جنّتی شخصیت
Al-Risala, June 2016, p. 5
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : يدخل الجنة أقوام أفئدتهم مثل أفئدة الطير (صحیح مسلم، کتاب الجنة، مسند احمد، جلد 2، صفحہ 331) یعنی جنت میں ایسے لوگ جائیں گے جن کے دل چڑیوں کے دل کی مانند ہوں۔
چڑیا ایک حیوان ہے، مگر چڑیا کے اندر ایک ایسی استثنائی صفت ہوتی ہے جو کسی دوسرے حیوان میں نہیں ، وہ یہ کہ چڑیا نفرت اور انتقام (revenge) کے جذبات سے خالی ہوتی ہے۔ دوسرے جانور دفاعی طور پر حملہ کرنے کا مزاج رکھتے ہیں، لیکن چڑیا اس مزاج سے مکمل طور پر خالی آپ چڑیا کو دیکھئے تو وہ اپنی شکل ہی سے معصومیت کا پیکر دکھائی دے گی۔ اس لیے کبوتر (pigeon) کو امن کی علامت (symbol of peace) قرار دیا گیا ہے۔
حدیث کے مطابق ، یہی جنّتی صفت اُس انسان سے مطلوب ہے جو جنت کا طالب ہو۔ جنّتی انسان وہ ہے جو ہر قسم کے منفی جذبات سے مکمل طور پر خالی ہو، صرف اُس فرق کے ساتھ کہ چڑیا کے اندر یہ مثبت صفت جبلت (instinct) کے طور پر ہوتی ہے اور جنّتی انسان کے اندر یہ مثبت صفت آزادانہ شعور کے تحت۔
جنّتی انسان وہ ہے جو اپنی تربیت کر کے اپنے آپ کو ایسا بنائے کہ اس کا دل نفرت اور انتقام جیسی چیزوں سے مکمل طور پر خالی ہو جائے، جو غصے کو پی جانے والا ہو، جو منفی ردّ عمل کا مزاج نہ رکھتا ہو، جو نفرت کے باوجود محبت کرنے والا انسان ہو، جو کسی امید کے بغیر لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کرے، جو لوگوں کے درمیان اس طرح رہے، جیسے کہ سب لوگ اُس کے بھائی اور بہن ہیں، جو شیطان سے بھاگے اور فرشتوں کو اپنا ہم نشین بنائے، جو شکایتوں کو صبر کے خانے میں ڈال دے، جو دوسروں کا حق ادا کرے اور اپنا حق خدا سے مانگے۔ یہی وہ اعلیٰ صفات ہیں جو کسی انسان کو جنت میں داخلے کا مستحق بنائیں گی۔