وزڈم میگزین
Al-Risala, May 2016, pp. 39–41
By Maulana Wahiduddin Khan
ماہنامہ الرسالہ کا پہلا شمارہ اکتوبر 1976 میں شائع ہوا۔ اس وقت دہلی کے ایک تعلیم یافتہ مسلمان نے ماہنامہ الرسالہ پر اپنا تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: آپ کا میگزین چلنے والا نہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ آپ کا میگزین ایک سجسٹیو (suggestive) میگزین ہوگا۔ جب کہ آج کا انسان صرف ایسے میگزین کو چاہتا ہے جو انفارمیٹیو (informative) میگزین ہو۔ واقعات نے بتایا کہ مذکورہ مسلمان کی رائے درست نہ تھی۔ انھوں نے ثنائی طرز فکر (dichotomous thinking) کے تحت اپنا تبصرہ ان کو شاید یہ معلوم نہ تھا یہاں میگزین کی ایک تیسری صورت بھی ہے، جس پر ان کا تبصرہ منطبق نہیں ہوتا۔ اور وہ ہے وزڈم میگزین (wisdom magazine)۔ وزڈم میگزین ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے، خواہ وہ کسی بھی زبان میں جاری کیا جائے۔
وزڈم کا مطلب دانش یا حکمت ہے۔ مثلاً ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ انجینیر ہیں۔ اور ایک یوروین کمپنی میں سروس کرتے ہیں۔ معاشی اعتبار سے وہ ایک کامیاب انسان ہیں۔ پاس رہنے کے لیے ذاتی فلیٹ ہے۔ سواری کے لیے کار ہے۔ ان کے بچے انگریزی اسکول میں پڑھ رہے ہیں۔ یہ سب کچھ کمپنی کی سروس کی بنا پر ہے۔ لیکن گفتگو کے دوران انھوں نے اپنی کمپنی کی انھوں نے کہا کہ کمپنی میں ایک امتیاز (discrimination) پایا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ ان کے یہاں انڈین کی تنخواہ کم ہوتی ہے، اور وائٹ یوروپین کی تنخواہ بہت زیادہ۔ میں نے کہا کہ آپ کی شکایت درست نہیں۔ آپ غلط تقابل (wrong comparison) کا آپ یورپین کمپنی کا تقابل انڈین کمپنی سے کر رہے ہیں۔ اس کے بجائے آپ کو ایک انڈین کمپنی کا تقابل دوسری انڈین کمپنی سے کرنا چاہیے۔ اگر آپ صحیح تقابل (right comparison) کا طریقہ اختیار کریں تو آپ کی شکایت ختم ہو جائے گی۔ یہ وزڈم کی بات ہے۔ لوگوں کے اندر عام طور پر یہ وزڈم نہیں ہوتی۔ اس لیے وہ شکایت میں جیتے ہیں۔ ایسے حالت میں لوگوں کو ایک ایسے میگزین کی ضرورت ہے جو ان کے معاملات میں وزڈم کی بات بتائے۔
سوال و جواب 2015 سے میں ماہ نامہ الرسالہ کا قاری ہوں۔ آپ کی کتابیں بالخصوص پیغمبر انقلاب، غیر ملکی سفر نامے، وغیرہ کا مطالعہ کر چکا ہوں۔ پوسٹ گریجویشن میں تاریخ خصوصی مضمون ہے۔ ایم اے کے دوران آپ کے مضمون تاریخ انسانی کے مطالعے سے تاریخ کے متعلق مستفید ہوا۔ عالمی منظر نامے سے واقفیت رکھنے کے لیے Indian Express پڑھتا ہوں۔ انسانی تاریخ کے مختلف مراحل کو ذہن میں رکھ کر اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ آپ کا مشن صلح حدیبیہ پر اتفاق، صبر و ضبط کا فارمولا، ہی انسانی زندگی اور اس کی بقاء اور ارتقاء کے لئے لازم ہیں۔ اس دورِ انسانی میں جس میں آپ اور ہم جی رہے ہیں، آپ حالات کی سنگینی سے زیادہ واقف ہیں۔ ایسے وقت میں جب کہ لوگ اسلام کے نام پر، اسلام کو اس طرح پیش کر رہے ہیں جو اسلام کی تعلیمات کے منافی ہیں، صلح حدیبیہ ماڈل کو سامنے رکھ کر مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے ۔ صبر و ضبط اپنی جگہ، ان کی غلط فہمی رفع کرنے کے لئے کس راستے کا انتخاب کیا جائے ۔ ( محمد اسماعیل اشفاق احمد، مسلم پورہ، مالے گاؤں)
ہمارا لٹر یچر پورا کا پورا اسی سوال کا جواب ہے ۔ آپ نے ابھی صرف چند کتابیں پڑھیں ہیں، اس لیے آپ کو یہ شک پیدا ہوا۔ اگر آپ تمام کتابیں پڑھیں، اور اسی کے ساتھ ہمارا ماہنامہ الرسالہ (اردو)، اور اسپرٹ آف اسلام (انگریزی) کا مطالعہ جاری رکھیں تو آپ کے تمام سوالات رفع ہو جائیں گے، ان شاء اللہ۔
اصل یہ ہے کہ عام طور پر لوگ وقتی مسائل میں الجھے رہتے ہیں۔ لوگوں کا یہی مزاج ہے جو لوگوں کے اندر رد عمل (reaction) کی نفسیات پیدا کرتا ہے ۔ رد عمل کی نفسیات مزید بڑھ کر نفرت کی نفسیات بن جاتی ہے ۔ اور نفرت کی نفسیات آخر کار لوگوں کو تشدد تک پہنچادیتی ہے ۔ لوگوں کا حال یہ ہو جاتا ہے کہ اگر وہ فعال تشدد (active violence) میں مبتلا نہ ہوں تب بھی
وہ منفعل تشدد (passive violence) کا شکار ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اس نفسیات کا سب سے زیادہ برا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ مثبت سوچ سے محروم ہو جاتے ہیں۔ حالاں کہ مثبت سوچ ہی تمام ترقیات کا اصل زینہ ہے۔