اختلاف ایک برکت
Al-Risala, May 2016, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
عمر بن عبدالعزیز ( وفات 101ھ ) کو اسلام کی تاریخ میں پانچویں خلیفہ راشد کا درجہ دیا جاتا ان کا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے : ما سرني لو أن أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم لم يختلفوا، لأنهم لو لم يختلفوا لم تكن رخصة ( المقاصد الحسنة، حدیث نمبر 39)۔ یعنی میرے لیے یہ چیز باعث مسرت نہیں کہ اصحاب محمد میں اختلاف نہ ہوتا، اس لیے کہ اگر وہ اختلاف نہ کرتے تو ہم کو رخصت کا فائدہ نہ ملتا۔
عبادتی امور میں صحابہ کا اختلاف بعد کے زمانے میں مختلف فقہی اسکول کا ذریعہ بن گیا۔ سبب یہ تھا کہ بعد کے علماء نے اختلاف کے معاملے میں ترجیح کا طریقہ اختیار کیا۔ مسالک میں کسی ایک طریقہ کو راجح اور کسی کو مرجوح قرار دینا۔ اس سے فقہ میں مختلف مدر سے اور بالآخر امت کے اندر فقہی تشدد پیدا ہوگیا۔
عمر بن عبدالعزیز کا یہ قول ایک حدیث پر مبنی ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم ( جامع بیان العلم وفضله، حدیث نمبر 1760)۔ میرے اصحاب ستاروں کی مانند ہیں، تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کرو، تم ہدایت پر رہو گے۔ صحابہ کا اختلاف اساسی امور (basics) میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ جزئی امور (non-basics) اس طرح کے جزئی امور میں ہمیشہ تنوع (diversity) مطلوب ہوتی ہے۔ کے جزئی امور میں تو حد (یکسانیت) تلاش کرنا، غیر فطری ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس طرح کے جزئی اختلاف کو تنوع پر محمول کیا جائے، ان کو تو حد کا موضوع نہ بنایا جائے۔ اس اصول کو اختیار کرنے کی صورت میں امت کے اندر اتحاد باقی رہے گا۔ اس کی خلاف ورزی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ امت کے اندر اختلاف وانتشار پیدا ہو جائے گا۔ ایک امت کئی فرقوں میں بٹ جائے گی۔ یہ اختلاف بڑھ کر غلو اور تشدد کی صورت اختیار کرلے گا۔ اسلام کی بعد کے زمانے کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