Al-Risala · May 2016

خوشگوار تعلق کا راز

Al-Risala, May 2016, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شادی شدہ نوجوان نے سوال کیا کہ شوہر اور بیوی کے درمیان خوشگوار تعلق کا فارمولا کیا میں نے کہا کہ اس کا سادہ فارمولا صرف ایک ہے— مرد عورت کے جذباتی مزاج (emotional nature) کو برداشت کرے، اور عورت مرد کے بے لچک مزاج (stubborn nature) کو برداشت کرے۔ اس کے بعد، ان شاء اللہ، ساری عمر دونوں کے درمیان خوشگوار تعلق قائم رہے گا:

A woman should learn to adjust with the stubborn nature of a man, and a man should learn to adjust with the emotional nature of a woman. عورت اور مرد، ،دو متضاد (opposite) صنف نہیں ہیں، بلکہ دونوں ایک دوسرے کا تکملہ اس بنا پر دونوں کے اندر بعض اضافی خصوصیات رکھی گئی ہیں۔ اندر اگر جذبات زیادہ ہیں تو وہ اس کی اضافی خصوصیت ہے، وہ کسی کمی کی بات نہیں۔ اسی طرح مرد کے اندر اگر بے لچک مزاج ہے تو وہ اس کی کمزوری نہیں بلکہ وہ اس کی اضافی خصوصیت ہے۔ دونوں چیزیں یکساں طور پر ضروری ہیں۔ عورت اور مرد دونوں کو چاہیے کہ وہ اس فرق کو تخلیقی نظام (creation plan) کا حصہ سمجھیں۔ اگر دونوں اس حقیقت کو جان لیں تو دونوں کے اندر ایک دوسرے کے اعتراف کا مزاج پیدا ہوگا، نہ کہ شکایت اور ٹکراؤ کا مزاج۔ اپنے جذباتی مزاج کی بنا پر، عورت کے اندر نرمی ہوتی ہے۔ اس کے اندر یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ معاملے کو نرمی کے ساتھ سلجھائے۔ اسی طرح مرد کے بے لچک مزاج کا یہ فائدہ ہے کہ جہاں ضرورت ہو کہ معاملے کو زیادہ مضبوطی کے ساتھ ڈیل (deal) کیا جائے ، وہاں مرد اپنا رول ادا اس طرح عورت اور مرد دونوں کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ اپنا اپنا حصہ ادا کرتے ہوئے ، زندگی کا نظام کامیابی کے ساتھ چلائیں۔

Printed page