منفی سوچ کا مزاج
Al-Risala, May 2016, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں ایک کردار کا ذکر ان الفاظ میں آیا ہے۔ یہ دو آیتیں ہیں، ان کا ترجمہ یہاں نقل کیا یعنی اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ اور اگر ہم چاہتے تو اس کو ان آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے مگر وہ تو زمین کا ہو رہا اور اپنی خواہشوں کی پیروی کرنے لگا۔ پس اس کی مثال کتے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر بوجھ لادے تب بھی ہانپے اور اگر چھوڑ دے تب بھی یہ مثال ان لوگوں کی ہے جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا۔ پس تم یہ احوال ان کو سناؤ تا کہ
یہاں آیت سے مراد ربانی رہنمائی ہے اور ہانپنے سے مراد شکایت کا مزاج (complying mentality) ہے۔ جو شخص یا گروہ ربانی رہنمائی سے سبق نہ لے، وہ ہر حال میں شیطان کا پیرو بن جائے گا۔ ایک صورت حال میں ایک قسم کی منفی بات کہے گا اور اگر صورت حال بدل جائے تو وہ دوسری قسم کی منفی بات بولنا شروع کر دے گا۔ مثلا ایک شخص اگر شیطان کے زیر اثر منفی انداز میں سوچنے کا عادی بن جائے۔ تو اس کا حال یہ ہوگا کہ اگر اس کو ایک اعتبار سے اچھے حالات ملیں تو وہ غلط تقابل کرکے اس میں شکایت کا ایک پہلو نکال لے گا۔ اور اگر حالات بدل جائیں تو وہ دوبارہ اپنے بے اعترافی کے مزاج کی بنا پر ایک اور پہلو شکایت کا نکال لے گا۔ وہ دونوں حالتوں میں منفی بولی ایک نوعیت کے حالات ہوں تب بھی، اور دوسرے نوعیت کے حالات ہوں تب بھی۔ اصل یہ ہے کہ قانون فطرت کے مطابق، زندگی کسی کے لیے بھی مکمل طور پر بے مسئلہ کبھی ایک مسئلہ تو کبھی دوسرا مسئلہ۔ اس معاملے کا حل صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی اپنی منفی سوچ کو بدلے۔ وہ بظاہر شکایت کے حالات میں بھی مثبت ذہن سے سوچنے کا طریقہ اپنائے، وہ مکمل طور پر مثبت انداز میں سوچنے والا بن جائے۔