناں چہ اس دور میں بھی اسلامی تاریخ کے موضوع پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ عملاً فتوحاتی پیٹرن پر لکھی گئیں۔ مثلاً فتوح الشام للواقدی، فتوح البلدان للبلاذری، وغیرہ۔ ایسا کیوں ہوا کہ پیغمبر اسلام کی سیرت لکھنے کے لئے غزواتی پیٹرن اختیار کیا گیا۔

اسلام کی تاریخ لکھنے کے لئے کیوں فتوحاتی پیٹرن ایک مقبول پیٹرن بن گیا۔ جواب یہ ہے کہ ایسا زمانی عنصر (age factor) کی بنا پر ہوا۔ پہلے زمانے میں تاریخ نگاری کا یہی پیٹرن تمام دنیا میں بادشاہوں کے قصے، سلطنت کے واقعات، اور حکمرانوں کی لڑائیاں، قدیم زمانے میں اسی قسم کی چیزیں تاریخ کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔ اس لئے جب مسلمانوں میں تاریخ نگاری کا کام شروع ہوا تو انھوں نے زمانی تاثر کے تحت اسلام میں بھی تاریخ نگاری کے اسی روایتی پیٹرن کو اختیار کر لیا۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں مضاہات (9:30) کہا گیا ہے۔

عبد الرحمن ابن خلدون (وفات: 808ھ) پہلا شخص ہے، جس نے تاریخ نگاری کے اس پیٹرن پر تنقید کی۔ اس نے کہا کہ تاریخ کو پوری انسانی سرگرمی کا بیان ہونا چاہئے، نہ کہ صرف بادشاہت اور سلطنت کا بیان۔ ابن خلدون نے اپنے اس نقطۂ نظر کو اپنی اس کتاب میں تفصیل کے ساتھ پیش کیا، جو مقدمہ ابن خلدون کے نام سے مشہور ہے۔ ابن خلدون نے خود بھی تاریخ پر ایک کتاب لکھی، جس کا ٹائٹل یہ تھا: دیوان المبتدا والخبر في تاريخ العرب والبربر ومن عاصرهم من ذوي الشأن الأكبر۔ مگر ابن خلدون کی اپنی لکھی کتاب بھی تاریخ نویسی کے بارے میں اس کے بتائے ہوئے معیار پر پوری نہیں اترتی۔ ابن خلدون کی تاریخ کی یہ کتاب بھی عملاً اس دور کی دوسری تاریخ کی کتابوں جیسی ایک کتاب بن گئی۔

ظہور اسلام کے بعد ہزار سال تک اسلام کی تاریخ پر جو کتابیں لکھی گئیں، وہ تقریباً سب کی سب اسی پیٹرن پر لکھی گئیں، جس کو سیاسی پیٹرن کہنا صحیح ہوگا۔ تاریخ کی یہ کتابیں اسلام کو ایک ایسے دین کے طور پر پیش کرتی رہیں، جو عملاً سیاسی نوعیت کے واقعات کا ایک مجموعہ تھا۔ تاریخ نگاری کے اس سیاسی پیٹرن کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ اسلام کی تاریخ سے وہی چیز حذف ہو گئی، جو اس کا اہم ترین جز تھی، اور وہ دعوت الی اللہ ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بعد کے دور میں اسلام کی تاریخ کے نام سے جو کتابیں لکھی گئیں، ان میں دعوت کا پہلو سرے سے موجود ہی نہیں۔ مورخ ابن اثیر کی کتاب کا نام الكامل في التاريخ ہے۔ لیکن وہ اسلامی تاریخ کا کامل بیان نہیں۔

