Al-Risala · January 2016

تاریخ کا سفر

Al-Risala, January 2016, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی سورہ نمبر 93 کی ایک آیت ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَلْآخِرَةُ خَيْرُ لَّكَ مِنَ الْأُوْلٰی (الضحی: 4) اور یقیناً تمھارا اگلا، تمھارے لیے پچھلے سے بہتر ہے۔ قرآن کا یہ بیان کسی محدود معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ انسانی تاریخ کے بارے میں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل ایمان کے لیے تاریخ کا بعد کا دوران کے پچھلے دور سے بہتر ہوگا۔

قرآن ساتویں صدی عیسوی میں اترا۔ اس وقت اس اعلان کا مطلب یہ تھا کہ قرآن کے ذریعے تاریخ میں ایک نیا عمل (process) جاری ہوا ہے۔ یہ عمل بڑھتا رہے گا۔ یہاں تک کہ تاریخ میں ایک نیا دور آجاۓ ، ایک ایسا دور جو اہل ایمان کے لیے پچھلے تمام ادوار سے بہتر حالات والا دور اکیسویں صدی اسی تبدیلی کا نقطہ انتہا (culmination) ہے۔

قدیم دور مذہبی جبر کا دور تھا، موجودہ دور مذہبی آزادی کا دور ہے۔ قدیم دور حافظہ اور کتابت کا دور تھا، اب پرنٹنگ پریس کا دور ہے۔ قدیم دور روایتی دور تھا، موجودہ دور سائنسی دور ہے۔ تنگ نظری کا دور تھا، موجودہ دور کھلے پن (openness) کا دور ہے۔ قدیم دور لوکل دعوت کا دور تھا، موجودہ دور ٹکنالوجی کے ذریعے عالمی دعوت کا دور ہے، وغیرہ۔

اسی طرح قدیم دور جنگ اور تشدد کا دور تھا، موجودہ دور امن کا دور ہے۔ قدیم دور میں یہ سمجھا جاتا تھا کہ کوئی چیز صرف لڑائی کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے، موجودہ دور میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ ایک بڑے مقصد کو مکمل طور پر امن ذریعے سے حاصل کیا جاسکے۔

اس فرق کا سب سے بڑا ظاہرۂ دعوت اور تبلیغ کے میدان میں ہوا ہے۔ قدیم زمانے میں دعوت و تبلیغ کا کام پر امن طور پر کرنا ممکن نہیں تھا۔ موجودہ زمانے میں پرامن دعوت کا کام انتہائی حد تک ممکن ہو گیا ہے۔ قدیم زمانے میں دعوت کا کام صرف لوکل طور پر انجام دیا جا سکتا تھا، اب دعوت کا کام عالمی طور پر انجام دیا جاسکتا ہے، وغیرہ۔

Printed page