Al-Risala · May 2016

ذہنی ارتقا

Al-Risala, May 2016, p. 13

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام میں سب سے زیادہ مطلوب چیز فرد کا تزکیہ ہے، یعنی ربانی تصور حیات کے مطابق ، ذہنی ارتقا۔ کسی صاحب عقیدہ کے اندر جو اعلیٰ صفات مطلوب ہیں، اُن کا اصل ذریعہ یہی ذہنی ارتقا ہے۔ علمی اعتبار سے، ذہنی ارتقا کا ذریعہ قرآن وحدیث کا مطالعہ ہے۔ جتنا زیادہ مطالعہ کرے گا، اتنا ہی زیادہ اس کے اندر وہ علمی بنیاد پائی جائے گی جو تزکیہ کے عمل کے لیے ضروری ہے۔

لیکن تزکیہ یا ذہنی ارتقا کے لیے ایک اور چیز مطلوب ہے۔ اس کو نفسیاتی بنیاد کہا جاسکتا اس نفسیاتی بنیاد کو علماء نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: الإيمان بين الرجاء والخوف ۔ ایمان امید اور خوف کے درمیان ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ کہ مومن ہمیشہ ایک قسم کے شک (suspicion) کی حالت میں جیتا ہے۔ کبھی وہ اللہ کی رحمت کو یاد کر کے یقین کا تجربہ کرتا ہے اور کبھی وہ اپنی کوتاہیوں کو سوچ کر شبہہ کی حالت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ ایمانی کیفیت اتنی زیادہ عام ہے کہ صحابہ کا بھی اس معاملے میں استثنا نہیں۔

ایسا کیوں ہوتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ فطرت کے نقشے کے مطابق ، یہی وہ واحد طریقہ ہے جس کے ذریعے آدمی کا ذہنی ارتقا مسلسل طور پر جاری رہے۔ شبہہ کی یہ حالت دراصل ایک قسم کا ذہنی شاک (intellectual shock) ہے، اور نفسیات کا مطالعہ بتا تا ہے کہ انسان کے اندر ذہنی ترقی صرف شاک ٹریٹمنٹ (shock treatment) کے ذریعہ ہوتی ہے۔

اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ انسان خود دریافت کرده حقیقت (self-discovered reality) پر کھڑا ہو۔ اور خود دریافت کردہ حقیقت کے حصول کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان کے اندر مسلسل طور پر سوچ کا عمل (thinking process) جاری رہے۔ اعلیٰ علم و معرفت کے حصول کے لیے” میں نہیں جانتا“ کی نفسیات درکار ہے، نہ کہ” میں جانتا ہوں“ کی نفسیات۔

Printed page