کہ اس کتاب میں سیاسی نوعیت کے واقعات کا ذکر تو کیا گیا ہے، لیکن اس میں اسلام کے دعوتی پہلو کی تاریخ موجود نہیں۔ اسی طرح ابن کثیر نے تاریخ کے موضوع پر ایک ضخیم کتاب لکھی، جس کا نام البدایة والنہایۃ ہے، یعنی از اول تا آخر۔ مگر اس کتاب کا حال بھی یہ ہے کہ اس میں اسلامی تاریخ کے دوسرے واقعات کے ساتھ موجود ہیں، لیکن اسلام کی دعوتی تاریخ اس کے اندر موجود نہیں۔ سیاسی پیٹرن کا تعلق صرف تاریخ کی کتابوں تک محدود نہ رہا۔ یہ پیٹرن ہر شعبہ علم میں مثلاً جب حدیث کی تدوین ہوئی تو حدیث کی کتابوں میں کتاب المغازی اور کتاب الجہاد کے ابواب تفصیل کے ساتھ موجود ہیں، لیکن کتاب الدعوة والتبلیغ ان میں موجود نہیں۔ اسی طرح عباسی دور میں فقہ پر جو کتابیں لکھی گئیں، ان میں بھی کتاب المغازی اور کتاب الجہاد کے تفصیلی ابواب موجود ہیں، لیکن فقہ کی کسی کتاب میں کتاب الدعوة والتبلیغ موجود نہیں، وغیرہ۔ یہی وہ کتابیں تھیں جن کو پڑھ کر بعد کی مسلم نسلوں کا ذہن بنایا۔ اس کے نتیجے میں بعد کے مسلمانوں میں سوچنے کا دعوتی پیٹرن رائج نہ ہوسکا، بلکہ سوچنے کا سیاسی پیٹرن رائج ہو گیا۔ مثلاً شاہ ولی اللہ دہلوی کی ایک کتاب حجۃ اللہ البالغہ ہے، جس کا موضوع اپنے نام کے لحاظ سے حجۃ اللہ ہے، لیکن اس میں دعوت کا باب سرے سے موجود حالاں کہ قرآن کے مطابق اللہ کی حجت لوگوں کے اوپر دعوت کے ذریعے قائم ہوتی ہے (النساء: 165)۔

عجیب بات ہے کہ اسلامی تاریخ کے دعوتی پہلو پر باقاعدہ کتاب لکھنے کا کام سب سے پہلے ایک مسیحی مستشرق نے کیا۔ جس کا ریفرنس یہ ہے:

T. W. Arnold, The Preaching of Islam, first published in 1896 سیاسی پیٹرن پر لکھی ہوئی تاریخ کی کتابوں کے پڑھنے سے جو ذہن بنا، وہ وہی تھا جس کو سیاسی اور قومی ذہن کہا جا سکتا ہے۔ تاریخ نگاری کا یہ پیٹرن جاری تھا۔ یہاں تک کہ بیسویں صدی عیسوی کا زمانہ آیا۔ بیسویں صدی میں مسلمان نئے حالات سے دوچار ہوئے۔ ان کا ایمپائر، مثلاً مغل ایمپائر اور عثمانی ایمپائر ٹوٹ گیا۔ مسلمانوں کے اوپر ہر اعتبار سے مغربی قوموں کا غلبہ قائم ہو گیا۔

مغربی قو میں نئی طاقت کے ساتھ ابھریں، اور عملاً سارے عالم پر چھاگئیں، جن میں مسلم قومیں بھی

یہ صورتِ حال مسلمانوں کے لئے ایک سیاسی چیلنج بنی ہوئی تھی۔ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر سیاسی رد عمل کا ذہن پیدا ہوا۔ اسی زمانے میں کارل مارکس کا نظریہ تاریخ بڑے پیمانے پر کارل مارکس نے جو نظریہ تاریخ پیش کیا، اس کا خاص پہلو یہ تھا کہ اس نے تاریخ کی ایک مادی تعبیر پیش کی، جس کو مادی تعبیر تاریخ (material interpretation of history) کہا 1917 میں جب کارل مارکس کے پیروؤں (کمیونسٹ پارٹی) کو روس میں حکومت قائم کرنے کا موقع ملا تو اس کے بعد مارکسی فلسفہ ساری دنیا میں لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گیا۔ ان حالات کے زیر اثر مسلم دنیا میں ایک ظاہرہ پیدا ہوا۔ یہ ظاہر ہ زیادہ تر زمانی حالات سے تاثر پذیری کا نتیجہ تھا۔ اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ کچھ مسلم مفکرین نے اسلام کو وقت کے معیار کے مطابق ثابت کرنے کے لئے، اسلام کی سیاسی تعبیر (political interpretation of Islam) پیش کرنا شروع کیا۔ ان مسلم مفکرین میں دو نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، عرب دنیا میں سید قطب مصری (وفات: 1966)، اور برصغیر ہند میں سید ابوالاعلیٰ مودودی (وفات: 1979)۔

