Al-Risala · June 2016

اختیارِ ایسر ـــ ایک سنت

Al-Risala, June 2016, pp. 12–15

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرت عائشہ کی ایک روایت ہے۔ یہ روایت صحیح البخاری، صحیح مسلم، ابوداؤد، الترمذی، المؤطا اور مسند احمد میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ آئی ہے۔ اس روایت میں حضرت عائشہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی پالیسی بیان کی ہے۔ صحیح البخاری میں یہ روایت تین ابواب کے تحت نقل ہوئی ہے (کتاب المناقب: باب صفۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم؛ کتاب الأدب: باب مالا يستحيا من الحق للتفقه في الدّين؛ كتاب الحدود: باب إقامة الحدود، والإنتقام لحرمات الله) اس روایت کے الفاظ یہ ہیں: ما خيّر رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين، إلا اختار أيسرهما۔ یعنی جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان امر کا انتخاب فرماتے۔

یہ حدیث بے حد اہم ہے۔ اس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی جنرل پالیسی کو بیان کیا گیا ہے، مگر عجیب بات ہے کہ محدثین نے اس کی زیادہ تشریح نہیں کی۔ ابن حجر کی فتح الباری کو حدیث کا انسائیکلو پیڈیا سمجھا جاتا ہے۔ ابن حجر نے اس حدیث کو تین ابواب کے تحت نقل کیا ہے، لیکن انھوں نے اس حدیث کی کوئی واضح تشریح نہیں کی۔ انھوں نے صرف یہ لکھا ہے کہ اس' تخییر' کا تعلق، اُمور دنیا سے ہے، مگر انھوں نے امور دنیا کی کوئی متعین عملی مثال نہیں دی (فتح الباری، جلد 12، صفحہ 88)۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ ہر اصول کا ایک عملی انطباق ہوتا ہے۔ مثلاً اسپرچوئیلٹی کے عملی انطباق کو اپلائڈ اسپرچوئیلٹی (applied spirituality) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح سائنس کے عملی انطباق کو اپلائڈ سائنس (applied science) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح حضرت عائشہ کے بیان کردہ پرنسپل کا ایک اپلائڈ پرنسپل (applied principle) ہے، لیکن اس اپلائڈ پرنسپل کی مثالیں کسی بھی شارح حدیث کے یہاں نہیں ملتیں۔ میرے علم کے مطابق، اسلام کی پوری تاریخ میں کسی بھی عالم اور مصنف نے حضرت عائشہ کے اس بیان کردہ اصول کے عملی انطباق کو وضاحت اور تعین کے ساتھ بیان نہیں کیا۔

اسلامی لٹریچر کا یہ خلا، بلا شبہ ایک عظیم حادثے سے کم نہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ قرآن میں نماز کے بارے میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ : أقيموا الصلوة ( البقرۃ : 43) یعنی نماز قائم کرو۔ یہ نماز کے بارے میں اصولی حکم ہے۔ اس کے بعد یہ سوال تھا کہ اس اصول کا عملی انطباق کیا ہے۔ احادیث کا مطالعہ کر کے نماز کی عملی صورت، یا اپلائیڈ صلوۃ (applied Salah) کے بارے میں بڑی تعداد میں کتابیں لکھیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ امت کو غیر مشتبہ طور پر یہ معلوم ہو گیا کہ نماز کا عملی فارم کیا اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو لوگ حکم نماز کو تو جانتے، لیکن اُس کی عملی صورت سے بے خبر ہونے کی بنا پر وہ نماز کی باقاعدہ ادائیگی سے محروم رہ جاتے۔ حضرت عائشہ کی مذکورہ روایت کے بارے میں بھی یہی چیز درکار تھی۔ یہاں بھی ضرورت تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمومی پالیسی کو بتاتے ہوئے اُس کے عملی انطباق کو بھی بتایا جاتا، یعنی یہ بتایا جاتا کہ رسول اللہ نے اپنی تئیس سالہ پیغمبرانہ زندگی میں کس طرح اِس اصول کو عملی طور پر اختیار فرمایا۔ بد قسمتی سے اِس دوسرے معاملے میں یہ کام نہ چنانچہ اب یہ صورت حال ہے کہ حضرت عائشہ کی یہ قیمتی روایت، حدیث کی کتابوں میں موجود ہے، لیکن امت اِس کے عملی انطباق سے بالکل بے خبر ہے۔ خاص طور پر جدید دور میں امت کی زبوں حالی کا سب سے بڑا سبب سنت رسول سے لوگوں کی یہی بے خبری ہے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم، ابدی طور پر خدا کے دین کا عملی نمونہ ہیں۔ دوسری تمام چیزوں کی طرح، جہاد بھی وہی جہاد ہے جس کا نمونہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں ملے۔ جہاد کا جو نمونہ پیغمبر اسلام کی زندگی میں موجود نہ ہو، وہ یقینی طور پر جہاد نہیں ہے بلکہ وہ کوئی اور چیز ہے، خواہ اُس کو اسلامی جہاد کا نام دے دیا جائے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تتمنّوا لقاء العدو، واسئلو اللہ العافية (صحیح البخاری، کتاب الجہاد) یعنی تم دشمن سے مڈبھیڑ کی تمنا نہ کرو، بلکہ خدا سے عافیت مانگو: Don't wish for confrontation with your enemy, instead ask for peace from God. جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت عائشہ نے پیغمبر اسلام کی جنرل پالیسی کو ان الفاظ میں بیان کیا

