تشدد کا سبب عدم قناعت
Al-Risala, June 2016, pp. 16–17
By Maulana Wahiduddin Khan
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: قد افلح من اسلم و رزق كفافا و قنعه الله بما آتاه (صحیح مسلم، حدیث نمبر: 1054؛ سنن الترمذی، حدیث نمبر: 2348) یعنی وہ شخص کامیاب ہوا جو اسلام لایا اور جس کو بقدر ضرورت رزق ملا اور وہ اُس پر قانع ہو گیا جو اللہ نے اُس کو دیا۔
اس حدیث میں قناعت کا ذکر ہے۔ قناعت کی نفسیات اگر کسی کے اندر پوری طرح پیدا ہو جائے تو وہ اُس کو مکمل طور پر امن پسند بنا دے گی۔ اس کے برعکس جن لوگوں کے اندر قناعت کی نفسیات نہ ہو وہ اپنی حالت پر غیر مطمئن رہیں گے اور آخر کار جھنجھلاہٹ میں مبتلا ہو کر متشددانہ کارروائی شروع کر دیں گے تا کہ جس چیز کو وہ پرامن طور پر حاصل نہ کر سکے اُس کو وہ تشدد کی طاقت سے حاصل حقیقت یہ ہے کہ قناعت سے امن کا مزاج پیدا ہوتا ہے اور عدم قناعت سے تشدد کا مزاج۔ قناعت کا جذبہ آدمی کے اندر یہ نفسیات پیدا کرتا ہے کہ وہ ایک پایا ہوا انسان ہے۔ آدمی اپنے آپ کو پایا ہوا انسان سمجھے وہ کبھی جھنجھلاہٹ اور تشدد کا شکار نہیں ہو سکتا۔ اس کے برعکس معاملہ اس انسان کا ہے جو عدم قناعت کی نفسیات میں مبتلا ہو۔ احساس محرومی کا شکار رہے گا۔ اُس کا یہ احساس اُس کو مسلسل اُکسائے گا کہ جو کچھ اُس نے نہیں پایا اُس کو وہ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ اب اگر اُس نے دیکھا کہ وہ اپنی نہ پائی ہوئی چیز کو پرامن طریقہ سے حاصل نہیں کر سکتا تو وہ تشدد کے طریقوں کو استعمال کر کے اُس کو حاصل کرنا چاہے گا۔ وہ اُن تمام لوگوں کو اپنا دشمن سمجھ لے گا جن کو وہ اپنے خیال کے مطابق، اپنی خواہش کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔ وہ اُن لوگوں سے نفرت کرے گا۔ وہ اُن لوگوں کے خلاف لڑنے کے لیے ہتھیار جمع حالانکہ یہ سب نتیجہ ہوگا اس بات کا کہ وہ خدا کے دیے ہوئے پر راضی نہ ہو سکا، وہ قناعت کے بجائے عدم قناعت کا شکار ہو گیا۔
اعتدال کا طریقہ ک ابوعکم تمہارا حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں کو چاہئے کہ تم توسط و اعتدال کا طریقہ اختیار کرو (قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عليكم القصد) مسند احمد
قصد یا توسط و اعتدال کا تعلق کسی ایک معاملے سے انہیں ہے بلکہ اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ مثلاً جب آدمی چلے تو وہ اعتدال کے ساتھ چلے ۔ بولے تو وہ اعتدال کے انداز عبادات میں وہ اعتدال کا طریقہ اختیار کرے۔ انفاق اور اعانت میں بھی وہ معتدل رویہ اختیار کرے، وغیرہ۔ اسی طرح جب کسی سے اختلاف ہو جائے تو اختلاف میں بھی فریقین کو چاہئے کہ اعتدال پر قائم رہیں۔ وہ اختلاف کے وقت اعتدال کی حد سے باہر نہ چلے جائیں۔ مثلاً جب دو آدمیوں میں کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو اولاً ان کو ایسا کرنا چاہئے کہ وہ سنجیدہ گفت و شنید کے ذریعہ اپنے اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ اگر اس طرح اختلاف ختم ہوجائے تو بہت اچھا ہے اور اگر اختلاف ختم نہ ہو تو نہیں اختلاف کے باوجود اتحاد کے اصول پر عمل کرنا چاہئے ۔ ان کو چاہئے کہ وہ ایک دوسرے سے یہ کہہ دیں کہ آؤ ہم اس پر اتفاق کر لیں کہ اس رہا چاہ ہے یہ رہے ہیں کہ ار ہمارے درمیان اختلاف ہے :
قصد و اعتدال متانت اور وقار کی روش کا دوسرا نام ہے۔ یہ کسی آدمی کے سنجیدہ مزاج ہونے کی ایک علامت ہے۔ جو آدمی اپنے قول و فعل میں اعتدال پر قائم ہو وہ اس بات کا ثبوت دیتا ہے کہ وہ جذباتیت سے پاک ہے۔ وہ جب بولتا ہے تو سوچ کر بولتا ہے اور جب کرتا ہے تو سوچ سمجھ کر کرتا ہے، وہ سطحیت پسندی سے پاک ہے۔ اس کا کردار اس کی عقل کے تابع ہے نہ کہ اس کے جذبات کے تابع۔