اسلام کی یہ سیاسی تعبیر وقت کی مسلم نسلوں کے مزاج کے مطابق تھی۔ چناں چہ وہ عرب اور غیر عرب دنیا میں تیزی سے پھیل گئی۔ اس سیاسی نظریے کے تحت ہر زبان میں لٹریچر تیار کیا گیا۔ اور ادارے بنائے گئے۔ اس سیاسی نظریے کے تحت مسلمانوں میں سرگرمیاں شروع ہو گئیں۔ اسلام کی سیاسی تعبیر کے اس نظریے کے تحت مسلمانوں کے درمیان جو سرگرمیاں شروع ہوئیں، ان کا نشانہ حکومت پر قبضہ کرنا تھا۔ تا کہ ان کے مفروضہ ذہن کے تحت ہر جگہ اسلام کا نظام قائم مگر ہر قسم کی قربانیوں کے باوجود ان عناصر کو اپنے مقصد میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ وہ صرف یہ تھا کہ مسلمان ہر جگہ عملاً دو گروہوں میں بٹ گئے۔ ایک اقتدار پر قابض گروہ اور دوسرا اقتدار سے محروم گروہ۔ ان دونوں طبقوں کے درمیان لامتناہی طور پر حریفانہ تعلق قائم ہو گیا۔

یہ طبقہ جو اپنے آپ کو اسلام پسند (Islamist) کہتا ہے، اس نے جب دیکھا کہ ان کو مسلم ملکوں میں کامیابی حاصل نہیں ہورہی ہے تو انھوں نے خود اپنے آپ پر نظر ثانی نہیں کی بلکہ انھوں نے اس کا الزام مغربی قوموں پر ڈال دیا۔ انھوں نے کہا کہ مغربی قوموں نے سازش کر کے مسلم حکمرا نوں کو اپنے موافق بنا لیا ہے۔ اب ان کی سیاسی مہم کا نشانہ بیک وقت دو ہو گیا۔ ایک طرف مسلم حکمراں، اور دوسری طرف مغرب کی قومیں۔ انھوں انھوں نے دونوں کے خلاف نفرت اور تشدد کی سرگرمیاں جاری کر دیں۔ مگر آخر کار ان اسلام پسندوں کو نظر آیا کہ ساری کوششوں کے باوجود وہ اپنے سیاسی مقصد میں کامیاب نہیں ہورہے ہیں۔ اب ان کے اندر ایک خطرناک رجحان ابھرا، اور وہ خود کش بمباری (suicide bombing) کا رجحان تھا۔ انھوں نے غلط پروپیگنڈے کے ذریعے وقت کے مسلمانوں کو آخری حد تک انتہا پسندی میں مبتلا کر دیا۔ چناں چہ ان کو مسلمانوں میں ایسے افراد کثرت سے ملنے لگے جو اپنے مفروضہ دشمن کے خلاف خود کش بمباری کے لئے تیار تھے۔ میں یہ رجحان پوری شدت کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ یہ رجحان یقینی طور پر کوئی صحت مند رجحان نہیں۔ اس کا مطلب عملًا یہ ہے۔ اگر تم دشمن کو ہلاک نہیں کر سکتے تو ایسا کرو کہ خود اپنے آپ کو ہلاک کر کے کم از کم دشمن کے استحکام کو ڈی اسٹیبلائز (destabilize) کرو۔

موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں کوئی نیا آغاز لانا صرف اس طرح ممکن ہے کہ ان کے کیس کو گہرائی کے ساتھ سمجھا جائے، اور اجتہادی انداز میں اس معاملے کی نئی منصوبہ بندی کی جائے۔ جذباتی اقدام یا رد عمل کے تحت کوئی کارروائی اس معاملے کا حل نہیں بن سکتی۔ یہ احیائے امت کا معاملہ ہے، اور احیائے امت کا معاملہ ہمیشہ اجتہاد پر مبنی ہوتا ہے۔

