رول دریافت کیجیے
Al-Risala, January 2016, pp. 4–5
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کی ہر آیت میں انسان کے لیے ایک رہنمائی ہوتی ہے۔ لیکن اس رہنمائی کو جاننے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی قرآن کی آیتوں میں تدبر کرے۔ مثلاً قرآن کی ایک رہنما آیت یہ ہے: وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ (7:175) یعنی اور ان کو اس شخص کا حال سناؤ جس کو ہم نے اپنی آیتیں دی تھیں تو وہ ان سے نکل بھاگا۔ پس شیطان اس کے پیچھے لگ گیا اور وہ گمراہوں میں سے ہو گیا۔ قرآن کی اس آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ خالق نے ہر انسان کو ایک مخصوص کردار (role) کے لیے پیدا کیا ہے۔ انسان اگر اپنے آپ پر غور کر کے اس فطری رول کو دریافت کرے تو اللہ کی نصرت اس کو ملتی ہے۔ فرشتے اس کے اوپر اترنے لگتے ہیں (41:30)، اس پر تمام راہیں کشادہ ہونے لگتی ہیں، وہ ادھر ادھر بھٹکے بغیر صحیح سمت میں سفر کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ وہ اپنے فطری رول کو انجام دینے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس معاملہ اس شخص کا ہوتا ہے جو اپنے فطری رول کو دریافت کرنے میں ناکام ایسے شخص کا ساتھی شیطان بن جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ اس کو ایک بھٹکا ہوا انسان بنا دیتا قرآن کی اس آیت میں بھٹکنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی فطرت کے نقشے کے مطابق صحیح سمت میں سفر نہ کرے، بلکہ بھٹک کر غلط راہوں میں چلا جائے۔ ایسا انسان اس دنیا میں بظاہر کامیاب دکھائی دے سکتا ہے، لیکن فطرت کے نقشے کے مطابق، وہ بلاشبہ ایک ناکام انسان ہوگا۔ آخرت کی دنیا میں وہ اس حال میں پہنچے گا کہ وہ وہاں صرف ایک محروم انسان ہوگا۔
یہی وہ انسان ہے جس کا حال قرآن میں اس طرح بتایا گیا ہے: وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِنْدَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ (24:39)
لیکن حق آدم کو محض قرآن کو سمجھنے کے لیے مفسرین نے مختلف علوم کا ذکر کیا ہے، یہ درست ہے۔ لیکن قرآن کو سمجھنے کا ایک اور ذریعہ ہے، جو بلاشبہ سب سے زیادہ اہم ہے، اور وہ تقویٰ ہے۔ یہ بات قرآن کی اس آیت سے معلوم ہوتی ہے: وَاتَّقُوا اللَّهَ وَيُعَلِّمُكُمُ اللَّهُ (2:282) یعنی اور اللہ سے ڈرو، اللہ تم کو علم دیتا تقویٰ آدمی کو اللہ سے قریب کرتا ہے۔
تقویٰ آدمی کے در یہ مزاج بناتا ہے کہ وہ ہر چیز کے لیے اللہ سے مدد کا طالب بنے۔ مدد کا طالب ہونا، بیک وقت دعا بھی ہے اور عبادت بھی۔ ایسی دعا سے قرآن فہمی میں بھی مدد ملتی ہے، اور اس کے ذریعے عبادت کا ثواب بھی حاصل ہوتا ہے۔
قرآن فہمی کے لیے اللہ سے مدد کی دعا کرنا، بے حد اہم ہے۔ یہ گویا کتاب کو سمجھنے کے لیے خود کتاب کے مصنف سے کنسلٹ (consult) کرنا ہے۔ یہ صرف قرآن کی صفت ہے کہ اس کا مصنف ہر لمحہ اور ہر مقام پر کنسلٹ کرنے کے لیے موجود ہے۔ اللہ کی طرف سے ہدایت بلاشبہ ہر ان انسان کے لیے آکر بیٹھا ہے الفاظ کی صورت میں نہیں آتی بلکہ ایک انسان پیشین انسان کے لیے آئی ہے لیکن یہ ہدایت لفظوں کی صورت میں نہیں (inspiration) کی صورت میں آتی ہے۔
قرآن سے ثابت ہے کہ اللہ آسمانوں کو الہام (41:12) کرتا۔
آئی، بلکہ وہ انسپریشن سے، اللہ شہد کی مکھیوں کو قرآن سے ثابت ہے لہ اللہ آسمانوں کو الہام (41:12) کرتا ہے، اللہ شہد کی مکھیوں کو الہام (16:68) کرتا ہے، اللہ عام انسانوں کو بھی الہام (8:91) کرتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ کوئی عجیب بات نہیں کہ اللہ اس انسان کی مدد کرے جو اس سے قرآن فہمی کے لیے دعا مانگ رہا ہے۔ امام ابن تیمیہ کے بارے میں آتا ہے کہ جب قرآن کی کوئی آیت ان کو مشکل نظر آتی تو وہ اللہ سے یہ دعا کرتے: یا معلم ابراهیم علمنی ( إعلام الموقعین عن رب العالمین، لابن قیم، جلد 4، صفحہ 198) یعنی اے ابراہیم کو تعلیم دینے والے میری تعلیم فرما۔ قرآن میں ابراہیم کو تعلیم دینے کا ذکر معنی سورہ الانبیاء آیت نمبر 51 میں آیا ہے۔