کنٹری بیوشن کا سوال
Al-Risala, May 2016, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے کہا کہ میں آپ کی تحریریں پڑھتا ہوں۔ آپ کی تحریریں مجھ کو مفید معلوم لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آپ دوسروں کا کنٹری بیوشن نہیں مانتے۔ میں نے کہا کہ میرے بارے میں یہ بات بالکل بے بنیاد ہے۔ میں جو کچھ کہتا ہوں وہ صرف یہ ہے کہ موجودہ زمانہ ایک نیا مگر ہمارے لکھنے والے لوگ ردِعمل کی نفسیات کی بنا پر موجودہ زمانے سے بے خبر رہے، عربی داں بھی اور انگریزی داں بھی۔ اس بے خبری کی بنا پر ایسا ہوا کہ انھوں نے جو کچھ لکھا وہ جدید تقاضوں کے لحاظ سے غیر متعلق (irrelevant) تھا، وہ جدید ذہن کو ایڈریس کرنے والا نہ تھا۔ یہ بات تین موضوعات کے بارے میں کہتا ہوں ـــــ معرفت، دعوت، جدید چیلنج۔ زمانے کے لکھنے والوں نے بظاہر اسلام کے ہر پہلو پر کتابیں لکھیں، مگر ان کی کتابیں جدید فکری مستوی کے مطابق نہ تھیں۔ اگر کسی کو میری بات سے اختلاف ہو تو وہ متعین مثال کی زبان میں بتائے کہ مذکورہ تین موضوعات پر کس مصنف نے کون سی کتاب لکھی ہے۔ کسی اور پہلو سے کس کا کنٹری بیوشن کیا ہے، وہ ایک الگ سوال ہے۔ میری مذکورہ بات سے اس کا کوئی براہِ راست تعلق کسی کتاب کو جانچنے کا معیار یہ ہے کہ وہ مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی ہو۔ حقیقت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَقُلْ لَّهُمْ فِيْ أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيْغًا اور ان سے ایسی بات کہو جو ان کے دلوں میں اتر جائے۔
دوسرے لفظوں میں یہ کہ بات کو پینٹریٹنگ (penetrating) اسلوب میں کہنا۔ اسلوب میں جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والا ہو۔ اس اصول کا تقاضا ہے کہ بولنے والا بولنے سے پہلے مخاطب کے ذہن کو غیر متعصبانہ انداز میں پڑھے۔ وہ مخاطب کے ذہن کو اس طرح دیکھے جس طرح مخاطب خود اس کو دیکھتا ہے۔ مخاطب کی اس طرح دریافت کے بعد ہی یہ ممکن ہے کہ کہنے والا اپنی بات کو اس طرح کہے جو مخاطب کے ذہن کو ایڈریس کرنے والی بن جائے۔ کے کلام کی دو لازمی شرطیں ہیں، یعنی مخاطب سے کامل واقفیت اور اس سے کامل خیر خواہی۔