راقم الحروف کے نزدیک اس معاملے کا آغاز یہ ہے کہ وہ تمام کتابیں جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر سیاسی پیٹرن پر لکھی گئیں، ان سب کو کلاسیکل لٹریچر (classical literature) کا درجہ دیا جائے۔ یعنی ان کی اہمیت صرف اس اعتبار سے ہو کہ وہ امت مسلمہ کی ماضی کی تاریخ کو سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں، لیکن جہاں تک موجودہ زمانے میں ملت کے احیاء اور اس کے مستقبل کی

تعمیر کا سوال ہے، اب بلاشبہ ہم کو نئے لٹریچر کی ضرورت ہے۔ ایسا لٹریچر جس میں قرآن وسنت کی روشنی میں نئے حالات کو سمجھا جائے، اور اجتہادی انداز میں عمل کا نقشہ بنایا جائے ۔ بعد کے زمانے میں جو ڈیولپمنٹ ہوا، اس کے نتیجے میں امت کے اندر انسان رخی ذہن کے بجائے مسلم رخی ذہن (Muslim-oriented mind) بن گیا۔ مسلمان عام طور پر ہم اور وہ (we and they) کے انداز میں سوچنے لگے۔ مگر یہ ذہن مکمل طور پر ایک غیر دعوتی ذہن ہے۔ ذہن وہ ہے جو ہم اور ہم (we and we) کے تصور پر مبنی ہو۔ اس لحاظ سے موجودہ زمانے میں جو اسلامی لٹریچر تیار ہو اس کو تمام تر انسان رخی سوچ (man-oriented thinking) پر مبنی ہونا چاہئے ۔ دعوت الی اللہ کے لئے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے اندر دوسرے انسانوں کے لئے نصح ( خیر خواہی) کا ذہن موجود ہو۔ مسلمانوں کا موجودہ لٹریچر اس اسپرٹ سے خالی ہے۔ آج جس نئے لٹریچر کی ضرورت ہے، اس کو اس کمی سے مکمل طور پر پاک ہونا چاہئے، ورنہ وہ عملاً مطلوب مقصد کے لئے مؤثر نہ ہوگا۔ ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ البخاری کے مطابق، اس کا ابتدائی جزء یہ ہے: يأتي في آخر الزمان قوم، حدثاء الأسنان، سفهاء الأحلام، يقولون من خير قول البرية، يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 3611)۔ اس حدیث میں ایک ظاہرے کی طرف اشارہ ہے، جس کی ایک انتہائی صورت کو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔ مگر اس سے قطع نظر اس حدیث سے فطرت کا ایک اصول معلوم ہوتا وہ یہ کہ کوئی آدمی جب اپنے عہد شباب (youth age) میں ہوتا ہے تو اس وقت وہ اپنی عقل و فہم کے اعتبار سے غیر پختہ (immature) ہوتا ہے۔ اس لیے کسی آدمی کی اس رائے کو زیادہ قابل اعتبار سمجھنا چاہیے جس کو اس نے پختگی کی عمر کو پہنچنے کے بعد ظاہر کی ہو۔ قرآن سے بھی فطرت کا یہ اصول معلوم ہوتا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ جب جوانی کی عمر میں تھے۔ اس وقت انھوں نے مصر کے ایک قبطی کو گھونساماردیا، اس کے بعد وہ مرگیا

(القصص: 15) لیکن حضرت موسیٰ کو عہد شباب میں نبوت نہیں دی گئی۔ بلکہ اس وقت دی گئی جب کہ وہ پختگی کی عمر (age of maturity) تک پہنچ چکے تھے۔ کیوں کہ بحیثیت پیغمبر ان کو قول لئن (طه: 44) کی زبان میں کلام کرنا تھا۔

