امن ایک اقدام
Al-Risala, April 2016, pp. 44–45
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام میں جنگ، دفاع کا اشو (issue of defence) ہے۔ اور امن، اقدام کا اشو (issue of advancement) ہے۔ اسلام میں اہل ایمان کو اجازت نہیں کہ وہ اپنی طرف سے البتہ جہاں تک امن کا تعلق ہے، اہل ایمان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اسلام کی اشاعت کے لیے پرامن اقدام کا منصوبہ بنائیں۔ اسلام کا یہ اصول فطرت کے قانون پر مبنی ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، جنگ کے ذریعے کسی مثبت نتیجہ کا حصول ممکن نہیں۔ جنگ سے کسی بات کا فیصلہ نہیں ہوتا، نہ ہارنے کی صورت میں اور نہ جیتنے کی صورت میں۔ اگر فتح حاصل ہو، تب بھی ہارنے والے فریق کے دل میں انتقام کا جذبہ بھڑک اٹھتا ہے۔ جنگ میں فتح بھی ایک نئی جنگ کا آغاز بن جاتی ہے۔
پرامن منصوبہ بندی ہمیشہ اپنا کام کرتی ہے، پرامن منصوبہ بندی کوئی نیا مسئلہ پیدا نہیں کرتی۔ وہ صرف مسئلہ کے حل کی طرف لے جاتی ہے۔ پرامن منصوبہ بندی کے تحت اقدام کرنا، ایک ایسے
انجام کی طرف لے جاتا ہے جہاں جنگ کا خاتمہ ہو جائے اور لوگوں کو پر امن سرگرمیوں کے لیے مواقع (opportunities) حاصل ہو جائیں۔
اسلام کے دورِ اول کی تاریخ اس اصول کی تصدیق کرتی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اہل ایمان اور ان کے مخالفین کے درمیان کچھ لڑائیاں ہوئیں۔ مثلاً غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ حنین، وغیرہ۔ مگر ان لڑائیوں سے ٹکراؤ ختم نہیں ہوا۔ گویا باعتبارِ نتیجہ عمل کی کوئی حد نہیں آئی۔ قرآن میں فتح کی آیت صرف صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ فتح کا مطلب ہے ٹکراؤ کا خاتمہ اور پر امن سرگرمیوں کے لیے موافق ماحول پیدا ہو جانا۔ کسی اور غزوہ کے بعد فتح کی آیت نہیں اتری۔ حدیبیہ کا واقعہ 6 ہجری میں پیش آیا۔ اس موقع پر فریق ثانی کی کوشش صرف یہ تھی کہ رسول اور اصحاب رسول مکہ میں داخل نہ ہوں اور عمرہ کیے بغیر واپس مدینہ چلے جائیں۔ مگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی طرف سے امن (peace) کی بات چیت (negotiation) شروع کی۔ معاملہ میں آپ اس آخری حد تک گیے کہ فریق ثانی کی تمام شرطوں کو یک طرفہ طور پر منظور کر لیا۔ صرف اس مقصد کے لیے کہ دونوں فریقوں کے درمیان صلح ہو جائے اور معتدل حالات قائم تاکہ کھلے طور پر اسلام کے دعوتی مشن کو جاری کیا جا سکے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس طرح فریق ثانی سے یک طرفہ شرطوں پر صلح کر لی تو اس کے بعد قرآن کی سورہ نمبر 48 نازل ہوئی۔ اس میں پیشگی طور پر یہ اعلان کر دیا گیا کہ یہ پر امن مصالحت باعتبار نتیجہ ایک فتح مبین (clear victory) ہے۔ قرآن کی یہ پیشگی خبر چند سالوں میں واقعہ بن گئی، پر امن اقدام باعتبار نتیجہ فتح ثابت ہوا۔
اسلام میں جنگ مجبوری کے تحت وقتی دفاع کے لیے ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، پر امن منصوبہ اس لیے ہوتا ہے کہ سماج کے اندر مستقل طور پر اعتدال کی حالت قائم ہو جائے۔ ہر فرد کے لیے تعمیری سرگرمیوں کے مواقع حاصل ہو جائیں۔