ہے: ما خير رسول الله صلى الله عليه وسلم بين أمرين، إلا اختار أيسرهما، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی دو امر میں سے ایک امر کا انتخاب کرنا ہوتا تو آپ ہمیشہ دونوں میں سے آسان امر کا انتخاب فرماتے:

Whenever the Prophet had to choose between the two, he always opted for the easier of the two. اس قسم کی احادیث کے ساتھ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عملی زندگی کو دیکھا جائے اور پھر اس معاملے کی تشریح کرنے کی کوشش کی جائے تو یہ کہنا بالکل صحیح ہوگا کہ اسلام میں مسلح جہاد، یا قتال صرف ایک غیر مطلوب انتخاب (undesirable option) ہے، وہ ہرگز کوئی مطلوب انتخاب (desirable option) نہیں۔ پیغمبر اسلام کی زندگی کے واقعات واضح طور پر اس نقطہ نظر کی تائید کرتے ہیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے 610 عیسوی میں مکہ میں توحید کے مشن کا آغاز کیا۔ وقت مکہ شرک کا مرکز بنا ہوا تھا۔ چنانچہ وہاں کے مشرک سردار آپ کے دشمن بن گئے، پھر بھی آپ کا مشن پھیلتا رہا اور لوگ آپ کے ساتھی بنتے رہے۔ اس طرح تیرہ سال گزر گئے۔ اب مکہ کے مخالفین نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ آپ کو مار ڈالیں۔

یہ 622 عیسوی کا واقعہ ہے۔ اُس وقت آپ کو دو میں سے ایک کے انتخاب کا موقع تھا۔ ایک یہ کہ مکہ کے سرداروں کے حربی چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ، اُن سے مسلح مقابلہ کریں۔ تک مکہ اور اطراف مکہ میں کئی سو افراد آپ پر ایمان لاکر آپ کے ساتھی بن چکے تھے، اس لحاظ سے آپ کے لیے یہ انتخاب بظاہر ایک ممکن انتخاب تھا۔

آپ کے لیے دوسرا انتخاب یہ تھا کہ آپ مسلح ٹکراؤ سے اعراض کریں، خواہ اس مقصد کے لیے آپ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑے، یعنی آپ پر امن طور پر مکہ کو چھوڑ کر باہر چلے جائیں، آپ نے یہی دوسرا طریقہ اختیار کیا۔ آپ نے مسلح ٹکراؤ کا طریقہ چھوڑ دیا اور پر امن ہجرت کا طریقہ اختیار کر کے آپ مدینہ چلے گیے۔ اگر چہ ظاہر پسندوں کی نظر میں یہ کوئی باعثِ عزت طریقہ نہ تھا۔ چنانچہ سیکولر مورخین

نے اس واقعے کو ہجرت کے بجائے فرار (flight) کا نام دیا ہے۔

اسی طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جس کو صلح حدیبیہ کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ چھوڑ کر مدینہ آگئے تو آپ کو یہ موقع ملا کہ آپ دعوتِ توحید کا کام زیادہ بڑے پیمانے پر انجام دے یہ بات مکہ کے سرداروں کو پسند نہیں آئی۔ انھوں نے آپ کے خلاف باقاعدہ حملہ شروع اُس وقت آپ نے مکہ کے سرداروں سے گفت و شنید (negotiation) کا سلسلہ شروع اِس گفت و شنید کا مقصد یہ تھا کہ آپ اور مکہ والوں کے درمیان امن کا سمجھوتہ ہو جائے۔ حدیبیہ کے مقام پر دو ہفتے تک جاری رہی۔

اس گفت و شنید کے دوران یہ واضح ہوا کہ فریقِ ثانی اپنی یک طرفہ شرطوں پر اصرار کر رہا وہ لوگ اِس معاملے میں کسی بھی طرح جھکنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ آخر کار، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے سردارانِ قریش کی یک طرفہ شرطوں کو مان لیا، تا کہ دونوں فریقوں کے درمیان امن قائم ہو سکے۔ اِس طرح صلح حدیبیہ کا واقعہ پایا، جو گویا آپ کے اور فریقِ ثانی کے درمیان دس سال کا نا جنگ معاہدہ (no-war pact) تھا۔ اِس واقعے کے ذریعے پیغمبر اسلام نے امت کو یہ نمونہ دیا کہ مسلح ٹکراؤ کا انتخاب کسی بھی حال میں نہیں لینا ہے، کوئی بھی قیمت دے کر ہر حال میں امن کو قائم رکھنا ہے۔ اسلام میں امن کی حیثیت عموم کی ہے اور جنگ کی حیثیت صرف استثناء کی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو راقم الحروف کی کتابیں مطالعۂ سیرت، اور امن عالم، وغیرہ) کانٹے سے بچنے کی تدبیر یہ ہے کہ آدمی کانٹے سے نہ الجھے وہ کانٹے کے مقام سے کترا کر آگے بڑھ جائے (سیرہ) | ص

Printed page