مذکورہ حدیث میں مسلم تاریخ کے ایک اہم پہلو کی توجیہہ ملتی ہے۔ مسلم تاریخ اپنے بعد کے زمانے میں نظریاتی انتہا پسندی (ideological extremism) کی طرف چلنے لگی۔ حدیث میں انتباہ کی زبان میں غلو (ابن ماجه، حدیث نمبر 3029) کہا گیا ہے۔ مطالعے سے مذکورہ تاریخی ظاہر ہ کی نفسیاتی توجیہہ معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ بعد کے زمانے میں جن حضرات کو مسلمانوں کے اندر مفکر (thinker) کا درجہ ملا، ان کا فکر ان کے عہد شباب میں بنا تھا، جب کہ وہ ابھی پختگی کی عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ مثلاً ابن تیمیہ، عبدالوہاب نجدی، ابوالاعلیٰ مودودی، وغیرہ۔ بعد کی تاریخ میں جن لوگوں کو مسلمانوں کے اندر مفکر کا درجہ ملا، وہ وہی تھے جن کا فکر عہد شباب عہد شباب میں انسان کے اندر جوش کا جذبہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر اس کے افکار میں اکثر انتہا پسندی کا انداز پیدا ہو جاتا ہے۔ وہ اعتدال کی زبان بولنے کے بجائے، انتہا پسندی کی زبان بولنے لگتا ہے۔ بعد کو اس کا یہ فکر مقدس بن کر لوگوں میں اتنا پھیل جاتا ہے کہ لوگ اس کو نظر ثانی کے بغیر درست فکر سمجھ لیتے ہیں۔ یہی واقعہ بعد کے زمانے کے مسلم مفکرین کے ساتھ پیش آیا۔ مثلاً ابن تیمیہ کے زمانے میں ایک عیسائی نے پیغمبر اسلام کے بارے کوئی بات کہی۔ اس وقت کے مسلمانوں نے شتم رسول کا کیس قرار دیا۔ یہ واقعہ ملک شام میں اس وقت پیش آیا جب کہ ابن تیمیہ اپنی جوانی کے عمر میں تھے۔ اس وقت انھوں نے عربی میں ایک ضخیم کتاب لکھی جس کا ٹائٹل تھا: الصارم المسلول علی شاتم الرسول۔ اس کتاب میں انھوں نے یہ مسئلہ بیان کیا کہ جو آدمی شتم رسول کا مرتکب ہو، اس کی سزا قتل ہے۔ ابن تیمیہ اس وقت اگر پختگی کے عمر میں ہوتے تو یقیناً ان کا رد عمل مختلف ہوتا۔ وہ مذکورہ عیسائی سے مل کر اس کو ہمدردانہ انداز میں سمجھاتے۔ ایسی کتاب لکھتے جس میں وہ بتاتے کہ شتم رسول جیسا غیر فطری معاملہ ہمیشہ غلط فہمی کی بنا پر ہوتا ہے۔

اس لیے ایسے آدمی کے اوپر تبلیغ کرنا چاہیے، اور پرامن دعوتی عمل کے ذریعے اس کی اصلاح کی کوشش کرنا چاہیے۔

سید ابوالاعلیٰ مودودی کے زمانے میں ایک واقعہ پیش آیا، اس کے بعد انھوں نے اپنی اردو کتاب الجہاد فی الاسلام لکھی۔ اس وقت وہ اپنی جوانی کی عمر میں تھے۔ چنانچہ انھوں نے جوش و خروش کے انداز میں ایک ایسی کتاب لکھی جس میں جہاد بمعنی قتال کی زبردست وکالت کی گئی تھی۔ اگر وہ اس وقت پختگی کی عمر میں ہوتے تو شاید وہ ایک اور کتاب لکھتے جس کا عنوان یہ ہوتا، الدعوة الى اس کتاب میں وہ پرامن دعوت کی اہمیت بتاتے اور مسلمانوں کو راغب کرتے کہ وہ پرامن دعوت کے اصول پر اپنے عمل کی منصوبہ بندی کریں۔ یہی معاملہ دوسرے مسلم مفکرین کے ساتھ پیش اب اس کا حل یہ ہے کہ اسلام کو سمجھنے کے لیے براہ راست طور پر قرآن و سنت کا مطالعہ کیا جائے، نہ کہ بعد کے زمانے میں لکھی ہوئی کتابوں کا۔

Printed page