Al-Risala · May 2016

سوال و جواب

Al-Risala, May 2016, pp. 41–43

By Maulana Wahiduddin Khan

میں الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ یہاں چند سوالوں کی وضاحت مطلوب ہے، براہِ کرم رہنمائی

آپ نے اعتدال کے موضوع پر کئی مضامین لکھے ہیں، مگر یہ باہم متضاد معلوم آپ نے اپنی کتاب دُینِ انسانیت میں لکھا ہے کہ: ”معتدل انداز کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ ہر معاملے میں آدمی کو افراط و تفریط سے بچنا ہے۔ ہر معاملے میں، دو انتہاؤں کے درمیان بین بین والی صورت اختیار کرنا ہے“ (صفحہ 125)۔ تاہم الرسالہ کے حالیہ شماروں میں، آپ اس کے برعکس لکھ رہے ہیں۔ اب آپ فرما رہے ہیں کہ ’اعتدال‘ کا تعلق تمام معاملات سے نہیں، بلکہ صرف عملی معاملات سے ہے۔ (الرسالہ، جولائی 2014ء، ص 41، اکتوبر، ص 40، ستمبر 2015 ص 21)۔ مزید یہ کہ آپ نے حالیہ شمارے میں، اعتدال کا تقابل ”حق و ضلال“ سے کیا ہے، جب کہ اعتدال کے مقابلے میں ہمیشہ افراط و تفریط کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اس کی کیا

آپ کی کتابوں میں دعوت پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دعوت کے علاوہ، ایک مومن پر، حقوق اللہ اور حقوق العباد کے تحت، دین کے دوسرے جو تقاضے ہیں، دین میں اُن کی اہمیت کیا ہے؟ مثلاً نماز، زکوۃ، حج، والدین کی خدمت، گھر والوں، پڑوسیوں اور دوسرے انسانوں کی نسبت سے عائد ہونے والے حقوق و فرائض، وغیرہ۔

حدیث میں ”عزل“ کے بارے میں آیا ہے، کیا یہ جائز ہے۔ اس کے متعلق آپ کی رائے کیا ہے۔ (محمد نسیم خاں، لکھنؤ)

(1) میری پہلی عبارت میں آپ ’’تمام معاملات‘‘ کے ساتھ ’’عملی‘‘ کا اضافہ کر دیں تو آپ کا شبہ اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔ اعتدال کے بارے میں میں نے جو بات لکھی ہے، اس کو آپ نے غور سے نہیں پڑھا۔ آپ دوبارہ اس کو غور سے پڑھیے تو آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔ نقطہ نظریہ ہے کہ اعتدال کا تعلق فکری امور سے نہیں ہے، بلکہ عملی معاملات سے ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، بلکہ عملاً تمام علماء کے درمیان یہ مسئلہ متفق علیہ رہا۔ اگر چہ علماء اس مسئلے کو بتانے کے لیے دوسرے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔

(2) میری تحریروں میں دعوت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب دوسرے فرائض کی نفی نہیں، بلکہ مطلوب صورت کی اہمیت کو بتانا ہے۔ ہماری کتابوں میں دوسرے پہلوؤں پر بھی لکھا گیا البتہ موقعہ کے لحاظ سے دعوت الی اللہ کے فریضہ پر زیادہ زور دیا گیا ہے۔ آپ ہماری تفسیر قرآن، تذکیر القرآن پڑھیں اس میں آپ کو ہماری ساری باتیں مل جائیں گی۔ (3) عزل کے بارے میں میرا مسلک وہی ہے جو صحیح البخاری کی روایت سے ثابت ہے۔ اس کو آپ پڑھ لیں۔ اس معاملہ میں الگ سے میری کوئی رائے نہیں ہے۔ البخاری کے ان الفاظ پر آپ غور کیجیے: عن جابر رضي الله عنه، قال: کنا نعزل والقرآن ينزل۔ (حدیث نمبر 2508) ان الفاظ پر غور کر کے آپ خود اپنے سوال کا جواب پا سکتے ہیں۔

مولانا آپ نے 1 نومبر 2015 کی سنڈے تقریر میں جو فرمایا اس میں سے چند باتوں پر مزید وضاحت مطلوب ہے:

پولٹکس کے ساتھ جب مذہب مل جائے تو تقدس آجاتا ہے، اس کا کیا مطلب ہے۔ دین اور سیاست میں جدائی اور دین پرسنل چوائس ہے اور سیاست سماجی قبولیت کی بنیاد پر ہوتا ہے، میں فرق کیا ہے۔

3- سیاست میں دین کو کب داخلہ ملے گا، کیا اس وقت جب کہ لوگ اس کے لیے تیار ( حافظ سید اقبال احمد عمری، عمر آباد، تمل ناڈو )

1- پولیٹکس جب سیکولر ذہن کے ساتھ چلائی جائے تو وہ ایک دنیوی معاملہ ہوتا ہے۔ پر سیکولر پولیٹکس میں فیصلے کی بنیاد ہمیشہ عقل ہوتی ہے۔ ایسے لوگ ہمیشہ اپنی سرگرمیوں کو نتیجے کے اعتبار سے جانچتے ہیں۔ ان کی سرگرمی اگر مثبت نتیجہ پیدا کرے تو وہ اس پر قائم رہیں گے، اور اگر ان کی سرگرمیاں بے نتیجہ دکھائی دیں تو وہ ان پر از سر نو غور کریں گے۔ وہ اپنی سرگرمیوں کی نئی منصوبہ بندی اس کے برعکس، مذہبی ذہن کے لوگ جب پولیٹکس اختیار کریں تو اپنے مزاج کی بنا پر ان کے لیے سارا مسئلہ عقیدہ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس بنا پر ان کی پولیٹکس، دوسرے مذہبی اعمال کی طرح مقدس بن جاتی ہے۔ وہ اس پر نظر ثانی نہیں کرتے، خواہ اسی راستے میں وہ تباہ ہو کر رہ جائیں۔ وہ ہلاکت کو شہادت کا درجہ دے کر ہر حال میں اس پر قائم رہتے ہیں۔

2- سیاست ہمیشہ ایک حریف (rival) پیدا کرتی ہے۔ سیاست سسٹم میں بدلاؤ کا نشانہ اس بنا پر اول دن سے ایسا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا سیاست پر عملی قبضہ ہے، ان سے ٹکراؤ شروع ہو جاتا ہے۔ اس ٹکراؤ سے بچنے کی عملی صورت یہ ہے کہ سیاست کو عقیدہ کا مسئلہ نہ بنایا جائے، بلکہ اس کو سماجی انتخاب کا مسئلہ بنا دیا جائے۔

3- مذہب میں عملی سیاست کا داخلہ عقیدہ کی بنیاد پر نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ سماجی حالات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ جیسے سماجی حالات ویسی عملی سیاست۔ ایک حدیث کا مطالعہ کر کے اس حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے: عن عائشة قالت: إنما نزل أول ما نزل منه سورة من المفصل، فيها ذكر الجنة والنار، حتى إذا ثاب الناس إلى الإسلام نزل الحلال والحرام، ولو نزل أول شيء : لا تشربوا الخمر، لقالوا: لا ندع الخمر أبدا، ولو نزل: لا تزنوا، لقالوا: لا ندع الزنا أبدا، لقد نزل بمكة على محمد صلى الله عليه وسلم وإني لجارية أ لعب : بَلِ السّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ} [54:46] و ما نزلت سورة البقرة و النساء إلا وأنا عنده ۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر: 4993)۔

Printed page