ضرورت، یا خواہش پرستی
Al-Risala, June 2016, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ مِنَ السَّّرَفِ أن تأکل کلَّ ما اشتهيت (ابن ماجه، کتاب الأطعمة) یعنی یہ اسراف ہے کہ تم ہر وہ چیز کھاؤ جس کے کھانے کو تمھارا دل چاہے۔ یہی بات حضرت عمر فاروق نے ان الفاظ میں کہی: کفیٰ بالمرء سرفاً أن يأكل کلَّ ما اشتهاه (کنز العمال، حدیث نمبر: 35919)۔ یعنی آدمی کے مُسْرِف ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ ہر وہ چیز کھائے جس کے کھانے کو اس کا دل چاہے۔ سرف اور اسراف کے لفظی معنیٰ ـــ فضول خرچی (waste) کے ہیں، یعنی اپنے مال کو ایسی چیز میں خرچ کرنا جو آدمی کے لیے ضروری نہ ہو، وہ اس کی صرف ایک خواہش (desire) ہو، نہ کہ اس کی حقیقی ضرورت (need)۔
ہر آدمی دو چیزوں کے درمیان ہوتا ہے ـــ ضرورت، اور خواہش۔ اپنے مال کو ضرورت کے بقدر خرچ کرنا، بلاشبہہ ایک جائز فعل ہے۔ لیکن خواہش کی تکمیل کے لیے اپنے مال کو خرچ کرنا، ایک ایسا فعل ہے جس کے لیے انسان کو آخرت کی عدالت میں جواب دینا پڑے گا۔
اس معاملے میں مومنانہ طریقہ یہ ہے کہ جب بھی آدمی کے سامنے ایسا کوئی تقاضا پیش آئے جس میں مال کو خرچ کرنا ہو، تو وہ سنجیدگی کے ساتھ سوچے کہ یہ تقاضا اس کی حقیقی ضرورت کے لیے ہے، یا صرف اس کی خواہش کی بنا پر۔ اگر وہ تقاضا اس کی حقیقی ضرورت کی بنا پر ہو، تو وہ اس میں اپنا مال خرچ کرے۔ اگر اس کو محسوس ہو کہ یہ اس کی ضرورت کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ وہ صرف اس کی خواہش کا معاملہ ہے، تو وہ فوراً اُس سے رک جائے اور ایسی کسی مد میں اپنا مال خرچ نہ کرے۔ اس معاملے میں آدمی کو ہر دن اپنا جائزہ لینا اگر ایک دن کے لیے بھی اُس نے اس جائزے میں کوتاہی کی، تو اس کے بعد وہ اسراف کے ڈھلوان (slope) پر جا پڑے گا اور پھر اس پر پھسلتا ہی چلا جائے گا، یہاں تک کہ وہ اس کی آخری حد پر اس کے بعد درمیان میں رکنا، یا واپس لوٹنا، اس کے لیے ممکن نہ ہوگا۔