Al-Risala · May 2016

جنت کی مجلسیں

Al-Risala, May 2016, p. 6

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت صرف عیش کی جگہ نہیں ہے، بلکہ وہ اعلیٰ درجے کی سرگرمیوں کی جگہ ہے۔ سے ایک اعلیٰ سرگرمی وہ ہے جس کو جنت کی مجلسیں کہا جاسکتا ہے۔ اس جنتی سرگرمی کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ (15:47) اور ان کے سینوں کی کدورتیں ہم نکال دیں گے، سب بھائی بھائی کی طرح رہیں گے، تختوں پر آمنے سامنے۔ دوسرے مقام پر یہ الفاظ آئے ہیں: أُولَئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ فَوَاكِهُ وَهُمْ مُكْرَمُونَ فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ (37:41-44) ان کے لیے معلوم رزق ہوگا۔ میوے، اور وہ نہایت عزت سے ہوں گے۔ آرام کے باغوں میں۔ آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت کا ماحول انتہائی درجے کا پر راحت ماحول ہوگا۔ میں داخل ہونے والے لوگ آمنے سامنے (face to face) بیٹھیں گے، اور اعلیٰ معرفت کے ماحول میں باہم گفتگو کریں گے۔ یہ باہم گفتگو کرنے والے لوگ وہ ہوں گے، جو دنیا کی زندگی میں اعلیٰ معرفت حاصل کر چکے ہوں۔ جوذہنی ارتقا (intellectual development) کے بلند درجے پر ہوں گے۔ ان میں سے ہر شخص اعلیٰ درجے کی مجلس میں شرکت کرنے کے لیے کامل معنوں میں تیار شخص (prepared personality) کی حیثیت رکھتا ہوگا۔ یہ جنتی زندگی کا ایک نہایت اعلیٰ تجربہ ہوگا، جو اہلِ جنت کو حاصل ہوگا۔

جنت کی ان مجالس کا موضوع کلام کیا ہوگا۔ وہ قرآن کی ایک آیت سے معلوم ہوتا ہے: وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (39:75)۔ اور کہا جائے گا کہ ساری حمد اللہ کے لیے ہے، سارے عالم کا یہ آیت جنت کے بارے میں ہے۔ حمد الہی یا معرفت خداوندی بلاشبہ ایسا موضوع ہے جو لامحدود حد تک وسیع ہے۔ اس موضوع کا تعلق کبھی نہ ختم ہونے والے کلمات اللہ اور آلآء اللہ سے ہے۔

Printed page