Al-Risala · July 2016

روزہ اور قرآن

Al-Risala, July 2016, p. 4

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن خدا کی کتاب ہے۔ اس کو رمضان کے مہینے میں اتارا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ قرآن کا مہینہ ہے۔ چنانچہ امت میں قدیم زمانے سے یہ رواج ہے کہ رمضان کے مہینے میں قرآن کو بہت زیادہ پڑھا جاتا ہے۔ قرآن کا یہ مطالعہ اگر سمجھ کر کیا جائے تو اس سے غیر معمولی دینی فائدہ حاصل ہوگا۔ رمضان میں قرآن کی زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جاتی ہے۔ رمضان میں رات کے وقت تراویح کی نماز پڑھی جاتی ہے۔ یہ گویا حالتِ قیام میں قرآن کا اجتماعی مطالعہ ہے۔ اس لیے ہے کہ رمضان کے مہینے میں آدمی کچھ دن ایسے گزارے، جب کہ وہ زیادہ سے زیادہ قرآن کے مطالعے میں مشغول رہے۔

ایک شخص روزہ رکھ کر قرآن کی تلاوت کرتا ہے۔ اس دوران وہ اس آیت تک پہنچتا ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ (2:187)۔ اس آیت سے وہ دریافت کرتا ہے کہ رمضان شہر القرآن (قرآن کا مہینہ) ہے۔ پھر وہ قرآن کی تلاوت کے دوران یہ آیت پڑھتا ہے: كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ (38:29)۔ سے وہ یہ معلوم کرتا ہے کہ قرآن اس لئے آیا ہے کہ لوگ اس پر تدبر (غورو فکر) کریں۔ کے بعد وہ یہ طے کرتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں وہ قرآن کا مطالعہ کرے گا اور رمضان کے مہینہ میں کم از کم ایک بار ضرور وہ قرآن کو سمجھ کر پڑھے گا۔

روزہ قرآن کے مطالعے کی تحریک ہے۔ روزہ آدمی کو قرآن سے وابستہ کرتا ہے۔ روزہ آدمی کو اس مقصد کے لیے یکسو کرتا ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ روزہ دار گویا اپنے آپ کو قرآن کے مطالعے کے لیے فارغ کرتا ہے۔ روزہ کے مہینے میں آدمی کے اندر جو نفسیات بنتی ہے، وہ قرآن فہمی کے لیے خصوصی طور پر مفید ہے۔ اس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ روزہ کا مہینہ آدمی کو قرآن سے قریب کرنے کا مہینہ ہے۔ روزے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی تقویٰ کی اسپرٹ کے ساتھ قرآن کا مطالعہ کرے۔

Printed page