Al-Risala · July 2016

نصرت کا قانون

Al-Risala, July 2016, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

سورہ یوسف قرآن کی 12 ویں سورہ ہے۔ پوری سورہ میں حضرت یوسف کا قصہ بیان ہوا سورہ کے خاتمہ پر قرآن میں دو آیتیں آئی ہیں۔ ان کا ترجمہ یہ ہے: یہاں تک کہ جب پیغمبر مایوس ہوگئے اور وہ خیال کرنے لگے کہ ان سے جھوٹ کہا گیا تھا تو ان کو ہماری مدد آپہنچی۔ نجات ملی جس کو ہم نے چاہا اور مجرم لوگوں سے ہمارا عذاب ٹالا نہیں جاسکتا۔ ان کے قصوں میں سمجھ دار لوگوں کے لئے بڑی عبرت ہے۔ یہ کوئی گھڑی ہوئی بات نہیں، بلکہ تصدیق ہے اس چیز کی جو اس سے پہلے موجود ہے اور تفصیل ہے ہر چیز کی ۔ اور ہدایت اور رحمت ہے ایمان والوں کے لئے۔ حضرت یوسف اللہ کے ایک پیغمبر تھے لیکن ان کے ساتھ بہت انوکھے واقعات پیش وہ ایک گاؤں میں پیدا ہوئے۔ ان کے خاندان کی معاش تھی بکریاں پالنا، ان کو چرانا اور ان کے دودھ پر گزارا کرنا۔ پھر ان کے ساتھ یہ معاملہ پیش آیا کہ خود ان کے بھائیوں نے ان کو ایک اندھے کنویں میں ڈال دیا۔ وہ کنویں میں کچھ دن بے یار و مددگار پڑے رہے۔ پھر ایک قافلہ نے ان کو کنویں سے نکالا اور مصر لے جا کر وہاں کے بازار میں ان کو بیچ دیا۔ اس کے بعد وہ غلام بن کر ایک گھر میں رہے۔ وہاں ان پر ایک الزام لگایا گیا۔ پھر وہ جیل میں ڈال دئے گئے جس میں وہ کئی سال تک رہے۔ ان تمام سخت مراحل کے بعد وہ وقت آیا جب کہ ان پر اللہ کی نصرت آئی۔ حضرت یوسف کو کبھی جنگ و قتال کا مرحلہ پیش نہیں آیا۔ ان پر جو سختیاں گزریں وہ سب غیر جنگی حالات میں گزریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ سورہ کے آخر میں نصرت سے پہلے جن سخت حالات کا ذکر ہے ان کا تعلق جنگ و قتال سے نہیں ہے بلکہ عام حالات میں پیش آنے والے واقعات سے ہے۔ یہ واقعات ہر سچے انسان کی زندگی میں مختلف صورتوں میں پیش آتے ہیں۔

ایسا کیوں ہے۔ یہ دراصل اس لئے ہے کہ انسان اللہ کی نصرت کا آخذ (recipient) مذکورہ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر آدمی کا کیس سچائی کا کیس ہے تو اس کو ضرور اللہ کی مدد خواہ وہ مایوسی کی سطح پر پہنچنے کے بعد آئے۔

Printed page