سب سے بڑی نعمت
Al-Risala, June 2016, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خیر متاع الدنیا، المرأة الصالحة (صحیح مسلم، کتاب الرضاع؛ نسائی، کتاب النکاح) یعنی دنیا کی چیزوں میں سے سب سے اچھی چیز صالح عورت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عورت جو پیدا ہوتی ہے، وہ اپنے فطری امکان (potential) کے اعتبار سے کسی مرد کے لیے سب سے اچھی متاع حیات ہے۔ اس امکان کو واقعہ (actual) بنانا مرد کا کام ہے۔ جس طرح خام لوہا (ore) فطرت کا عطیہ ہوتا ہے، لیکن خام لوہے کو اسٹیل بنانا، انسان کا اپنا کام ہے۔ یہی معاملہ عورت کا بھی ہے۔ مرد کی پہلی ذمے داری یہ ہے کہ وہ عورت کا قدرداں بنے۔ وہ عورت کے اندر چھپے ہوئے جوہر وہ عورت کے حسن باطن کو دریافت کردے۔ عورت کی شکل میں ہر مرد کو ایک اعلیٰ فطری امکان ملتا ہے۔ اب یہ خود مرد کے اوپر ہے کہ وہ اس واقعے کو امکان بنائے، یا وہ اس کو ضائع کرے۔ اس عمل کا آغاز یہاں سے ہوتا ہے کہ جو عورت کسی آدمی کو بیوی کے طور پر ملی ہے، وہ اس کو خدا کی طرف سے بھیجا ہوا عطیہ سمجھے۔ جب وہ اپنی بیوی کو خدا کا براہ راست عطیہ سمجھے گا تو فطری طور پر وہ اس کے بارے میں سنجیدہ ہو جائے گا اور یہ یقین کرے گا کہ خدا کا انتخاب غلط نہیں ہو سکتا۔ انتخاب جس طرح دوسرے تمام عالمی معاملات میں درست ہوتا ہے، اسی طرح یہاں بھی وہ درست مرد کے اندر جب یہ ذہن بنے گا تو اس کے بعد وہ عمل اپنے آپ شروع ہو جائے گا جو عورت کے امکان کو واقعہ بنانے کے لیے ضروری ہے۔ اپنی بیوی کو خدا کا عطیہ سمجھنے کے بعد اس کے ساتھ معاملہ کرنے کو وہ اپنے لیے عبادت سمجھے گا۔ وہ ہر ممکن قیمت ادا کرتے ہوئے یہ کوشش کرے گا کہ اس کی بیوی حقیقی معنوں میں اس کے لیے دنیا کی سب سے اچھی متاع حیات بن جائے۔ ہر آدمی چاہتا ہے کہ اس کو اچھی بیوی ملے۔ لیکن اچھی بیوی کسی کور یڈی میڈ سامان کی طرح شوہر کو یہ کام خود کرنا پڑتا ہے۔ اس عمل کی کامیابی کے لیے مرد کے اندر دو صفات کا ہونا سچی ہمدردی اور صبر و تحمل۔