Al-Risala · May 2016

قرآن کی تعلیم

Al-Risala, May 2016, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: خیر کم من تعلم القرآن وعلمہ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 5027) تم میں اچھا وہ ہے جس نے قرآن کو سیکھا اور قرآن کو سکھایا۔ اس حدیث میں تعلیم اور تعلم سے مراد صرف قرآن کے عربی متن کا تعلیم و تعلم نہیں ہے۔ بلکہ اس کا مفہوم اس سے زیادہ توسیعی اس حدیث میں قرآن کے علم کے ساتھ متعلقات قرآن کا علم بھی شامل ہے۔

قرآن کے متعلق علوم سے مراد تمام انسانی علوم ہیں۔ سب سے پہلے اس میں وہ علوم شامل ہیں جن کا حوالہ قرآن میں کسی پہلو سے آیا ہے۔ مثلاً تاریخ، ارضیات اور فلکیات، وغیرہ۔ معنوں میں علمی کتاب نہیں ہے۔ مگر قرآن میں مختلف علوم کے بارے میں جزئیاتی اشارے موجود ہیں۔ عالم کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان علوم کو بقدر ضرورت پڑھے تا کہ وہ قرآن کی علمی تشریح کر سکے۔ قرآن ایک دعوتی کتاب ہے۔ قرآن تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے ان کو اپنا پیغام اور پھر حکم دیتا ہے کہ قرآن کا پیغام اس طرح پیش کرو جوان کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو ہو(النساء63)۔ اس لحاظ سے اس حکم کے وسیع مفہوم میں وہ تمام علوم شامل ہو جاتے ہیں جو انسان کے ذہن پر چھائے ہوئے ہیں۔ کیوں کہ ان علوم کا تجزیہ کیے بغیر آدمی قرآن کی باتو ں پر یقین نہیں کر سکتا۔

قرآن پر صرف ایمان لانا کافی نہیں ہے۔ بلکہ ضروری ہے کہ مومن کے اندر قرآن کی صداقت پر یقین ہو۔ یہ یقین اسی وقت پیدا ہوسکتا ہے جب کہ قرآن سے متعلق علوم کا مطالعہ کیا اسی طرح جو لوگ قرآن کے مدعو ہیں، ان کے اندر بھی ایک سوچ ہوتی ہے جو پیشگی طور پر ان کے اندر موجود ہوتی ہے۔ اس بنا پر ضروری ہے کہ مدعو کے سامنے قرآن کی تعلیم اس طرح پیش کی جائے کہ مدعو کو اس کی صداقت پر یقین ہو جائے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالم مدعو کے علوم سے واقفیت حاصل کرے۔

Printed page